برطانوی شاہی خاندان سے متعلق متنازع فلم یوٹیوپ پر لیک

برطانوی شاہی خاندان کی نجی مصروفیات کے بارے میں معلومات پر مبنی اپنی نوعیت کی یہ پہلی دستاویزی فلم گذشتہ 50 سال سے ڈبے میں بند تھی۔

ملکہ برطانیہ نے بی بی سی کو محل کے اندر تک رسائی دینے پر افسوس کا اظہار کیاتھا (اے ایف پی)

برطانوی شاہی خاندان کی نجی مصروفیات کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والی اپنی نوعیت کی پہلی دستاویزی فلم، جو گذشتہ 50 سال سے پردے میں تھی، مکمل طور پر انٹرنیٹ پر جاری کر دی گئی۔ تاہم فلم کو اس ہفتے فوری طور پر ہٹا دیا گیا۔

شاہی خاندان کے مداح اور نامعلوم صارف کی طرف سے یوٹیوب پر اپ لوڈ کیے جانے کے بعد لوگ برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کے تیار کردہ 110 منٹ کے اس پروگرام کو 1970 کی دہائی کے شروع کے بعد پہلی مرتبہ دیکھ سکتے تھے، جس کی نمائش روک دی گئی۔

جب یہ دستاویزی فلم پہلی مرتبہ دکھائی گئی تو اتنی مقبول ہوئی کہ اسے تین کروڑ افراد نے دیکھا۔ تاہم اطلاعات سے پتہ چلا کہ ملکہ برطانیہ نے بی بی سی کو محل کے اندر تک رسائی دینے پر افسوس کا اظہار کیا اور درخواست کی کہ پروگرام کو دوبارہ کبھی نشر نہ کیا جائے۔

رنگین فلم کی 1969 میں عکس بندی کی گئی تھی، جس میں برطانوی شاہی خاندان کے ایک سال کے معمولات کو دکھایا گیا۔ فلم میں پہلی بار شاہی خاندان کی گھریلو زندگی کی جھلک دکھائی گئی۔ فلم میں دکھایا گیا کہ ملکہ اور ان کا خاندان سکاٹ لینڈ میں واقع بلمورل شاہی محل میں پکنک سے لطف اندوز ہو رہا ہے، جہاں ڈیوک آف ایڈنبرگ نے باربی کیو گرل پر ساسیجز تیار کیے۔

ایک فوٹیج میں دکھایا گیا کہ پرنس آف ویلز برہنہ سینے کے ساتھ پانی پر سکیئنگ میں مصروف ہیں اور ملکہ ذاتی جیب سے نوجوان شہزادے ایڈورڈ کو آئس کریم خرید کر دے رہی ہیں، جس کے بعد وہ کہتی ہیں: ’یہ نرم اور چپکنے والی قابل نفرت چیز کار کے اندر جائے گی۔ کیا ایسا نہیں ہے؟‘

تاہم فلم نشر ہونے کے کچھ سال بعد اسے بی بی سی کے آرکائیوز میں بند کر دیا گیا۔ مانا جاتا ہے کہ یہ قدم ملکہ کی درخواست پر اٹھایا گیا۔ اس فلم کے کچھ حصوں کو کئی سال تک دوسری دستاویزی فلموں اور ملکہ کی گولڈن جوبلی کی نمائش کے طور پراستعمال کیا جاتا رہا لیکن پابندی لگنے کے بعد سے اب تک پوری فلم کبھی نہیں دکھائی گئی۔

'دا کراؤن' نامی دستاویزی فلم کے سیزن تین کی چوتھی قسط کے پس منظر میں موجود واقعات کو ڈرامائی شکل دی گئی، جن میں بتایا گیا کہ صرف تین بار عوام کو دکھائے جانے کے بعد بڑے پیمانے پر تنقید کے پیش نظر ملکہ کی طرف سے فلم کی نمائش روکی جا رہی ہے۔ اس دستاویزی فلم کا مقصد برطانوی عوام کو پردے کے پیچھے کے حالات کی جھلک دکھانا تھا لیکن اس وقت کے نقادوں نے کہا کہ شاہی خاندان کا مقصد یہ نہیں تھا اور اس طرح یہ فلم ایک غلطی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ذرائع ابلاغ نے عام طور پر اس وقت کے بی بی سی کے کنٹرولر ڈیوڈ ایٹن بورو کے بارے میں منفی رائے کا اظہار کیا، جنہوں نے یہاں تک دعویٰ کر دیا تھا کہ فلم نے ’شاہی خاندان کے وقار‘ کوخطرے میں ڈال دیا۔

 اگرچہ ملکہ نے فلم کے بارے میں کھلے عام کبھی بات نہیں کی، تاہم شہزادی این نے تسلیم کیا ہے کہ انہیں یہ پروگرام ناپسند تھا۔ انہوں نے کہا: ’میں نے شاہی خاندان کی فلم بنانے کے خیال کو کبھی پسند نہیں کیا۔ میں نے اسے ہمیشہ فرسودہ خیال سمجھا ہے۔‘

'کسی پر تب سے توجہ مرکوز ہوگئی جب وہ ایک بچہ تھا۔ آپ مزید یہ نہیں چاہتے۔ جس آخری بات کی آپ کو ضرورت تھی وہ زیادہ رسائی تھی۔' دی انڈپینڈنٹ نے بکنگھم محل اور بی بی سی سے اس حوالے سے تبصرے کے لیے رابطہ کیا ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی یورپ