دوحہ میں اپنا سفارت خانہ جلد دوبارہ کھول دیں گے: سعودی عرب

رواں ماہ تقریباً چار سال کے بعد قطر کے ساتھ تعلقات بحال ہونے کے بعد سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ دوحہ میں سعودی سفارت خانہ جلد دوبارہ کھول دیا جائے گا۔

شہزادہ فیصل بن فرحان نے اس فیصلے کا اعلان سعودی نشریاتی ادارے ’العربیہ‘ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کیا۔  (اے ایف پی فائل)

 

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اعلان کیا ہے کہ قطری دارالحکومت دوحہ میں آئندہ چند روز میں مملکت کا سفارت خانہ دوبارہ کھول دیا جائے گا۔

شہزادہ فیصل بن فرحان نے اس فیصلے کا اعلان سعودی نشریاتی ادارے ’العربیہ‘ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کیا۔  

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا: ’چاروں ممالک کا قطر کے ساتھ مصالحت کے لیے سمجھوتا طے پا چکا ہے۔‘

یاد درہے کہ سعودی عرب نے چار جنوری کو قطر کے ساتھ واقع اپنی فضائی، زمینی اور بحری سرحدیں دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا تھا جبکہ پانچ جنوری کوالعلا شہر میں منعقدہ خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے سربراہ اجلاس ان ممالک نے تقریباً چار سالوں سے جاری قطر کے بائیکاٹ کے خاتمے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ ان کے قطر کے ساتھ تمام شعبوں میں تعلقات بحال ہوگئے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس ضمن میں ان ممالک اور قطر کے درمیان العلا میں ایک سمجھوتا طے پایا تھا۔ اس کے بعد قطر ائیرویز نے اسی ہفتے سے سعودی عرب کی فضائی حدود سے اپنے طیارے گزارنے کا اعلان کیا تھا۔

سعودی عرب اور قطر کی قومی فضائی کمپنیوں نے ساڑھے تین سال کے بعد 11 جنوری کو اپنی پروازیں بحال کرنے کا اعلان کیا تھا اور دونوں فضائی کمپنیوں نے اسی روز دوحہ اور ریاض کے درمیان پروازیں شروع کردی تھیں۔

یاد رہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے جون 2017 میں قطر کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات منقطع کرلیے تھے۔

ان کا الزام تھا کہ قطر خطے میں شدت پسندوں کی پشت پناہی کرتا ہے، ایران سے اچھے تعلقات برقرار رکھتا ہے اور ان چاروں ممالک کے داخلی امور میں مداخلت کرتا ہے۔ قطر ان الزامات کی تردید کرتا  آیا ہے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا