بائیڈن، جی آیاں نوں!

صدر بائیڈن کی ٹیم کے جن کھلاڑیوں کے نام اب تک سامنے آئے ہیں ان کی اکثریت ’اوباما مکتبہ فکر‘ کی نمائندگی کرتی ہے۔

کارٹون: امجد راسمی (الشرق الاوسط)

یہ تحریر آپ مصنف کی آواز میں یہاں سن بھی سکتے ہیں

 


انگلستان کے بادشاہ ہنری سوئم کے انتقال کے وقت ان کا بیٹا ایڈورڈ محاذ جنگ پر داد شجاعت دے رہا تھا، تاہم شاہی کونسل نے ایڈورڈ کو فوری طور پر بادشاہ مقرر کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا: ’تخت خالی نہیں رہ سکتا اور ملک کو بغیر بادشاہ نہیں چھوڑا جا سکتا۔‘ اسی طرح فرانس میں شارل ششم کے انتقال کے فورا بعد ان کے بیٹے کو بادشاہ بنانے کا اعلان کیا گیا۔

پولیٹیکل سائنس کا مشہور تاریخی مقولہ ہے: ’بادشاہ مر گیا۔۔۔ بادشاہ زندہ باد۔‘ کل تک جس بادشاہ کے گن گائے جا رہے ہوتے تھے، اس کے مرتے [یا سبکدوش ہوتے] ہی اگلے بادشاہ کے حق میں نعرے لگنے لگتے ہیں، کیوں کہ یہ دنیا ہی طاقت کی ہے اور طاقت جس کے پاس ہے، ہر کوئی اس کے گن گاتا ہے۔ ’بادشاہ‘ کا اقبال ہمیشہ بلند رکھنا مروجہ سیاسی جمہوری نظام کی بنیادی ضرورت ہے۔

جو بائیڈن اب امریکی ’سلطنت‘ کے سربراہ ہیں۔ کسی بھی ملک کی اپنے سربراہ سے محرومی اور اس کے پیش رو پر اختلاف سب سے بڑا خطرا ہوتا ہے۔امریکہ کے صدارتی انتظام میں خلا، شک وشبہہ اور افراتفری کی اجازت ہر گز نہیں ہوتی۔ مدت صدارت ختم ہونے والے صدر کے بعد نیا منتخب صدر امریکی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے سامنے 35 الفاظ پر مشتمل حلف اٹھاتا ہے۔

شکوک وشبہات اور کنفیوژن کے باوجود امریکہ کے مروجہ سیاسی ڈھانچے کو دیکھتے ہوئے جو بائیڈن کا بالآخر اقتدار سبنھالنا یقینی امر تھا۔ کانگریس جیسا اعلیٰ قانون ساز ادارہ اور سبکدوش صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی عذر داریوں کو ردی کی ٹوکری کی نذر کرنے والی عدالت عظمیٰ سمیت تمام قانونی پہلو اس کی تائید کر رہے تھے۔

ٹرمپ کامریڈوں، وزرا اور پارٹی رہنماؤں کو اپنے ’فساد فی الارض‘ کے نظریہ کے حق میں قائل کرنے میں ناکام رہے۔ بطور احتجاج مستعفی ہونے والے ٹرمپ کے وزیر قانون کا یہ بیان امریکی سیاسی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا کہ ’انتخابی فراڈ سے متعلق آپ جو کہتے ہیں وہ سب فضول ہے! کیا آپ کے گرد سارے مسخرے جمع ہیں؟‘

سب ہی نے انتخابی دھاندلی اور چوری سے متعلق ٹرمپ کی گھڑی جانے والی رام کہانی کو درست ماننے سے انکار کر دیا۔ ٹرمپ کی ایوان اقتدار سے سبکدوشی کے بعد اس کے اثرات تادیر اندرون اور بیرون ملک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔ نئی امریکی انتظامیہ کے ذرائع اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ چین کے ساتھ محاذ آرائی امریکہ کے لیے اہم معاملہ ہے اور  یہ محاذ آرائی بائیڈن دور میں بھی جاری رہے گی۔

نئے صدر اور ان کی مشرق وسطیٰ  سے متعلق ٹیم کے انتخاب کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟ اس سے متعلق یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ تاہم بائیڈن کو اگر سابق صدر اوباما کی پالیسی کے تناظر میں دیکھا جائے تو سیاسی منظر نامے پر اندیشہ ہائے دور دراز کے سائے لمبے ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔

اب تک صدر بائیڈن نے اپنی مستقبل کی ٹیم کے جن کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کیا ہے ان کی اکثریت ’اوباما سکول آف تھاٹ‘ کی نمائندگی کرتی ہے، تاہم نئے صدر کی ٹیم میں ان ناموں کی موجودگی سے یہ مطلب اخذ کرنا بھی فی الوقت درست نہیں کہ تمام لوگ اوباما پالیسی کا چربہ ہی بائیڈن حکومت کے سامنے رکھ کر اپنی نوکری پکی کرنے کی کوشش کریں گے۔

باراک اوباما اپنے دور صدارت میں تشکیل پانے والی پالیسیاں مارکیٹ کرنے میں بری طرح ناکام رہے۔ مشرق وسطیٰ کی سیاست پر نظر رکھنے والے حلقے سمجھتے ہیں کہ ان کی ایران، خلیجی ریاستوں اور اسرائیل کے حوالے سے پالیسی خاص طور پر محل نظر رہی۔

اوباما کے بعد امریکی منصب صدارت پر براجمان ہونے والے ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار میں آنے پر ایرانی ہتھیاروں کا محاصرہ کیا۔ تہران کی معاشی اور اقتصادی صلاحیت پر کاری ضرب لگائی۔ مگر وہ بھی اوباما کی طرح مشن ادھورا چھوڑ کر ایوان اقتدار سے چل دیے۔

چار برسوں کے دوران بہت سا پانی پلوں کے نیچے سے بہہ نکلا ہے: روس نے شام کو اپنے گھر کا آنگن سمجھ رکھا ہے، عراق کے اندر ایرانی در اندازی امریکی مفادات کو گھن کی طرح چاٹ رہی ہے۔

جو بائیڈن کی حلف برادری کے اگلے ہی روز بغداد میں کھیلی جانے والی خون کی ہولی نئی امریکی انتظامیہ کے لیے بڑا چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔ ادھر ایران کھلے سمندر میں تیل کی سپلائی لائن پر حملوں کی دھمکیاں دینے لگا ہے۔ دوسری جانب خلیجی ملک اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف اتحاد تشکیل دیتے نظر آ رہے ہیں۔ ساتھ ہی تہران کی یمن اور لبنان میں سبوتاژ سرگرمیاں جاری ہیں۔

صدر بائیڈن اور ان کے سیاسی حواری ٹرمپ مخالف اپوزیشن کے طور پر انتخابی مہم کے دوران جو بیانات دیتے چلے آئے ہیں وہ لمحہ فکریہ ہیں۔ تاہم حالیہ چند دنوں سے ان کی جانب سے دیئے جانے والے بیانات امید دلانے کے لیے کافی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بائیڈن کے نامزد امریکی وزیر دفاع نے ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب کی القدس بریگیڈ کے سربراہ قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا خیر مقدم کر کے ایرانیوں کی رات کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔

نامزد سیکرٹری آف سیٹ انتھونی بلکن نے منصور عبد ربہ ہادی کی آئینی حکومت کے خلاف برسرپیکار ایران نواز حوثیوں کو یمن میں ہونے والی تباہی و ابتری کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ سیاست کے طالب علموں کو یاد رہے کہ حوثیوں کے یمن میں اقتدار پر قبضے کے وقت یہی انتھونی، امریکہ کے نائب وزیر خارجہ تھے اور انھوں نے 2015 میں ایک بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’سعودی عرب اور ان کے اتحادیوں نے جو کر دکھایا، وہ یقینا قابل قدر پیش رفت ہے۔ مملکت نے حوثیوں اور ان کے اتحادیوں کو سخت پیغام دیا ہے کہ وہ طاقت کے بل پر یمن کو تاراج نہیں کر سکتے۔ حوثیوں کے پاس اس عبوری سیاسی نقشہ راہ پر عمل کے علاوہ دوسرا کوئی چارہ نہیں، جس کی راہ میں وہ آج تک بارودی سرنگیں بچھاتے چلے آئے ہیں۔‘

امریکی کانگریس کے سامنے انتھونی بلکن نے گذشتہ دنوں ایک اہم بیان دیتے ہوئے عہد کیا ’کہ اس بار ہم خلیجی ریاستوں اور اسرائیل کو ایران کے نیوکلیئر پروگرام سے متعلق ہونے والے مذاکرات میں شامل رکھیں گے۔‘ ماضی میں ڈیموکریٹک صدر باراک اوباما نے ان سٹیک ہولڈرز کو مذاکرات سے الگ رکھ کر خفیہ سفارت کاری کا جو ڈول ڈالا تھا، آج تک پورا خطہ اس کی قمیت ادا کر رہا ہے۔


نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کے ذاتی خیالات پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ