پاکستان، بھارت کی مخالفت: جوہری ہتھیاروں پر پابندی کا معاہدہ نافذ

جوہری ہتھیاروں پر پابندی اب بین الاقوامی قانون کا حصہ ہے، جس کا مقصد ہیروشیما اور ناگاساکی پر امریکی ایٹمی حملوں جیسے واقعات کو روکنا ہے۔

61 ممالک نے  ایٹمی ہتھیاروں پر پابندی کے اس معاہدے کی توثیق کی ہے(اے ایف پی)

پاکستان، بھارت اور اسرائیل کی مخالفت کے باوجود جوہری ہتھیاروں پر پابندی کا معاہدہ آج سے نافذالعمل ہو گیا۔

دنیا میں جوہری ہتھیاروں پر پابندی کا پہلا اور تاریخی معاہدہ آج (جمعے) سے نافذالعمل ہو گیا ہے تاہم ایٹمی ہتھیاروں سے لیس اقوام نے اس کی سخت مخالفت کی ہے۔

جوہری ہتھیاروں پر پابندی اب بین الاقوامی قانون کا ایک حصہ ہے۔ کئی دہائیوں سے جاری اس مہم کا مقصد دوسری عالمی جنگ کے اختتام پر ہیروشیما اور ناگاساکی پر امریکی ایٹمی حملوں جیسے واقعات کو روکنا ہے لیکن تمام اقوام سے اس معاہدے کی توثیق کرانا کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار نہیں رکھیں گے، موجودہ عالمی منظر نامے میں اگر ناممکن نہیں مگر مشکل ضرور ہے۔

جولائی 2017 میں جب اس معاہدے کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے منظور کیا تھا تو 120 سے زیادہ ممالک نے اس کی حمایت کی تھی لیکن ایٹمی ہتھیاروں سے لیس نو ممالک امریکہ، روس، برطانیہ، چین، فرانس، بھارت، پاکستان، شمالی کوریا اور اسرائیل سمیت 30 ممالک پر مشتمل نیٹو اتحاد نے اس کی مخالفت کی تھی۔ ایٹمی حملوں کا شکار دنیا کا واحد ملک جاپان بھی اس معاہدے کی حمایت نہیں کرتا حالانکہ 1945 میں جوہری تباہی کا مشاہدہ کرنے والے عمر رسیدہ جاپانی شہری اپنی حکومت پر اس معاہدے کی حمایت کرنے کے لیے زور دیتے رہے ہیں۔

جوہری ہتھیاروں کو ختم کرنے کے لیے بین الاقوامی مہم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور 2017 کے نوبل امن انعام یافتہ بیٹریس فہن نے آج کے دن کو بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ اور ہیروشیما اور ناگاساکی کے متاثرین کے لیے ایک بڑا دن قرار دیا ہے۔اس معاہدے کو 24 اکتوبر کو مطلوبہ پچاسویں توثیق ملی تھی جس کے 90 دن بعد بالآخر 22 جنوری کو یہ نافذالعمل ہو گیا۔

فہن نے جمعرات کو ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا تھا کہ 61 ممالک نے اس معاہدے کی توثیق کردی ہے جب کہ جمعے کو اور ایک ملک کی جانب سے اس کی توثیق ممکن ہے جس کے بعد ان تمام ممالک پر جمعے سے بین الاقوامی قانون کے مطابق ایٹمی ہتھیاروں رکھنے یا ان کے حصول پر پابندی ہوگی۔

اس معاہدے کی توثیق کرنے والے تمام ممالک ’کسی بھی حال میں کبھی بھی جوہری ہتھیاروں کی تیاری، ٹیسٹنگ، پیداوار، اس میں پیش رفت، یا جوہری ہتھیاروں یا دیگر جوہری دھماکہ خیز آلات کو حاصل کرنے اور ذخیرہ کرنے کی کوشش نہیں کریں گے۔‘

معاہدے کے تحت جوہری ہتھیاروں یا جوہری دھماکہ خیز آلات کی کسی بھی منتقلی یا استعمال پر بھی پابندی ہو گی اور اس طرح کے ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی نہیں دی جائے گی جب کہ فریقین دوسرے ممالک پر بھی اس معاہدے کی توثیق کے لیے زور دیں گے۔

فہن نے کہا کہ یہ معاہدہ واقعی اہم ہے کیونکہ اب جنگ کے دوران عام شہریوں اور فوجیوں کے خلاف جنیوا کنونشنز کے تحت کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں اور بارودی سرنگوں پر پابندی کے ساتھ ساتھ جوہری ہتھیاروں کے استعمال پر بھی پابندی ہو گی۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گتیرس نے کہا کہ اس معاہدے نے جوہری تخفیف اسلحے سے متعلق کثیرالجہتی نقطہ نظر کو فروغ دیا ہے۔

انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا: ’دنیا کو جوہری ہتھیاروں کے بڑھتے ہوئے خطرات لاحق ہیں اور تمام ممالک کو ان کے خاتمے کو یقینی بنانے اور ان کے استعمال سے انسانوں اور ماحولیات پر پڑنے والے تباہ کن نتائج کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ جوہری ہتھیاروں کا خاتمہ اقوام متحدہ کی تخفیف اسلحے کے حوالے سے سب سے اہم ترجیح ہے۔‘

لیکن ایٹمی طاقتوں کے لیے یہ ترجیح نہیں ہے۔ جیسا کہ گذشتہ سال اکتوبر میں یہ معاہدہ مطلوبہ 50 ویں توثیق حاصل کے قریب پہنچ رہا تھا، ٹرمپ انتظامیہ نے اس کی توثیق کرنے والے ممالک کو خط لکھا کہ انہوں نے ایسا کر کے بڑی ’سٹریٹجک غلطی‘ کر دی ہے اور یہ کہ وہ اپنی توثیق سے پیچھے ہٹ جائیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فہن نے اس وقت ٹرمپ کی اس کوشش کا مقابلہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ پابندی جوہری عدم پھیلاؤ کو کمزور نہیں کرسکتی کیونکہ جوہری ہتھیاروں پر پابندی ہی ’عدم پھیلاؤ کے معاہدے کا آخری مقصد‘ تھا۔

’آرمز کنٹرول ایسوسی ایشن‘ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈیرل کم بال نے کہا کہ جوہری ہتھیاروں پر پابندی کا یہ معاہدہ دنیا کو ایٹمی اسلحے سے پاک کرنے کی کوششوں میں ایک تاریخی قدم ہے اور امید ہے کہ جوہری ہتھیاروں سے لیس ممالک نئی کارروائی کے نتیجے میں اپنے ذخیروں کو ختم کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

فہن نے کہا کہ اس مہم کے دوران بیلجیم اور سپین جیسے نیٹو کے رکن ممالک میں اس معاہدے کے لیے عوامی حمایت اور بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ کو دیکھا گیا ہے۔  انہوں نے کہا: ’ہم اس وقت تک باز نہیں آئیں گے جب تک کہ ہم سب کو اس کے لیے راضی نہ کر لیں۔‘

مہم کے دوران مالیاتی اداروں پر دباؤ ڈالا گیا ہے کہ وہ ایئربس، بوئنگ اور لاک ہیڈ مارٹن سمیت ایٹمی ہتھیاروں اور میزائل کی تیاری کرنے والی 30 سے 40 کمپنیوں کو سرمائے کی فراہمی بند کردیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا