میجر لاریب قتل کیس: دونوں مجرمان کو پھانسی کی سزا کا مطالبہ

گذشتہ ماہ 15 دسمبر کو اسلام آباد کی سیشن عدالت نے میجر لاریب حسن کے قتل کا الزام ثابت ہونے پر ملزم بیت اللہ کو سزائے موت اور دوسرے ملزم گل صدیق کو عمر قید کی سزا سنائی تھی، جس پر مقتول کے اہل خانہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا۔

میجر لاریب حسن کا تعلق پاکستان ملٹری اکیڈمی کے 122 لانگ کورس سے تھا۔(تصویر: قریبی دوست)

2019 میں وفاقی دارالحکومت میں قتل ہونے والے ایس ایس جی کمانڈو میجر لاریب حسن کے اہل خانہ نے واقعے میں ملوث دونوں مجرمان کو پھانسی کی سزا دینے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

دوسری جانب مجرمان نے بھی سیشن کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے، جس پر عدالت عالیہ نے کیس کے فیصلے سے متعلق مجرمان اور مقتول کے اہل خانہ کی درخواستیں یکجا کردی ہیں۔

واضح رہے کہ گذشتہ ماہ 15 دسمبر کو اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج محمد علی وڑائچ نے میجر لاریب حسن کے قتل کا الزام ثابت ہونے پر ملزم بیت اللہ کو سزائے موت اور دوسرے ملزم گل صدیق کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

اس کے علاوہ بیت اللہ اور گل صدیق کو پانچ پانچ لاکھ روپے میجر لاریب کے اہل خانہ کو ادا کرنے جبکہ پانچ پانچ لاکھ جرمانے کی مد میں جمع کروانے کا حکم بھی دیا گیا تھا۔ اس طرح کل ملا کر دونوں مجرموں پر دس، دس لاکھ کا جرمانہ عائد ہوا۔ مجرمان کے قبضے سے میجر لاریب کا شناختی کارڈ اور والٹ بھی حاصل کیا گیا جس سے ڈکیٹی کی واردات میں ان کا ملوث ہونا ثابت ہوا۔

میجر لاریب کے بھائی کی جانب سے دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ  قتل میں ملوث دوسرے مجرم گُل صدیق کو بھی عمر قید کے بجائے پھانسی کی سزا دی جائے۔

دوسری جانب مجرمان بیت اللہ اور گل صدیق نے سزا ختم کرنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ان کو فیئر ٹرائل کا حق نہیں دیا گیا اور نہ ہی تحقیقات میں انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا گیا، لہذا سیشن کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔

مجرمان نے درخواست میں مزید موقف اختیار کیا کہ مقتول میجر لاریب کے بھائی کی جانب سے درج ایف آئی آر میں انہیں نامزد نہیں کیا گیا بلکہ پولیس نے تحقیق کر کے انہیں مقدمے میں شامل کیا اور قتل کی دفعات عائد کیں۔

بدھ کے روز میجر لاریب کے قتل میں ملوث دونوں مجرمان کی اپنی سزا کے خلاف درخواست پر سماعت جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق جہانگیری پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی، جبکہ میجر لاریب کے اہل خانہ کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ کی عدالت میں ہوئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

میجر لاریب کے اہل خانہ کے وکیل معظم حبیب نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ چونکہ تینوں درخواستوں میں ان ہی وکلا نے پیش ہونا تھا، لہذا عدالت نے تینوں درخواستوں کو یکجا کر دیا ہے۔

آج عدالت میں مجرمان کی جانب سے وکیل مختار تارڑ پیش ہوئے اور انہوں نے عدالت کو بتایا کہ میجر لاریب کے اہل خانہ نے بھی ایک درخواست دائر کر رکھی ہے جس میں انہوں نےمجرم گل صدیق کو دی جانے والی سزا بڑھانے کی استدعا کی ہے۔ انہوں نے خود بھی کیس کی تیاری کرنےکے لیے عدالت سے وقت طلب کیا۔

عدالت نے سیشن کورٹ سے کیس کا مکمل ریکارڈ اور پولیس کی تحقیقاتی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت چار ہفتے تک ملتوی کر دی۔ علاوہ ازیں دوسری عدالتوں سے بھی دائر درخواستوں کا ریکارڈ منگوا لیا گیا تاکہ دونوں فریقین کی سماعت ایک ہی مقدمے میں کی جا سکے۔

میجر لاریب کے اہل خانہ کے وکیل معظم حبیب نے مزید بتایا کہ قتل میں ملوث دونوں مجرموں کا تعلق افغانستان سے ہے لیکن چونکہ ان کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ موجود ہے، جس پر دیر کا پتہ درج ہے اس لیے ان کے خلاف مقدمے کا اندراج یہاں ہوا۔

میجر لاریب حسن کون تھے اور واقعہ کیسے پیش آیا؟

میجر لاریب حسن کا تعلق پاکستان ملٹری اکیڈمی کے 122 لانگ کورس سے تھا۔ کراچی سے تعلق رکھنے والےمیجر لاریب اس سے قبل وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کر کے آئے تھے۔ اُن کےکورس میٹ اُن کو جنگ کا غازی پکارتے ہیں۔ میجر لاریب کی پوسٹنگ اٹک شہر میں تھی۔

پولیس دستاویزات کے مطابق 21 نومبر 2019 کو اسلام آباد کے سیکٹر جی نائن میں راہزانوں کے ہاتھوں ڈکیٹی کی واردات کے دوران میجر لاریب قتل ہوئے تھے، جو اٹک سے کسی کام کے سلسلے میں اسلام آباد آئے تھے۔

جب وہ جی نائن پارک میں اپنی خاتون دوست کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے تو مجرم بیت اللہ اور گل صدیق، جن کی موٹر سائیکل قریب ہی خراب ہوئی اور انہوں نے اس دوران ڈکیٹی کرنے کاسوچا، انہوں نے پارک میں موجود میجر لاریب پر پستول تان لیا اور والٹ اور فون حوالے کرنے کا کہا لیکن مزاحمت پر سر پر فائر کر دیا، جس سے میجر لاریب موقع پر ہی دم توڑ گئے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان