پاکستانی فلم ’کوئی عاشق کسی محبوب سے‘ بھارتی فیسٹیول میں

فیض احمد فیض اور ضیا محی الدین کی زندگی اور کام کے بارے میں بنائی گئی اس دستاویزی فلم کی نمائش رواں ماہ جے پور فلم فیسٹیول میں کی جائے گی۔

 دستاویزی فلم ’کوئی عاشق کسی محبوب سے‘ عمر ریاض نے بنائی ہے (پبلسٹی فوٹو)

پاکستانی ہدایت کار عمر ریاض کی بنائی ہوئی دستاویزی فلم Some Lover to Some Beloved یعنی ’کوئی عاشق کسی محبوب سے‘ کو بھارت کے معتبر  سمجھے جانے والے ’جے پور فلم فیسٹیول‘ میں نمائش کے لیے منتخب کرلیا گیا ہے۔

15  سے 19 جنوری 2021 کے دوران منعقد ہونے والے اس فلم فیسٹیول میں 100 منٹ دورانیے کی یہ دستاویزی فلم 18 جنوری کو دکھائی جائے گی۔ اس دستاویزی فلم کا نام مشہور شاعر فیض احمد فیض کی نظم ’کوئی عاشق کسی محبوبہ سے!‘ کی مناسبت سے رکھا گیا ہے۔

بھارت میں منعقد ہونے والے جے پور فلم فیسٹیول میں دو دیگر مختصر دورانیے کی پاکستانی فلمیں بھی شامل ہیں، تاہم یہ طویل دورانیے کی واحد فلم ہے۔ جے پور فلم فیسٹیول گذشتہ 13 سالوں سے منعقد کیا جارہا ہے، تاہم کرونا (کورونا) کی عالمی وبا کے سبب اس مرتبہ اس کا انعقاد آن لائن کیا جائے گا۔ جے پور فلم فیسٹیول کی ویب سائٹ کے مطابق رواں برس 100 ممالک کی 240 فلموں کی نمائش کی جائے گی، جن کا انتخاب 2400 سے زیادہ فلموں میں سے کیا گیا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان پلوامہ حملے کے بعد سے جاری کشیدگی کی وجہ سے کھیل و ثقافت کے تمام رابطے منقطع ہیں، لیکن ایسے میں جے پور فلم فیسٹیول میں ایک پاکستانی دستاویزی فلم کا منتخب ہونا یقیناً خوش آئند ہے۔

اس ضمن میں تفصیل بتاتے ہوئے فلم کے ہدایت کار عمر ریاض نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اس دستاویزی فلم کی تکمیل میں سات سال سے زیادہ کا عرصہ لگا کیونکہ یہ ایک طویل اور دقت طلب کام تھا جس کا خیال فیض احمد فیضؔ کے صد سالہ یومِ پیدائش کی ایک تقریب کے دوران ضیاء محی الدین کی فیضؔ کی شاعری سے متعلق گفتگو سے آیا۔

عمر ریاض کا کہنا تھا کہ یہ فلم اردو شاعری اور خصوصاً غزل کے بارے میں ایک بہت ہی منفرد انداز سے بنائی گئی ہے اور اگرچہ اس میں مرکزیت تو فیض احمد فیضؔ کی شاعری کو حاصل ہے لیکن دیگر شعرا اور ان کے کلام کا تذکرہ بھی جابجا ملے گا۔

عمر ریاض کا کہنا تھا کہ اس دستاویزی فلم کا مقصد فیض احمد فیضؔ اور ضیاء محی الدین کی کہانی اس خطے کے تناظر میں بتانا ہے کہ فیضؔ صاحب کون تھے؟ ہماری تہذیب کے لیے ان کی کیا اہیت ہے اور خاص کر یہ کہ اکیسویں صدی کے نوجوان اردو شاعری کو پڑھیں کیونکہ یہ کوئی دور دراز کی بات نہیں ہے کہ جسے ہم چھوڑ کر جاسکتے ہیں بلکہ یہ ہماری اپنی رگوں میں بستی ہے۔

اپنی فلم کو جے پور فلم فیسٹیول میں بھیجنے کے بارے میں عمر کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ قدم اس لیے اٹھایا کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے اپنے پڑوسی ملکوں سے تعلقات اچھے ہونے چاہییں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’لڑائی، جھگڑے اور فساد کی جگہ دونوں ممالک کی مشترکہ تاریخ کو سراہنے کی ضرورت ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کی ایک مشترکہ تاریخ کے ساتھ ساتھ گذشتہ 73 برسوں کی اپنی بھی ایک تاریخ ہے، اس دوران نسلیں پروان چڑھی ہیں جنہیں آپس میں بات کرنی چاہیے اور ایک دوسرے سے سیکھنا چاہیے۔

عمر ریاض نے مزید کہا کہ وہ بہت خوش ہیں کہ رواں برس یہ واحد پاکستانی دستاویزی فلم ہے جس کی جےپور میں نمائش کی جائے گی کیونکہ یہ صرف ضیاء محی الدین اور فیض احمد فیضؔ کی کہانی نہیں بلکہ پاکستان کی کہانی ہے۔

عمر کے مطابق ان کی خواہش ہے کہ سرحد کے دونوں جانب رہنے والے ایک دوسرے سے گفتگو کریں اور ایک دوسرے کی بات سمجھیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کرونا کی عالمی وبا کی وجہ سے اس کی پاکستان میں نمائش کے بارے میں کوئی حتمی تاریخ نہیں دی جاسکتی لیکن یہ جلد سے جلد متوقع ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی فلم