آن لائن یا کیمپس میں امتحان کا فیصلہ یونیورسٹیاں خود کریں: ایچ ای سی

طلبہ کے احتجاج کے تناظر میں چیئرمین ایچ ای سی طارق بنوری کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا کہ یونیورسٹیاں اپنی صلاحیت اور سہولت کے مطابق امتحان لیں۔

ملک بھر میں طلبہ آن لائن امتحان لیے جانے کے حق میں احتجاج کر رہے ہیں  (تصویر: اے ایف  پی)

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے چیئرمین طارق بنوری نے امتحانات کے آن لائن یا کیمپس میں لیے جانے کے فیصلے کی ذمہ داری یونیورسٹیوں کو دے دی ہے۔

چیئرمین ایچ ای سی طارق بنوری کی زیرصدارت آن لائن امتحانات کے حوالے سے بدھ کو ہونے والے اجلاس میں مختلف یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔

اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا کہ یونیورسٹیاں اپنی صلاحیت اور سہولت کے مطابق امتحان لیں۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن کے اعلامیے میں تفصیلاً بتایا گیا کہ جامعات کرونا (کورونا) وائرس کی صورت حال کو مدنظر رکھ کر اقدامات اٹھائیں۔ اگر فزیکل امتحان لینا مقصود ہے تو ایس او پیر پر عملدرآمد کروایا جائے۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ ’اگر معیار اور چیکنگ کا مناسب انتظام ہو تو آن لائن امتحانات لیے جا سکتے ہیں۔ آن لائن امتحان کی صورت میں طلبہ کے جواب اور انٹرنیٹ سے مواد کو جانچا جائے اور جہاں زبانی امتحان کی ضرورت پڑے وہ بھی لیا جائے۔‘

آن لائن امتحانات کے معاملے پر گذشتہ روز ہونے والا اجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا تھا، جس میں مختلف یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز نے اپنی اپنی تجاویز پیش کی تھیں۔

قائداعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں طلبہ کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ کوئی اتنا بڑا ایشو نہیں ہے۔ جب حکومت پاکستان نے یکم فروری سے جامعات کو کھولنے کا حکم دیا ہے تو اس سے پہلے طلبہ کو یونیورسٹی کیسے بلایا جا سکتا ہے؟‘

انہوں نے کہا کہ قائداعظم یونیورسٹی میں بھی آن لائن امتحانات ہوئے ہیں اور زیادہ تر نتائج بھی آ چکے ہیں۔ یکم فروری سے نئے سیمسٹر کا بھی آغاز ہو جائے گا۔

آن لائن امتحان میں نقل کا کتنا امکان؟

اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر محمد علی نے بتایا کہ ’نقل تو فزیکل امتحان میں بھی ہو سکتی ہے۔ اگر فزیکل امتحان کے لیے آئیڈیل حالات نہیں ہیں تو آن لائن امتحان لے لیا جائے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’جہاں تک نقل کی بات ہے تو اس کا بھی پتہ چل جاتا ہے، فون پر طلبہ کا زبانی امتحان بھی ہوتا ہے جس سے طلبہ کی جانچ کی جاتی ہے۔‘

واضح رہے کہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں بھی آن لائن امتحانات منعقد ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ یونیورسٹی آف پنجاب، بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی، ساہیوال یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف انجینیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور نے بھی آن لائن امتحان لینے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا۔

دوسری جانب نمل یونیورسٹی اسلام آباد، یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب لاہور، غازی یونیورسٹی ڈی جی خان اور چند نجی یونیورسٹیوں نے فزیکل امتحان لینے کا نوٹفیکیشن جاری کیا تھا۔

آن لائن امتحان پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت

نمل یونیورسٹی کے طلبہ نے امتحان آن لائن منعقد کروانے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا، لیکن عدالت نے یہ معاملہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کو بھجوا دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ’یہ خالص پالیسی معاملہ ہے، اس میں مداخلت نہیں کریں گے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن پالیسی کے مطابق فیصلہ کرے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’اس کیس میں نہ کوئی امتیازی سلوک کا مسئلہ ہے اور نہ ہی قانون کی خلاف ورزی ہے۔‘

دوسری جانب نمل یونیورسٹی کے طلبہ کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ’طلبہ اوپن بک امتحان دینا چاہتے ہیں، بیشتر طلبہ کووڈ 19 کی وجہ سے اپنے اپنے علاقوں میں چلے گئے ہیں، پہلے نمل نے آن لائن امتحان کا کہا اور اب کیمپس امتحان لینا چاہتے ہیں، طلبہ نے آن لائن پڑھا ہے، لہذا وہ کیمپس امتحان کیسےدے سکتے ہیں۔‘

جس پر جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے کہ ’یہ کوئی وجہ نہیں۔‘ جس کے بعد انہوں نے کیس کا فیصلہ کرنے کے لیے معاملہ ایچ ای سی کو  بھجواتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔

معاملہ ہے کیا؟

ملک بھر میں طلبہ آن لائن امتحان لیے جانے کے حق میں احتجاج کر رہے ہیں۔ طلبہ کو موقف ہے کہ جب پورا سال آن لائن کلاسز دی گئی ہیں تو امتحان یونیورسٹی بلا کر کیوں لیا جا رہا ہے، امتحان بھی اب آن لائن لیا جائے۔

اس ضمن میں گذشتہ روز لاہور میں جوہر ٹاؤن کے خیابان جناح روڈ پر واقع یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب میں طلبہ نے داخل ہونے کی کوشش کی تاہم گارڈ کے روکنے پر جھگڑا ہوگیا، جس کے نتیجے میں ایک گارڈ اور دو طالب علم  زخمی ہو گئے۔

دوسری جانب بدھ کے روز بھی لاہور میں سائنس کالج کے طلبہ نے وحدت روڈ پھیکے وال موڑ پر احتجاج کرتے ہوئے چاروں اطراف سے آنے والی ٹریفک بند کر دی اور مطالبہ کیا کہ منگل کے روز گرفتار طلبہ کو رہا کیا جائے، ان کے خلاف مقدمات واپس لیے جائیں اور طلبہ کے خلاف تشدد کرنے والی یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف کارروائی کی جائے۔ طلبہ نے نعرے لگائے کہ اگر مطالبات نہ مانے گئے تو پورا لاہور بند کر دیں گے۔

مظاہروں میں توڑ پھوڑ کرنے پر لاہور پولیس نے نقض امن عامہ اور قانون شکنی کرنے پر 35 طلبہ کوحراست میں بھی لیا تھا۔

اسلام آباد میں بھی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے باہر نمل یونیورسٹی کے طلبہ نے احتجاج کیا لیکن انتظامیہ کی یقین دہانی کے بعد ہائر ایجوکیشن کمیشن کا حتمی فیصلہ آنے تک احتجاج موخر کر دیا گیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس