پی ڈی ایم کمزور تو کیا حکومت مضبوط؟

زرداری صاحب نے یہ بھی کہا کہ آپ اس وقت اگر بائیکاٹ کریں گے تو عمران خان سارے عہدے لے کر بیٹھ جائیں گے، آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان جو بہت جارحانہ بات کررہے تھے وہ آج مختلف بات کررہے ہیں۔

(اے ایف پی)

یہ بات  تو درست ہے کہ پی ڈی ایم اب جلسے جلوسوں سے حکومت کو گھرنہیں بھیج پائے گی۔

یہ بھی درست ہے کہ اسمبلی سے استعفوں کی جوبات ہوتی تھی، جس کو کہا جارہا تھا نیوکلیئر آپشن وہ بھی استعمال ہوتا ہوا نظر نہیں آتا تو بات پھر یہ ٹھہری کہ پی ڈی ایم جو حکومت کو گھر بھیجنے کے ہمالیہ سے اونچے دعوے کررہی تھی وہ بھی فی الحال ممکن نظر نہیں آ رہا۔

پانی پت کی جنگ کا سا جو ماحول بنایا جا رہا تھا، جو ڈنکے کی چوٹ پرجنگ کے نعرے لگ رہے تھے حکومت اور اداروں سے اس پر بھی پی ڈی ایم لیڈر شپ نے نظر ثانی کی ہے اور آصف علی زرداری فارمولے پر سب راضی ہوتے نظر آرہے ہیں۔

زرداری صاحب نے یہ بھی کہا کہ آپ اس وقت اگر بائیکاٹ کریں گے تو عمران خان سارے عہدے لے کر بیٹھ جائیں گے، آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان جو بہت جارحانہ بات کررہے تھے وہ آج مختلف بات کررہے ہیں۔

آج انہوں نےیہ بھی کہہ دیا کہ سینیٹ کے الیکشن سے ہم باہر رہے تو سینیٹ میں بھی حکومت سیٹیں جیت لے گی۔ لب لباب اس وقت یہ ہے کہ نہ کوئی سیٹ چھوڑنی ہے، نہ استعفے دینے ہیں اور نہ الیکشن کا بائیکاٹ کرنا ہے۔ اب اورمختلف طریقوں سے پی ڈی ایم دیکھے گی کہ حکومت پر کس طریقے سےدباو ڈالے۔ پارلیمان میں کچھ اس کی عکاسی ہورہی ہے وہاں اپوزیشن کی طرف سے احتجاج ہورہے ہیں، وہاں بھی حکومت ایک طرف جہاں کہتی ہے کہ آئیں بات چیت کریں اور آگے بڑھیں، جب وہ پارلیمنٹ میں پہنچتےہیں تو کہا جاتا ہے کہ ڈاکو چور پہنچ گئے ہیں۔

جیسے اپوزیشن کے بارے میں شہزاد اکبر صاحب نے فرمایا ساتھ ساتھ حکومت کے جو تجربہ کار سیاستدان ہیں چاہے پرویز خٹک ہوں شاہ محمود قریشی ہوں یہ لوگ بات چیت کی بھی آفر کرتے ہیں لیکن لگتا ہے وہ بھی اس وقت کھٹائی میں نظرآتی ہے اور پھر ایسا بھی لگتا ہے کہ حکومت کی بات چیت آگے بڑھے۔

یہ تو رہی پی ڈی ایم کی صورتحال، اب حکومت کی طرف نظر دوڑائیں تووہاں کیا دکھائی دیتا ہے؟ وزیراعظم تو اپنی بات پر اڑَے ہیں۔ چور ، ڈاکو اوربلیک میلنگ کی جو سوچ ہے اس پر وہ قائم ہیں۔ ابھی گزشتہ ہفتے بھی صحافیوں سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ یہ سارے چور ڈاکو مل کرمجھے بلیک میل کررہے ہیں۔ نواز شریف صاحب کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ بھگوڑا لندن میں بیٹھا انقلاب لا رہا ہے۔

یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ ان کی پارٹی کے لوگ بھی سمجھتے ہیں کہ نواز شریف صاحب کو واپس آنا چاہیے لیکن اب وزیراعظم کا اسی بات کو دہرانا کہ چور اور ڈاکو مل کر مجھے بلیک میل کررہے ہیں کیا یہ حکومت کی مضبوطی کی نشاندہی ہے یا پی ڈی ایم جلسے جلوسوں سے ہٹ کر اب پارلیمان میں اپنے آپ کو ایکٹو کررہی ہے؟ کیا اس کا مطلب یہ حکومت کی جیت ہے یا حکومت کے بہت بڑے کارنامے کی نشاندہی کرتا ہے ؟

ہرگز نہیں

پی ڈی ایم کی کمزوری سے حکومت مضبوط نہیں ہوتی، حکومت اپنی کارکردگی سے مضبوط ہوتی ہے۔ یہ بات درست ہے کہ وزیراعظم عمران خان کوعوام میں ایک طرف اگر مہنگائی کی وجہ سے شکایات کا سامنا ہے، دوسری طرف ان کا جو ایمانداری کے حوالے سے ٹریک ریکارڈ رہا ہے اس پرعوام کی پذیرائی حاصل ہے۔ لیکن یہ پھر بھی جو بڑے مسائل ہیں ان کوکس طرح ہینڈل کیا جا رہا ہے، اور جو طرز حکمرانی ہے وہ عوامی مسائل اورجو ریاست کے حکمران سازی کے مسائل سے کس طرح نمٹ رہی ہے، وہ بڑا سوال ہے۔

حال ہی میں جو براڈ شیٹ کا معاملہ سامنے آیا ہے، براڈ شیٹ میں یقینا اس حکومت کا کوئی حصہ تو نہیں ہے لیکن اب جب ان پر آن پڑی ہے کہ یہ اس کی انکوائری کرائیں اور خود عمران خان نے کہا کہ اس کی انکوائری کرائیں گے ، تو جو ایک شخص پر مبنی ایک کمیشن بنا ہے اور وہ بھی وہ شخص جس کا تعلق نیب سے رہا ہے، نیب کے ملازم تھے، بھلے کسی بھی وقت تھے، ان کا انتخاب سراسر ایک غلط فیصلہ ہے اور اس میں سچائی کےسامنے آنے کے حوالے سے بہت سے سوالات اٹھتے ہیں۔

یہ منطقی طور پرغلط فیصلہ ہے۔ جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید کو یہ پوزیشن قبول ہی نہیں کرنی چاہیے تھی، یہ کمیشن جو بنایا گیا ہے اس کو ایک کوراپ کہا جاسکتا ہے کہ آپ ایک ایسے شخص کو لگائیں کہ جو خود نیب کا حصہ رہا ہو۔

عمران خان صاحب کا جو طریقہ کار ہے کہ ایک فیصلہ کرلیں تو اس پر کوئی نظرثانی نہیں کرنی کہ بس ایک اٹل فیصلہ ہے۔ یہ طریقہ کار غلط ہے براڈ شیٹ کا کمیشن شروع سے ہی لگتا ہے کہ یہ ایک کور اپ ہوسکتا ہے۔ براڈ شیٹ پر معاملات یہ نہیں ہیں کہ آپ سرے محل ، ایون فیلڈ  اپارٹمنٹس کا کیس یا سوئس اکاونٹس کھول دیں وہ تو بہرحال انکوائری ہوتی رہی ہے، اور شاید ہوتی رہیں۔

سوال یہ ہے کہ احتساب کا جو ایک تماشا ادھر بنا ہے احتساب جو سیاسی انجینئرنگ کے لیے استعمال ہوا ہے اس پر غور و غوض کرنےکی ضرورت ہے۔ اس کی نشاندہی کر کے اس کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے تاکہ صحیح قسم کا احتساب ہو۔ یہ جو احتساب ایک بندر کا کھیل ہے وہ جاری رہے گا براڈ شیٹ کا جو کمیشن بنا ہے یہ اسی چیز کی نشاندہی کرتی ہے -

حکومت کا جو اپوزیشن کی طرف رویہ ہے، ایک طرف حکومت شکایت کرتی ہے کہ اپوزیشن کی وجہ سے پارلیمان نہیں چلتا اس کو بہتر طریقے سےچلانا چاہیے۔ اپوزیشن کی طرف سے خط لکھا گیا جو کہ پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر صاحب نے ہمارے پروگرا م میں بھی گزشتہ ہفتے بات کی کہ مشترکہ اپوزیشن  نے ایک مہینہ پہلے خط لکھا تھا کہ آپ پارلیمان کو ٹھیک طریقے سے چلائیں اور پارلیمان کے جو اصول ہیں ان پر عمل درآمد کیاجائے تاکہ پارلیمان کا بزنس چلے۔

تو اس کے بعد جو میٹنگ ہوئی کچھ روزپہلے اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں، اس میں یہ بات بھی طے ہوئی تھی کہ اگلی میٹنگ بھی ہوگی جس میں سپیکر صاحب بھی آئیں گے لیکن  اگلی میٹنگ کی نوبت ہی نہیں آئی۔ جب پی ایم ایل این کی اپنی پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ ہورہی تھی ان کی ان الیکٹڈ لیکن پارٹی کی جو سینئر لیڈ ر ہیں مریم نواز نےاس کی صدارت کی تویہ پتہ چلا جو نوید قمر صاحب نے آکر کہا کہ پہلے ان کواجازت بھی نہیں مل رہی تھی کہ ان الیکٹڈ پارلیمنٹ میں نہیں آسکتی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس پر بحث و مباحثہ ہوا پھر شہزاد اکبر صاحب تشریف لائے اور یہ فرمایا کہ آج یہاں مجرم آئے ہیں تو آپ پھر ایک فیصلہ کریں کہ آپ نے لڑائی جھگڑا کرنا ہے یامل کر چلنا ہے۔ ایک طرف کا فیصلہ ہونا چاہئے لیکن اس وقت لگ یہ رہا ہے کہ حکومت بول رہی ہے کہ بات کریں لیکن ساتھ ساتھ لڑائی جھگڑا بھی کررہی ہے اور اپوزیشن کی بھی یہی نیت لگتی ہےکہ بات بھی کرے اور لڑائی جھگڑا بھی کریں تو پارلیمان میں کام کرنے کاسوال ہے وہ اس وقت کچھ گڑبڑ ہی ہے۔

اب اس کے بعد جو تبدیلیوں کی ضرورت ہے، ایک ادارتی اصلاحات کی ضرورت  ہے، حکومت کو ڈھائی سال ہوگئے سول ایوی ایشن کے سٹرکچرمیں کچھ تبدیلی آئی ہے لیکن باقی جو ادارے ہیں جن میں اصلاحات کی بات ہو رہی تھی۔ جس کے لیے ڈاکٹر عشرت حسین جو بڑے تجربہ کار ہیں ان کووزیراعظم کا معاون خصوصی بنایا گیا لیکن کوئی جو تبدیلیوں ، اصلاحات اوراداروں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہے اور ظاہر ہے اس کے لیے پولیٹیکل ول کی ضرورت ہے اور ایک تندہی سے چلنے کی ضرورت ہے۔ پنجاب میں اداروں میں اصلاحات کے بجائےآئے دن ٹرانسفر پوسٹنگ ، نئے نئے لوگوں کی تعیناتی چاہے وہاں کی بیوروکریسی کو دیکھ لیں پولیس کو دیکھ لیں تواتر کے ساتھ تبدیلیاں ہورہی ہیں۔

اسی طریقے سے جو پرائیویٹائزیشن اس پر پیش رفت بہت کم ہوئی ہے۔ تقریبا نہ ہونے کے برابر ہے بجلی کا بحران آیا، چینی کی سبسڈی کی پالیسی کے بعد جو شوگر اسکینڈل سامنے آیا اس کے بعد گیس کے مسائل ، تیل کے مسائل ، انرجی پر پوری رپورٹ سامنے پیٹرولیم کے معاملے میں جوغلط فیصلے کیے گئے اور بھی بہت سوالیہ نشان ہیں اس میں مہارت کےساتھ ساتھ ایمانداری کے حوالے سے بھی سوالات اٹھتے ہیں اور وزیراعظم خود جو الفاظ استعمال کرتے ہیں، مافیاز، ٹھیک ہے مافیاز کی نشاندہی ضروری ہے لیکن ان کو کس طریقے سے ختم کیاجائے اس پرسیاسی توجہ مرکوز کرنے ضرورت ہے جس میں توجہ بھی ہو اور طاقت بھی اس کو اس طریقے سے آگے لے کر چلیں اس میں کمی نظر آتی ہے ۔

یقینا وزیراعظم کو احتساب کا معاملہ اداروں کے ہاتھ چھوڑنا چاہیے، اپوزیشن کی طرف اپنا غصہ ختم کرنا چاہیے اور حکومت سازی پر زیادہ سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کے ذاتی خیالات پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر