بھارت:10 سال کمرے میں بند رہنے والے تین بہن بھائی بازیاب

ریاست گجرات میں ایک غیر سرکاری ادارے نے تین بہن بھائیوں کو بازیاب کیا ہے جو دس سال قبل اپنی والدہ کی موت کے بعد سے بنا کھڑکی کے کمرے میں خود بند تھے۔

میگھنا اوربھاوش مہتاجن کے بڑھے ہوئے بال کٹوا دیے گئے ۔

امبریش مہتا اور ان کے چھوٹے بھائی اور بہن نے ایک دہائی سے دن کی روشنی نہیں دیکھی تھی۔ ان بہن بھائیوں نے اپنی والدہ کی موت کے صدمے میں خود کو ایک بغیر کھڑکی کے بند کمرے تک محدود کرلیا تھا، تاہم رواں ہفتے انہیں رضاکاروں نے آ کر یہاں سے بازیاب کرلیا۔

ساتھی سیوا گروپ این جی او کی ایک ٹیم نے جلپا پٹیل کی سربراہی میں اس گھر کا دروازہ توڑ کر ان بہن بھائیوں کو نکالا۔ انہوں نے دی انڈپینڈنٹ سے بات کرتے ہوئے دروازہ توڑنے، امبریش، بھاویش اور ان کی چھوٹی بہن میگھنا مہتا کی شناخت کرنے تک کے عمل کے بارے میں بتایا۔ یہ بہن بھائی جن کی عمر 30 اور 40 سال سے اوپر ہے، نے خود کو 2010 سے قید کر رکھا تھا۔

جلپا پٹیل نے بتایا: ’ہمیں 27 دسمبر کو بتایا گیا کہ تین افراد گذشتہ 10 سالوں سے ایک کمرے میں رہ رہے ہیں۔ جب ہم وہاں پہنچے تو ہمیں معلوم ہوا کہ انہوں نے گھر کے مین گیٹ کو تالا لگا رکھا تھا اور کسی سے ملنے اور باہر آنے سے انکار کر رہے تھے۔‘

تقریباً 25 منٹ تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرنے کے بعد رضاکار آخر کار دروازہ توڑنے میں کامیاب ہوگئے۔ این جی او کی جانب سے دی انڈپینڈنٹ کے ساتھ شیئر کی گئی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سب سے بڑا بھائی فرش پر لیٹا ہوا تھا، جس کے چاروں طرف چیتھڑوں اور کاغذ کے ڈھیر لگے ہوئے تھے جبکہ چھوٹا بھائی کمرے کے کونے میں ایک کرسی پر بیٹھا ہوا تھا. دونوں بھائی مکمل برہنہ تھے اور بہن واحد فرد تھی جو لباس پہنے ہوئے تھی۔

جلپا پٹیل کا کہنا تھا کہ ’کمرہ اس قدر ابتر حالت میں تھا کہ ہم یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ریاست گجرات کے شہر راجکوٹ کے وسط میں واقع ایک پوش علاقے میں کوئی اس طرح رہتا ہو گا۔ کمرے میں بیت الخلا نہیں تھا اور انہوں نے باہر والا استعمال بھی نہیں کیا تھا۔ کمرے میں موجود بدبو سے آپ بتا سکتے تھے کہ انہوں نے رفع حاجت وہیں کی تھی۔‘ 

ساتھی سیوا گروپ کے مطابق ان تین بہن بھائیوں میں سے سب سے بڑے امبریش نے برسوں نہیں تو کئی مہینوں سے اپنی ٹانگیں سیدھی نہیں کی تھیں، جبکہ بھاویش کو جزوی طور پر بھولنے کی بیماری کا سامنا تھا۔

جلپا پٹیل کا مزید کہنا تھا: ’امبریش خود کھانا بھی نہیں کھا سکتا تھا، واش روم جانا تو دور کی بات ہے۔ ان کے بال بہت بڑھے ہوئے تھے۔ ان کی بہن ان دونوں کو کھانا کھلایا کرتی تھی۔ جب ہم کمرے میں داخل ہوئے تو میگھنا چلا رہی تھیں کہ ہم ٹھیک ہیں۔ جبکہ یہ واضح تھا کہ وہ ٹھیک نہیں تھے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مہتا خاندان ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا۔ وہ سب نسبتاً خوشحال اور اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔ ان کے والد ان تمام برسوں میں کمرے کے باہر کھانا چھوڑ رہے تھے۔ 85 سالہ نوین مہتا نے بتایا کہ امبریش اور بھاویش نے بالترتیب معاشیات اور قانون کی ڈگری حاصل کر رکھی تھی جبکہ میگھنا نے نفسیات میں ماسٹرز کیا تھا۔

بھاویش کے 43 سالہ دوست ومل پٹیل نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ دوسرا بھائی ایک کامیاب کرکٹر تھا۔ ’جب ہم بچے تھے، میں ان کے ساتھ کرکٹ کھیلتا تھا اور ہم ساتھ پڑھتے تھے۔ وہ ہمیشہ پرسکون اور سلجھا ہوا بچہ تھا لیکن تقریباً ایک دہائی قبل جب سے ان کی والدہ فوت ہوئیں، انہوں نے باہر جانا چھوڑ دیا اور کسی سے ملنا جلنا بند کردیا۔‘

ومل پٹیل کا کہنا ہے: ’میں ان کی والدہ کے انتقال کے کچھ ہفتوں بعد ان سے ملنے گیا تھا ۔ وہ مجھ سے ملنے نہیں آئے۔ میں نے ان کے چچا سے پوچھا کہ کیا بھاویش اپنی والدہ کی آخری رسومات پر رو رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا ہاں۔ وہ رو رہا تھا اور پھر میں نے اسے اکیلا چھوڑ دیا تھا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’آپ کو معلوم ہے بھاویش مزید تعلیم حاصل کرنا چاہتا تھا اور اپنا کاروبار شروع کرنا چاہتا تھا ۔ اس نے مجھے بتایا تھا کہ وہ ماسٹرز کرنا چاہتا ہے۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اس کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا۔‘

رضاکاروں کا کہنا ہے کہ ان بہن بھائیوں کے والد نے انہیں زندہ رکھا اور انہیں کمرے سے نکلنے پر راضی کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہے۔ آخر کار انہیں اس صورت حال کو تبدیل کرنے کے حوالے سے مایوس ہونا پڑا، جس کا انہیں یقین تھا کہ یہ ان کے قابو سے باہر ہے۔

جلپا پٹیل کہتی ہیں: ’ہم نے ان کے والد سے بات کی جو خود ایک سرکاری دفتر میں ملازمت کرتے تھے۔ انہیں یقین ہے کہ کسی نے ان پر کسی طرح کا کالا جادو کیا ہے۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ ان کی والدہ 1986 سے بیمار تھیں اور انہیں یقین ہے کہ کسی نے ان پر بھی جادو کیا تھا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’وہ انہیں ڈاکٹروں کے پاس لے گئے لیکن کوئی فرق نہیں پڑا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ ان پر کوئی جادو کیا گیا ہے اس لیے انہیں ڈر تھا کہ ان کے بچوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے تو انہوں نے انہیں گھر میں ہی رہنے دیا۔‘

جلپا پٹیل کا کہنا ہے کہ یہ ادھیڑ عمر والد اپنی بہن کا تیار کردہ کھانا یہاں پہنچایا کرتے تھے اور خود دوسرے گھر میں رہتے تھے۔

وہ ایک اخبار کے ساتھ کمرے کے باہر ٹفن چھوڑ دیتے تھے، اگر ان بہن بھائیوں کو بھوک لگتی تھی تو وہ کھانا کھا لیتے، ورنہ کھانا وہیں پڑا رہتا تھا ۔ تاہم وہ اخبار ہمیشہ اٹھا لیا کرتے تھے۔ جلپا پٹیل کا کہنا ہے کہ ’جب ہم کمرے کی صفائی کر رہے تھے تو ہم نے اخباروں کے تقریباً تین ٹرکوں کو صاف کیا جو وہ گذشتہ ایک دہائی سے کمرے میں جمع کر رہے تھے۔‘

بازیابی کے بعد تینوں بہن بھائیوں کے لمبے بالوں کو منڈوایا گیا اور بھائیوں کی داڑھیوں کو منڈوا دیا گیا۔ وہ اب اپنی پھوپھی کے ساتھ رہ رہے ہیں جبکہ این جی او سرکاری تعاون حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

جلپا پٹیل کے مطابق ’ان تینوں کا راجکوٹ کے سرکاری ہسپتال میں معائنہ کیا گیا ہے۔ امبریش جنہوں نے ایک لفظ نہیں بولا، ان کی جسمانی معذوری کا علاج کیا جا رہا ہے جبکہ میگھنا کا ردعمل مثبت رہا ہے اور بھاویش کو ایک بار پھر معاشرے کا حصہ بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور انہیں اپنے بچپن کے دوستوں سے ملوایا جا رہا ہے، کیونکہ انہیں بھولنے کی بیماری لاحق ہو چکی ہے۔ اس لیے ہم یہ سب سست روی سے کر رہے ہیں۔‘

ان کے بچپن کے دوست ومل پٹیل کا کہنا ہے: ’جب انہوں نے مجھے پہلی بار دیکھا تو وہ گھورتے رہے۔ میرا خیال ہے وہ مجھے پہچانتے ہیں لیکن میرا نام نہیں یاد کر پا رہے اس لیے وہ گھورتے رہے۔ ہم نے طویل عرصے بعد ایک ساتھ کرکٹ کھیلی اور یہ بہت اچھا تجربہ تھا۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا