ارب پتی تاجر سپیس ایکس کی پہلی سویلین خلائی پرواز پر جائیں گے

اس خلائی سفر کے اخراجات امریکہ کے ارب پتی تاجر جیرڈ آئزک مین ادا کریں گے، جنہوں نے ٹیکنالوجی اور لڑاکا طیارے بنانے کے شعبے میں پیسہ بنایا ہے۔

مئی 2020 میں سپیس ایکس کا فیلکن نائن راکٹ ڈریگن کرو کیپسول خلا میں لے جاتے ہوئے (اے ایف پی)

خلائی جہاز بنانے اور خلائی سفر پر لے جانے والی امریکہ کی نجی کمپنی سپیس ایکس اس سال خلا کے مکمل طور پر تجارتی بنیادوں پر سفر کا آغاز کرے گی۔عوام میں سے منتخب ہونے والے خوش قسمت ایک مسافر بھی اس خلائی سفرکا حصہ ہوں گے۔

اس خلائی سفر کے اخراجات امریکہ کے ارب پتی تاجر جیرڈ آئزک مین ادا کریں گے، جنہوں نے ٹیکنالوجی اور لڑاکا طیارے بنانے کے شعبے میں پیسہ بنایا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں بچپن سے ہی خلا میں دلچسپی  رہی ہے۔

یہ واضح نہیں کہ انہوں نے خلائی سفر کے لیے کتنی رقم ادا کی۔ وہ تین عام شہریوں کو پہلے ہی خلائی جہاز کے ٹکٹ کی پیش کش کر چکے ہیں۔ ایک ٹکٹ سینٹ جیوڈ چلڈرن ریسرچ ہسپتال سے تعلق رکھنے والے ہیلتھ ورکر کو دیا جائے گا، جن کا اس مشن کے لیے پہلے ہی انتخاب کیا جا چکا ہے۔

ایک ٹکٹ ’شفٹ فار پیمنٹس‘ نامی کریڈٹ کارڈ پروسیسنگ کمپنی استعمال کرنے والے بزنس مین کے حصے میں آئے گا۔ اس کریڈٹ کارڈ کمپنی نے آئزک کو امیر بننے میں مدد کی تھی۔

چوتھا ٹکٹ سینٹ جیوڈ ہسپتال کے لیے 20 کروڑ ڈالرز کا فنڈ اکٹھا کرنے کے لیے خلائی مشن کو استعمال کرنے کے منصوبے کا حصہ ہو گا، جو فروری کے دوران ہسپتال کو رقم عطیہ کرے گا، اس کا نام یہ سیٹ جیتنے کے لیے لاٹری میں شامل کیا جائے گا۔

اگلے ہفتے 38 سال کے ہونے والے آئزک مین کہتے ہیں: ’میں آج سے 50 یا 100 سال بعد کی دنیا میں زندہ رہنا چاہتا ہوں, جب لوگ کارٹون فلم جیٹسنز کے کرداروں کی طرح اپنے راکٹوں میں چھلانگیں لگا رہے ہوں اور ان کے خاندان خلائی لباس پہنے اپنے بچوں کے ساتھ چاند پر اچھل کود رہے ہوں۔

’میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ اگر ہم اس دنیا میں رہنے کے لیے جا رہے ہیں تو بہتر ہو گا گا کہ ہم اس سفر کے دوران بچپن میں ہونے والی سرطان کی بیماری پر قابو پالیں۔‘

انہوں نے خلائی مشن، جسے ’انسپریشن فور‘ کا نام دیا گیا ہے، کی تشہیر کے لیے نیشنل فٹ بال لیگ کی سالانہ چیمپئن شپ ’سپربول‘ کے موقعے پر اشتہار کی ادائیگی بھی کر دی ہے۔ یہ خلائی مشن اکتوبر میں شروع ہو گا۔

فی الحال ’سپیس ایکس ڈریگن‘ خلائی جہاز کے سفر کی تفصیلات  طے کی جا رہی ہیں، جن میں یہ بھی شامل ہے کہ فلوریڈا سے روانہ ہونے کے بعد خلائی جہاز کتنے دن تک مدار میں رہے گا۔ دوسرے مسافروں کا اعلان اگلے ماہ کیا جائے گا۔

یہ مشن نجی سطح پر خلائی سفر کا تازہ ترین اعلان ہے۔ تین کاروباری شخصیات آئندہ جنوری میں بین الاقوامی خلائی سٹیشن کے سفر کے لیے فی کس ساڑھے پانچ کروڑ ڈالرز کی ادائیگی کر رہے ہیں جب کہ ایک جاپانی بزنس مین نے اگلے چند برس میں چاند پر جانے کے لیے سپیس ایکس کے ساتھ معاہدہ کیا ہے۔

آئزک مین یہ نہیں بتائیں گے انہوں نے سپیس ایکس کو کتنی رقم ادا کی، تاہم وہ یہ بتائیں گے سینٹ جیوڈ ہسپتال کو متوقع  طور پر ملنے والا عطیہ ’خلائی مشن کے اخراجات سے کہیں زیادہ ہوگا۔‘

خلائی تحقیق کے امریکی ادارے ناسا کے سابق خلا نورد تینوں کاروباری شخصیات کے ساتھ ہوں گے۔آئزک مین اپنے خلائی جہاز کے کمانڈر کے فرائض انجام دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے لیے دلچسپ بات ہے سپیس ایکس کے ڈریگن اور فیلکن نائن راکٹ کے بارے میں سیکھنا۔ اگرچہ کیپسول خود کار طریقے سے چلنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں، مگر پائلٹ ایمرجنسی میں اس سسٹم کو بائپاس کر سکتا ہے۔  

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آئزک مین نے 16 سال کی عمر میں سکول چھوڑ دیا اور پھر اپنے والدین کی بیس منٹ میں ایک کاروبار شروع کیا جو شفٹ فور کی جانب لگ گیا۔ انہوں نے 2009 میں ’میک اے ویش‘ پروگرام کے لیے پرواز کی رفتار کا ریکارڈ قائم کیا۔ انہوں نے ڈریکن انٹرنیشنل بھی قائم کیا جو جنگی طیاروں کا دنیا کا سب سے بڑا نجی فلیٹ ہے۔ 

ان کا میمفس میں سینٹ جوڈ ہسپتال کو 10 کروڑ ڈالرز دینے کا فیصلہ اب تک کسی بھی شخص کی جانب دی جانے والی سب سے بڑی رقم ہے۔ سینٹ جوڈ کے فنڈ ریزنگ ادارے کے صدر رک شیڈیئک نے کہا: ’ہم روز خود کو چٹکی بھرتے ہیں۔‘

سپیس ایکس کے لیے ٹریننگ کے ساتھ ساتھ آئزک مین اپنے عملے کو کوہ پیمائی پر بھی لے کر جانا چاہتے ہیں، اس کا مقصد عملے کے ساتھ وہی ترجربہ کرنا ہے، جو ان کا سب سے مشکل ترین تھا جب انہیں موسم سرما میں ایک پہاڑ پر کیمنگ کرنی پڑی۔  انہوں نے کہا: ’لانچ سے پہلے ہم سب ایک دوسرے کو بہت اچھی طرح جان لیں گے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی