قبائلی اضلاع کے عوام سے حکومتی وعدے، زمینی حقائق کیا ہیں؟

انڈپینڈنٹ اردو نے آج وزیرستان میں عمران خان کی تقریر کے اہم نکات کو پرکھنے کی کوشش کرتے ہوئے ان کا موازنہ زمینی حقائق سے کیا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ان کی حکومت نوجوانوں کے لیے سکالرشپس کو مزید بڑھائے گی (تصویر: ٹوئٹر)

وزیر اعظم عمران خان نے بدھ کو جنوبی وزیرستان کے لوگوں کے ’دیرینہ مطالبات‘ میں سے ایک تھری اور فور جی انٹرنیٹ سروس کھولے جانے کا اعلان کیا ہے۔

عمران خان نے آج جنوبی وزیرستان کے ایک روزہ دورے کے موقعے پر قبائلی اضلاع کے لوگوں کے مطالبات پر بات کرتے ہوئے کہا: ’میں نے خیبر پختونخوا حکومت سے کہا ہے کہ ان کے جائز مطالبات پر کام کیا جائے۔‘

وزیراعظم نے اور بھی بہت سے اعلانات اور وعدے کیے، لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ قبائلی اضلاع کے لوگ موجودہ حکومت سے کتنا خوش ہیں؟ کیا وزیر اعظم عمران اور وفاقی و صوبائی حکومتوں نے اپنے وعدے پورے کیے ہیں؟

دوسری جانب انڈپینڈنٹ اردو نے عمران خان کی آج کی تقریر کے چیدہ چیدہ نکات کو بھی پرکھنے کی کوشش کی اور ان کا موازنہ زمینی حقائق سے کیا ہے۔

'قبائلی اضلاع کو دوبارہ اٹھانے کی کوشش کریں گے'

قبائلی اضلاع کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد وفاقی و صوبائی حکومتوں نے بارہا ترقیاتی کاموں کے وعدے کیے ہیں۔ آج بھی عمران خان نے وزیرستان میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی سے سب سے زیادہ وزیرستان متاثر ہوا، اس لیے حکومت کوشش کر رہی ہے کہ یہاں پر ترقیاتی کام کریں اور علاقے کو دوبارہ اٹھانے کی کوشش کریں۔ تاہم اگر قبائلی اضلاع کے ترقیاتی بجٹ پر بات کی جائے تو صوبائی حکومت نے رواں مالی سال قبائلی اضلاع میں ترقیاتی بجٹ کے لیے 95 ارب روپے سے زائد مختص کیے۔

جون میں بجٹ پیش ہونے کے بعد ان سات مہینوں میں 95 ارب روپوں میں سے 41 ارب روپے جاری کیے گئے، جس میں سے 18 جنوری تک 12 ارب  روپے سے زائد یعنیٰ 30 فیصد تک خرچ کیے جا چکے ہیں۔

صوبائی محکمہ خزانہ کے اعداد وشمار کے مطابق قبائلی اضلاع میں اعلٰیٰ تعلیم کی مد میں رواں سال کے بجٹ میں تقریباً 55 منصوبوں کے لیے دو ارب 45 کروڑ سے زائد روپے مختص ہوئے، جس میں سے صرف 14 کروڑ سے زائد روپے خرچ ہوئے۔ ان 55 منصوبوں میں سے صرف 15 پر کام کا آغاز ہوا جبکہ باقی منصوبوں پر اب تک ایک روپیہ بھی خرچ نہیں ہوا۔

ان منصوبوں میں سے ایک بڑا منصوبہ جنوبی وزیرستان میں یونیورسٹی کا قیام ہے جس کے لیے بجٹ میں نہ روپے مختص کیے گئے اور نہ ہی اس پر کسی قسم کا کام شروع ہوا۔

صحت کا شعبہ

رواں مالی سال کے بجٹ میں قبائلی اضلاع میں صحت کے لیے 10 ارب روپے سے زائد روپے مختص کیے گئے ہیں، جس میں سات مہینے تک پانچ ارب روپے سے زائد جاری ہوئے، تاہم اب تک جاری ہونے والے بجٹ کا 20 فیصد استعمال کیا جا چکا ہے۔

جس علاقے میں عمران خان خطاب کر رہے تھے، وہاں کے لیے بجٹ میں کمیونٹی ہیلتھ  سینٹرز کے 19 منصوبوں کا اعلان کیا گیا تھا لیکن ابھی تک ایک پر بھی کام شروع نہیں ہوا۔

بحالی کے شعبے میں صرف دو لاکھ روپے خرچ

آج عمران خان نے اپنی تقریر میں فوجی آپریشنز کے دوران متاثر ہونے والے قبائلی اضلاع کی بحالی کی بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ نوجوانوں کو پہلے بھی مختلف وظائف دے چکے ہیں اور اب بھی حکومت کا ارادہ ہے کہ ان سکالرشپس کو مزید بڑھایا جائے۔ خواتین کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ان کو مویشی دے کر اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی کوشش کریں گے۔

تاہم اگر بجٹ کے اعداد و شمار پر نظر دوڑائیں تو قبائلی اضلاع کی بحالی کے شعبے میں رواں سال کے بجٹ میں دو ارب 42 کروڑ روپے مختص تھے، لیکن جون 2020 سے لے کر اب تک صرف 62 کروڑ روپے سے زائد ریلیز ہوئے، جس میں سے صرف ایک لاکھ 87 ہزار روپے خرچ ہوئے۔

بحالی کے شعبے میں محکمہ خزانہ کی دستاویزات کے مطابق قبائلی اضلاع کے لیے 12 بڑے منصوبوں کا اعلان کیا گیا، جس میں قبائلی اضلاع میں ریسکیو سروسز کا آغاز بھی شامل تھا لیکن اب تک ان 12 میں سے صرف ایک منصوبے پر کام کا آغاز ہوا جبکہ باقی کے لیے نہ پیسے ریلیز ہوئے اور نہ کام شروع ہوا۔

'سڑکیں بھی بنائیں گے'

وزیر اعظم عمران خان کے دورے کے موقعے پر عمائدین نے سڑکوں کی بحالی کی بات بھی کی، جس پر عمران خان نے اپنے خطاب میں بتایا کہ انہوں نے آج بھی ایک سڑک کا افتتاح کیا اور سڑکوں کے حوالے سے باقی مطالبات بھی جائز ہیں، جن پر کام ہو گا، تاہم محکمہ خزانہ کے اعدادو شمار کے مطابق قبائلی اضلاع میں مالی سال 21-2020 کے بجٹ میں 15 ارب 86 کروڑ روپے سے زائد رقم مختص ہوئی تاہم اس میں سے سات ارب روپے تک ریلیز ہوئے۔

سڑکوں کے شعبے میں اگر منصوبوں کی بات کی جائے تو علاقے  میں مختلف سڑکوں کی تعمیر اور دوبارہ بحالی کے تقریباً 402 منصوبوں کا اعلان کیا گیا تاہم ان میں سے اب تک صرف 101 منصوبوں پر کام شروع ہوا جبکہ باقی میں زیادہ تر کے لیے ابھی تک روپے بھی مختص نہیں ہوئے۔

اگر سوشل ویلفیئر سیکٹر کی بات کی جائے تو بجٹ میں اس سیکٹر کے لیے 48 کروڑ روپے سے زائد رقم مختص ہوئی لیکن آدھا مالی سال گزرنے کے باوجود ابھی تک اس میں سے صرف ایک کروڑ سے زائد روپے خرچ کیے گئے۔ عمران خان کی آمد پر رہائشوں نے پانی کا مسئلہ بھی اٹھایا جس پر عمران خان نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ محمود خان پانی کی چھوٹی سکیمیں شروع کر کے ان لوگوں کا مسئلہ حل کریں گے۔

اسی سیکٹر میں رواں مالی سال کے بجٹ میں تین ارب 33 کروڑ روپے مختص ہوئے جس میں سے اب تک ایک ارب 90 کروڑ روپے  سے زائد ریلیز کیے جا چکے ہیں جبکہ ریلیز کی گئی رقم میں سے 93 کروڑ روپے سے زائد خرچ ہوئے۔ اس سیکٹر میں 462 پانی کی مخلتف سکیموں کا اعلان کیا گیا تھا جس میں 170 تک سکیموں پر کام جاری ہے جبکہ باقی پر ابھی کام کا آغاز نہیں ہوا۔

قبائلی اضلاع کے لوگ کتنے خوش ہیں؟

شمالی وزیرستان کے رہائشی اور مشیران میں شامل گل صالح جان سے جب پوچھا گیا کہ انضمام کے بعد ان کے علاقے میں کوئی ترقیاتی کام ہوا؟ تو انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ترقیاتی کام تو بعد کی باتیں ہیں، ہمیں پہلے امن چاہیے کیونکہ یہاں پر ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کے بعد حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ شام کے بعد گھر سے باہر نکلنا مشکل ہے۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ترقیاتی کاموں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ترقیاتی بجٹ کا جو حصہ ریلیز ہوا، اس میں سیاسی بنیادوں پر ترقیاتی منصوبے جاری ہیں اور عوام سے کچھ نہیں پوچھا جاتا۔ ’ہم تو وہی پرانا وزیرستان چاہتے ہیں کیونکہ آئے دن ٹارگٹ کلنگ سے لوگ اتنے تنگ آچکے ہیں کہ باہر بھی نہیں نکل سکتے، ترقیاتی کاموں سے لوگ تب ہی خوش ہوں گے جب امن ہو گا۔‘

فاٹا ریسرچ سینٹر قبائلی اضلاع پر کرنے والا پاکستانی ادارہ ہے۔ قبائلی اضلاع میں امن عامہ کے حوالے سے جاری ان کی رپورٹ کے مطابق  2019 کے مقابلے میں چار اضلاع میں دہشت گردی کے واقعات میں 29 فیصد اضافہ ہوا جس میں عوام اور سکیورٹی فورسز پر حملے اور سرچ آپریشنز کے واقعات شامل ہیں۔

رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق 2019 میں 160 واقعات کے مقابلے میں 2020 میں 169 واقعات سامنے آئے، تاہم اس میں سے 54 واقعات انسداد دہشت گردی کے تھے۔ چار قبائلی علاقے جہاں دہشت گردی بڑھی ان میں باجوڑ، خیبر، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان شامل ہیں۔

گل صالح نے بتایا کہ حکومت کو امن سمیت ترقیاتی کاموں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ قبائلی اضلاع میں ترقیاتی کاموں کو عملی جامہ پہنانے میں سیاسی عمل دخل کا بہت رجحان ہے اور زیادہ تر سیاسی بنیادوں پر فنڈز ریلیز کیے جاتے ہیں۔

قبائلی ضلع شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے صحافی رسول داوڑ نے بتایا کہ قبائلی اضلاع ضم تو ہو گئے لیکن یہاں کے عوام سے کیے گئے وعدے ابھی تک وفا نہیں ہوئے۔

داوڑ نے بتایا: ’چند سال پہلے ایک میڈیکل کالج کا اعلان کیا گیا تھا لیکن ابھی تک اس منصوبے کو عملی جامہ نہیں پہنایا گیا۔ غلام خان بارڈرجو افغانستان اور وزیرستان کے مابین ایک تجارتی راہ داری ہے، اس پر بھی مقامی کاروباری طبقے کو کوئی ریلیف نہیں ملا کیونکہ حکومت نے انڈسٹریل سٹیٹ بنانے کا اعلان کیا تھا  لیکن ابھی تک اس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔'

شمالی وزیرستان میں پی ٹی ایم کی ریلی

ادھر شمالی وزیرستان میں پشتون تحفظ موومنٹ نے گذشتہ ہفتے نامعلوم افراد کی جانب سے وزیرستان کے ڈاکٹر ولی اللہ کی قتل کے خلاف مظاہرہ اور ریلی نکالی۔

ریلی کی قیادت رکن قومی اسمبلی اور پی ٹی ایم کے رہنما محسن داوڑ نے کی۔ ریلی سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ آئے روز ٹارگٹ کلنگ میں بے گناہ افراد کو قتل کیا جا رہا ہے لیکن حکومت ایسے واقعات کو روکنے میں ناکام ہے۔

ریلی میں مظاہرین نے پی ٹی ایم کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی علی وزیر سمیت دیگر کارکنان کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان