جعلی لائسنس سکینڈل: پانچ سول ایوی ایشن اہلکار، ایک پائلٹ گرفتار

ایف آئی اے کے سینئر عہدیدار عبدالرؤف شیخ کے مطابق ’دوران تفتیش ہمیں رقم کے لین دین کا سراغ بھی ملا ہے جس کے مطابق پائلٹس نے ہر ایک مطلوبہ دستاویز کے بدلے کم از کم 312.50 ڈالر ادا کیے تھے۔‘

(اے ایف  پی)

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی پاکستان  نے گزشتہ روز پائلٹس کے جعلی لائسنس سکینڈل میں ملوث چھ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

یہ سکینڈل، جس سے ایوی ایشن کی دنیا میں پاکستان کو نہ صرف بدنامی بلکہ کئی ممالک کی جانب سے پابندی کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا، پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کا ایک طیارہ کراچی ایئرپورٹ کے قریب گرنے کے بعد منظر عام پر آیا تھا۔

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے ایک بیان میں کہا: ’سکینڈل میں ملوث سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کے پانچ عہدیداروں اور ایک پائلٹ کو گرفتار کرلیا گیا ہے جب کہ سی اے اے لائسنس برانچ کے کم از کم آٹھ اہلکاروں اور 40 پائلٹس کے خلاف ایجنسی کے کرائم ونگ نے مقدمات بھی درج کرائے ہیں۔
گذشتہ سال کراچی میں پی آئی اے کے طیارے کو پیش آنے والے حادثے میں 97 افراد ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد انکشاف ہوا تھا کہ بدقسمت طیارے کے پائلٹس نے طے شدہ طریقہ کار پر عمل نہیں کیا گیا تھا جب کہ ایک وفاقی وزیر نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ وائس ریکارڈنگ سے پتہ چلا کہ پائلٹس کا دھیان اپنے کام کی بجائے کووڈ 19 پر ہونے والی بحث پر تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس حادثے کے بعد پاکستان نے 50 پائلٹس اور سی اے اے کے کم سے کم پانچ عہدیداروں کے خلاف مجرمانہ تفتیش کا آغاز کیا جنہوں نے مبینہ طور پر ان پائلٹس کو جعلی لائسنس اور اسناد حاصل کرنے میں ان کی مدد فراہم کی تھی۔
ایف آئی اے کے ایک سینئر عہدیدار عبدالرؤف شیخ کے مطابق ’دوران تفتیش ہمیں رقم کے لین دین کا سراغ بھی ملا ہے جس کے مطابق پائلٹس نے ہر ایک مطلوبہ دستاویز کے بدلے کم از کم 312.50 ڈالر ادا کیے تھے۔‘
اس سکینڈل نے پاکستان کی ہوا بازی کی صنعت اور خاص طور پر پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کی شہرت کو داغدار کردیا تھا جس کے بعد  قومی فضائی کمپنی پر یورپ اور امریکہ میں آپریشنز جاری رکھنے پر پابندی عائد کردی گئی جب کہ دیگر فضائی کمپنیوں میں کام کرنے والے پاکستانی پائلٹوں کو بھی ’مشکوک‘ لائسنس رکھنے پر کڑی آزمائش سے گزرنا پڑا۔
اس سکینڈل کے بعد ابتدائی فہرست میں 262 پائلٹس کے لائسنسوں کو مشکوک قرار دیا گیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان