پنجاب کا نیا تعلیمی نظام: آن لائن چھٹیاں، تبادلے اور ریٹائرمنٹ

سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے صوبے کے پرائمری اور ہائر سیکنڈری سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی چھٹیوں، تبادلوں اور ریٹائرمنٹ کو آن لائن کر دیا ہے۔

سرکاری سکولوں کے سسٹم کو آن لائن کرنے کے پہلے مرحلے میں تمام اساتذہ کے ڈیٹا کو سکول انفارمیشن سسٹم(سیس) یاSIS  ایپ پر منتقل کیا گیا، جہاں ہر ٹیچر نے اپنی مکمل پروفائل فیڈ کی (فائل  تصویر: اے ایف پی)

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے تبدیلی کا جو نعرہ لگایا تھا، اس میں سے ایک سرکاری محکموں کو ڈیجیٹائز کرنا بھی تھا، جس کے تحت محکموں کی ساری معلومات و دفتری سہولیات آن لائن مہیا کی جانی ہیں۔صوبہ پنجاب کی بات کریں تو یہاں فی الحال تعلیمی سیکٹر میں یہ تبدیلی واضح نظر آنے لگی ہے۔

سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کے وزیر ڈاکٹر مراد راس سے ویسے تو اساتذہ ناراض نظر آتے ہیں مگر ایک آن لائن سسٹم متعارف کروا کے انہوں نے اساتذہ کی خوشنودی بھی حاصل کی ہے۔ حال ہی میں سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے صوبے کے پرائمری اور ہائر سیکنڈری سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی ریٹائرمنٹ کو بھی آن لائن کر دیا ہے۔

سرکاری اساتذہ آن لائن کون سی سہولیات استعمال کر رہے ہیں؟

ٹیچرز ایسوسی ایشن پنجاب کے جنرل سیکرٹری رانا لیاقت نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں جہاں اس سارے آن لائن سسٹم کو سراہا، وہیں کچھ تحفظات کا بھی اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا: 'سرکاری سکولوں کے سسٹم کو آن لائن کرنے کے پہلے مرحلے میں تمام اساتذہ کے ڈیٹا کو سکول انفارمیشن سسٹم(سیس) یاSIS  ایپ پر منتقل کیا گیا، جہاں ہر ٹیچر نے اپنی مکمل پروفائل فیڈ کی، جس کے بعد محکمہ تعلیم کی کچھ ٹیموں نے اس ریکارڈ کی تصدیق کی۔'

انہوں نے مزید بتایا: 'سسٹم چونکہ نیا تھا، کچھ اساتذہ گیجٹس وغیرہ چلانے سے ناواقف تھے اس لیے ابتدائی طور پر کچھ ڈیٹا غلط بھی بھرا گیا، جسے اب وقت کے ساتھ ساتھ درست کیا جارہا ہے۔'

رانا لیاقت کے مطابق ابتدائی طور پر سکول انفارمیشن سسٹم ایپ کو استعمال کرنے کی تربیت محکمہ تعلیم نے سکول کے ہیڈ ماسٹرز اور آئی ٹی ٹیچرز کو دی، جنہوں نے باقی سکول کے اساتذہ کو پھر اس کا طریقہ کار بتایا۔

انہوں نے مزید بتایا: 'اساتذہ کی ساری معلومات آن لائن آجانے کے بعد دوسرے مرحلے میں ان کے تبادلوں کو بھی آن لائن کرنے کی سہولت فراہم کی گئی۔اس سسٹم کے تحت کوئی بھی استاد مینولی اپنا تبادلہ نہیں کرواسکے گا بلکہ جب بھی حکومت تبادلوں کے لیے اپنی ٹائم لائن کھولے گی، استاد اس کے مطابق آن لائن درخواست جمع کروا دیں گے کہ وہ کہاں تبادلہ کروانا چاہتے ہیں۔ اس ایک سیٹ کے لیے جتنے بھی اساتذہ درخواست دیں گے ان سب کا میرٹ بنے گا اور اس میرٹ کی بنیاد پر تبادلہ کر دیا جائے گا جبکہ اس تبادلے کے آرڈر استاد کے موبائل پر ہی موجود سیس ایپ پر مل جائیں گے۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رانا لیاقت کے مطابق: 'پہلے یہ ہوتا تھا کہ تبادلے کی درخواست جمع کروانے کے لیے بھاگ دوڑ کرنا پڑتی تھی۔ کبھی کوئی کاغذ لگاتے تھے، کبھی دفتروں میں کاغذ گم کر دیے جاتے تھے اور کبھی پیسوں کا لین دین ہوتا تھا،لیکن اب استاد اس سب جھنجھٹ سے آزاد ہوگئے ہیں۔'

اس حوالے سے وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس نے بتایا کہ رواں سال تبادلوں کے لیے تیار کیے جانے والے ای ٹرانسفر سسٹم پر 99 ہزار 526 اساتذہ کے تبادلوں کی درخواستیں موصول ہوئیں اور ان میں سے 55 ہزار 838 اساتذہ کے اس آن لائن سسٹم کے تحت تبادلے ہوئے۔'

رانا لیاقت نے یہ بھی بتایا: 'سیس ایپ پر اساتذہ کو چھٹی کی آن لائن درخواست جمع کروانے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔ پہلے استاد تحریری درخواست اپنے ہیڈ کو دیتے تھے، ہیڈ اسے آگے سی او یا ڈی او کو بھیجتے تھے، یعنی اگر کسی کو آج چھٹی کرنی ہے تو اس کی منظوری کے لیے اسے دو یا تین دن کا وقت درکار ہوتا تھا۔ لیکن اب سیس ایپ پر چھٹی کا بھی پورٹل موجود ہے، جس میں کیژول، سالانہ یا بیماری وغیرہ کے لیے چھٹیوں کے خانے بنے ہوئے ہیں۔ استاد وہیں سے چھٹی کی درخواست جمع کروائیں گے، جو اسی وقت ان کے ہیڈ ماسٹر کے پاس چلی جائے گی اور ہیڈ ماسٹر اپنے ہی ٹیب (جو ان کے پاس موجود ہیں) کے ذریعے چھٹی منظور یا نامنظور کریں گے اور دونوں صورتوں میں نوٹفیکیشن درخواست دینے والے استاد کو مل جائے گا۔ '

رانا لیاقت نے بتایا کہ اگلا مرحلہ اساتذہ کی ریٹائرمنٹ کا تھا۔ ریٹائرمنٹ لینے والے اساتذہ کو بھی بے شمار کاغذوں کا پلندہ اکٹھا کرنا پڑتا تھا اور اپنی فائل لے کر ہیڈ ماسٹر سے لے کر سی او اور ڈی او تک جانا پڑتا تھا۔ اس سارے سفر میں کہیں کاغذ گم ہو جاتے تھے اور کبھی وہی پیسوں کی لین دین، لہذا چھ چھ ماہ اساتذہ کو ریٹائرمنٹ کے پیسے نہیں ملتے تھے یا ان کو نوٹفیکیشن ہی نہیں ملتے تھے۔ اسی لیے محکمے نے سوچا کہ اساتذہ کی ریٹائرمنٹ کو بھی آن لائن کر دیں۔

انہوں نے مزید وضاحت کی: 'ریٹائرمنٹ مختلف اقسام کی ہوتی ہیں۔ ایک جو 60 سال کی عمر پر ہوتی ہے، ایک قبل از وقت رٹائرمنٹ ہوتی ہے جو ایک استاد 26 سال کی نوکری پوری ہونے پر اپنی مرضی سے لے سکتا ہے جبکہ بعض اوقات ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے کسی استاد کو جبری ریٹائر کر دیا جاتا ہے، لہذا اساتذہ اسی سیس ایپ پر اپنے پورٹل پر جائیں گے اور ریٹائرمنٹ کے مطلوبہ خانے پر کلک کر دیں گے، جہاں سے خود بخود آرڈر ان کے متعلقہ افسران کے پاس آجائے گا۔ وہ اسے اوکے کرکے اس کا نوٹیفکیشن ہیڈ ماسٹر اور استاد کو بھیج دیں گے اور اس طرح انہیں دفتر نہیں آنا پڑے گا۔'

کیا پینشن بھی آن لائن ملا کرے گی؟

اس سوال کے جواب میں رانا لیاقت نے بتایا: 'ابھی تک پینشن کا حصول آن لائن نہیں ہوا۔ یہ معاملہ ابھی چل رہا ہے اور امید ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ بھی ہوجائے گا۔ فی الحال پینشن کے لیے اساتذہ کو دفاتر کے چکر لگانے پڑیں گے۔'

 کیا پنجاب کے سرکاری سکولوں کے سب اساتذہ کے پاس سمارٹ فونز ہیں؟

اس حوالے سے رانا لیاقت نے بتایا کہ اس وقت تمام اساتذہ کے پاس سمارٹ فونز موجود ہیں لیکن اس کے علاوہ ہر سرکاری سکول کو ایک ٹیبلٹ بھی دیا گیا ہے جو سکول کے ہیڈ ماسٹر کے پاس موجود ہوتا ہے۔ اس ٹیب پر بھی سیس ایپ موجود ہے۔ جب کسی کا تبادلہ ہوتا ہے تواس کے آرڈر ہیڈ ماسٹر کو اس ٹیب پر موصول ہوجاتے ہیں اور جس سکول اس استاد کا تبادلہ ہوتا ہے، وہاں کے ہیڈ ماسٹر کو بھی آرڈر کی کاپی ٹیب پر ہی موصول ہو جاتی ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے بتایا: 'تاہم بزرگ استاد یا وہ اساتذہ جو گیجٹس وغیرہ چلانا نہیں جانتے، وہ اپنے بچوں یا کسی عزیز سے مدد لے لیتے ہیں ، یا اگر کسی کے پاس سمارٹ فون نہیں بھی ہے تو وہ سکول کے ٹیبلٹ پر لاگ ان کر لیتے ہیں۔'

وزیر تعلیم مراد راس کے خیال میں: 'بڑھاپے میں لوگ اپنی ریٹائرمنٹ کا وقت قریب آتے دیکھ کر سسٹم کی پیچیدگیوں کی بدولت گھبرایا کرتے تھے مگر اب ان کا ریٹائرمنٹ نوٹیفکیشن اس آن لائن سسٹم کی بدولت ان کو بغیر کسی اذیت سے گزرے گھر بیٹھے ملے گا۔'

انہوں نے مزید کہا: 'ہم نے اساتذہ کو پڑھانے کے لیے بھرتی کیا اور انہیں ناقص سسٹم کی بدولت مختلف قسم کی مشکلات میں الجھائے رکھا۔ مکمل نظام آن لائن ہونے سے بدعنوانی کے عنصر کا بڑے پیمانے پر خاتمہ ہو گا۔ ماضی کی حکومتوں کی جانب سے دانستہ طور پر ٹیکنالوجی کے استعمال کو نظرانداز کیا گیا کیونکہ ٹیکنالوجی کا استعمال شفافیت لاتا ہے اور یہ ماضی کی حکومتوں کو قطعاً گوارا نہ تھا۔'

آن لائن سسٹم پر اساتذہ کو کیا تحفظات ہیں؟

اس حوالے سے رانا لیاقت نے بتایا: 'ویسے تو ہم اس سارے آن لائن سسٹم سے خوش ہیں مگر صرف تبادلوں کے سسٹم پر ہمارے کچھ تحفظات ہیں۔ محکمہ کہتا ہے کہ تبادلے میرٹ کی بنیاد پر ہوں گے لیکن اس کے باوجود ایم پی اے اور ایم این ایز کے کہنے پر روزانہ تبادلے کیے جارہے ہیں۔ کوئی بھی ایسا استاد جس کی پہنچ ایم این اے یا ایم پی اے تک ہے وہ اپنی مرضی کے مطابق تبادلہ کروا لیتے ہیں۔ ہم بس یہ چاہتے ہیں کہ تبادلے میرٹ کی بنیاد پر آن لائن ہی کیے جائیں۔

'دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ حکومت کے اس سسٹم سے اساتذہ کی پریشانیوں میں تو خاطر خواہ کمی آئی ہے لیکن ہمارے ڈی اوز اور ڈپٹی ڈی اوزکے معمولات میں بہتری نہیں آسکی کیونکہ ان کے دفاتر ابھی تک آن لائن نہیں ہوئے۔'

کیا دیگر سرکاری ادارے بھی ڈیجیٹائز ہو رہے ہیں؟

بیشتر اداروں میں ڈیجیٹائزیشن کی بازگشت سنائی دے رہی ہے مگر اس پر خاطر خواہ عمل نہیں ہوا۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن لاہور کے صدر ڈاکٹر اشرف نظامی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: 'سرکاری ہسپتالوں کے سارے سسٹم کو آن لائن کرنے کا منصوبہ گذشتہ حکومت میں شروع کیا گیا تھا، جس پر نہ اس وقت عمل ہوا اور نہ موجودہ حکومت نے اس حوالے سے کوئی خاطر خواہ اقدام کیے بلکہ پرانے منصوبے کو بھی بند کردیا۔ کچھ ہسپتال جیسے میو ہسپتال نے اپنی مدد آپ کے تحت کچھ معلومات آن لائن منتقل کی ہیں مگر مکمل طور پر ان کا سسٹم بھی آن لائن نہیں آیا۔'

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس