سابق فوجی افسر کے پانچ سال سے لاپتہ بیٹے عبداللہ عمر کہاں ہیں؟

عدالت میں پیش پولیس رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں لاپتہ افراد کے 43 کیسز زیر التوا ہیں۔ اس پرعدالت نے کہا کہ ’لاپتہ افراد کمیشن مطلوبہ نتائج نہیں دے سکا پانچ پانچ سال سے کیسز پڑے رہتے ہیں۔‘

عبداللہ عمر (تصاویر: فیملی)

لاپتہ پاکستانی شہری عبداللہ عمر کا مقدمہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں کئی برس سے زیر سماعت ہے۔ پانچ سال گزرنے کے باوجود ابھی تک عبداللہ عمر کی معلومات عدالت کو نہیں دی گئیں۔

منگل کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہونے والی سماعت میں جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ کوئی دہشت گرد بھی ہے تو اس کے خلاف کارروائی کریں اور عدالتوں میں پیش کریں۔

عدالت نے کہا کہ ’عبداللہ عمر کیس میں پولیس فائل دیکھی، آئی جی سے لے کر سب نے نااہلی دکھائی، یہ فیملی کھڑی ہے، ان کو کیا کہوں ادارے ناکام ہو گئے ہیں؟‘

پانچ سال سے لاپتہ عبداللہ عمر کون ہیں؟

عبداللہ عمر 2015 میں لاپتہ ہوئے جس کے بعد ان کے اہل خانہ کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں بازیابی کے لیے درخواست دائر کی گئی۔

دائر درخواست میں آئی جی اسلام آباد، ڈی جی آئی ایس آئی، سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری دفاع کو فریق بنایاگیا تھا۔

عبداللہ عمر بین الاقوامی اسلامک یونیورسٹی میں شریعہ قانون کے طالب علم تھے۔ ان کے والد ریٹائرڈ کرنل خالد عباسی خود اب وکالت کے پیشے سے وابستہ ہیں اور عبداللہ کے کیس کی خود بھی پیروی کرتےہیں۔

اہل خانہ کی جانب سے تین مئی 2013 کو دائر ایف آئی آر میں موقف اختیار کیا گیا کہ اسی روز  نامعلوم افراد کی فائرنگ سے عبداللہ عمر زخمی ہوئے تھے۔ 

اسی دوران ایک اور ایف آئی آر کا اندراج ہوا جو بینظیرقتل کیس میں ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر جنرل چوہدری ذوالفقار کے اہل خانہ نے درج کرائی۔

وفاقی وزیر شہباز بھٹی کو 2 مارچ 2011 کو مسلح افراد نے اسلام آباد میں فائرنگ کر کے قتل کردیا تھا۔

چوہدری ذوالفقار کے قتل میں عبداللہ عمر کو ملزم نامزد کیا گیا۔ 

عبداللہ عمر پر قتل اور دہشت گردی کی دفعات لگائی گئیں جب کہ 2011 میں وفاقی وزیر شہباز بھٹی قتل کیس میں بھی وہ دہشت گردی کی دفعات کےساتھ نامزد ملزم تھے۔

چوہدری ذوالفقار ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر جنرل تھے جو حکومت کی طرف سے  بینظیر قتل کیس کی پیروی کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ وہ ممبئی حملہ سازش کیس اور راولپنڈی میں فوجی ہیڈ کوارٹرز حملہ کیس میں سرکاری وکلا کی ٹیم میں شامل تھے۔

قتل سے قبل حساس مقدمات کی پیروی کرنے پر انہیں نامعلوم مقام سے قتل کی دھمکیاں بھی موصول ہوئی تھیں جس کا ذکر انہوں نے آن ریکارڈ کیا جس کے بعد انہیں حکومت کی طرف سے گارڈ مہیا کیا گیا تھا۔

نامزد مقدمے کے مطابق ’عبداللہ عمر کو تین مئی کے روز جو گولیاں لگیں وہ چوہدری ذوالفقار پر حملے کے وقت ان کے گارڈ کی جانب سے حملہ آوروں پر جوابی فائر تھے نیز وہ حملہ آوروں میں سے تھے اور ساتھیوں کے ہمراہ موقع سے فرار ہو گئے۔ بعد ازاں قائداعظم انٹرنیشنل ہسپتال سے انہوں نے علاج کرایا اور پولیس کو بیان دیا کہ ان کو چند نامعلوم افراد نے ڈکیتی کا نشانہ بنایا۔‘

عدالتی دستاویزات کے مطابق پولیس نے جب شواہد اکٹھے کیے تو چوہدری ذوالفقار قتل کیس اور یہ عبداللہ عمر فائرنگ معاملہ ایک بیک وقت رونما ہونے والے واقعات نکلے۔

عبداللہ عمر کو پولیس نے حراست میں لیا لیکن زخمی ہونے کے باعث میڈیکل بنیادوں پر انہوں نےانسداد دہشت گردی کی عدالت سے 17 جون 2014 کو ضمانت کروا لی۔

عبداللہ عمر کے والد کرنل ریٹائرڈ خالد عباسی نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کے بیٹے پر درج دونوں مقدمے جعلی ہیں اور وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحویل میں ہے۔ اور اس معاملے پر بننے والی جے آئی ٹی میں بھی یہ ثابت ہو چکا ہے کہ وہ خود روپوش نہیں ہوا بلکہ انہیں زبردستی نامعلوم مقام پر حراست میں رکھا ہوا ہے۔‘

اہلیہ زینب زعیم کی درخواست کے مطابق ’بیس جون 2015 کو عبداللہ عمر اپنے کزنز کے ہمراہ تراویح پڑھنے مسجد گئے لیکن وہاں سے انہیں مسلح افراد نے پولیس کی موجودگی میں اغوا کر لیا۔ تاہم ان کے کزنز کو کچھ عرصے بعد رہا کر دیا گیا لیکن عبداللہ عمر تاحال قانون نافذ کرنے والے ادارے کی تحویل میں ہیں۔‘

 دوسری جانب وزارت دفاع اور وزارت داخلہ کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل کا عدالت میں یہ موقف رہا کہ چونکہ عبداللہ عمر کالعدم تنظیموں کے ساتھ مبینہ طور پر منسلک ہیں اور دہشت گردی اور قتل کے مقدمات میں مطلوب ہیں اس لیے عدالتی نتائج سے بچنے کے لیے عبداللہ خود روپوش ہوئے ہیں تاکہ مقدمات سے بچ سکیں۔

جب کہ عدالت میں پیش ہونے والی رپورٹ میں لکھا ہوا ہے کہ پولیس کی موجودگی میں عبداللہ عمر کو اٹھایاگیا۔ اس پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ ’یہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی واضع مثال ہے۔‘

گمشدگی سے متعلق سماعت کا احوال

سابق سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری دفاع اور سابق آئی جی اسلام آباد منگل کو عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

سابق سیکرٹری داخلہ عارف خان نے عدالت کو بتایا کہ 2016 اور 2017 میں وہ سیکرٹری داخلہ تھے لیکن انہیں اس معاملے کا کچھ معلوم نہیں اس پر عدالت نے کمرہ عدالت میں موجود جوائنٹ سیکرٹری سےاستفسار کیا کہ کیا آپ سیکرٹری داخلہ کو بتاتے نہیں کہ لاپتہ افراد سے متعلقہ معاملہ کیا ہوتا ہے؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ’پولیس یا اینٹلی جنس ایجنسیز کام نہیں کرتیں تو کیا ہو گا؟ اگر کوئی دہشت گرد بھی ہے تو اس کے خلاف کارروائی کریں، اسےعدالتوں میں پیش کریں۔ ‘

انہوں نے کہا کہ ’اس کیس کی تو ہسٹری ہے کیا ہم نے جواب نہیں دینا؟ یہ نظام کیسا چلے گا؟ اگر یہ چلتا رہاتو ایک دن لوگ عدالتوں سمیت سارے نظام کو آگ لگا دیں گے۔ اگر ادارے قانون سے ماورا کام کریں گے تو لوگ بھی ہتھیار اٹھا لیں گے۔‘

جسٹس محسن اختر کیانی نے مزید کہا کہ ’عدالتوں سمیت سارےادارے جواب دہ ہیں کوئی کام نہیں کرتا تو وہ اس عہدے کا اہل نہیں ہے۔‘

عدالت نے مزید کہا کہ ’کیا سیکرٹری دفاع اور سیکرٹری داخلہ صرف عہدے انجوائے کرنے کے لیے ہوتے ہیں، پاکستان کی خدمت قانون کے مطابق ہی ہونی ہے اس سے باہر کچھ نہیں ہے۔‘

دوران سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ ’عدالتوں کو تو بڑا برا بھلا کہا جاتا ہے ہم توکام نہ کرنے والے ججز کے خلاف بھی کارروائی کرتے ہیں۔ کوئی دفاع ہو، داخلہ ہو، آئی جی ہو یا جج، کام نہیں کرسکتا تو استعفی دے کر گھر جائے۔‘

عدالت نے کہا کہ ’جبری گمشدگی کمیشن بھی ایک مذاق ہے، کمیشن بھی ایجنسیز سے مل کر کام کرتا ہے۔ چھوٹا سا اسلام آباد ہے ہر مہینے چار پانچ لوگ لاپتہ ہو جاتے ہیں ان سے یہ بھی حل نہیں ہو رہا۔ ‘

عدالت میں پیش پولیس رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں لاپتہ افراد کے 43 کیسز زیر التوا ہیں۔ اس پرعدالت نے کہا کہ ’لاپتہ افراد کمیشن مطلوبہ نتائج نہیں دے سکا پانچ پانچ سال سے کیسز پڑے رہتے ہیں۔‘

عدالت نے سابق سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ضمیر حسین، سابق سیکرٹری داخلہ عارف خان اورسابق آئی جی اسلام آباد جان محمد کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا اور سیکریٹری داخلہ و دفاع سے جواب طلب کرتے ہوئے تین فروری تک سماعت ملتوی کر دی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان