رہا کیے گئے 90 فیصد طالبان دوبارہ میدان جنگ میں: افغان وزیر خارجہ

افغان وزیر خارجہ محمد حنیف اتمر نے الزام عائد کیا ہے کہ طالبان دوحہ معاہدے کی تین اہم شقوں کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، جن میں القاعدہ اور دوسرے عالمی دہشت گرد گروہوں سے تعلقات قائم کرنا بھی شامل ہے۔

ابراہیم تہرانی حال ہی میں طالبان وفد کے رہنما عبدل الغنی برادر کے دورہ تہران کے بعد افغانستان پہنچے ہیں (وزارت خارجہ امور)

افغانستان کے وزیر خارجہ محمد حنیف اتمر نے طالبان پر دوحہ امن معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان نے حکومت کی جانب سے آزاد کردہ 90 فیصد طالبان قیدیوں کو دوبارہ میدان جنگ میں اتار دیا ہے۔

انہوں نے یہ بیان افغانستان کے لیے ایران کے نمائندہ خصوصی محمد ابراہیم تہرانی کے ساتھ ملاقات میں دیا۔ گذشتہ سال 29 فروری 2020 کو دوحہ میں ہونے والے امن معاہدے کے تحت افغان حکومت نے پانچ ہزار طالبان قیدیوں کو رہا کیا تھا لیکن انہیں دوبارہ میدان جنگ میں جانے سے روکنا بنیادی شرائط میں شامل تھا۔ طالبان نے یہ وعدہ افغان حکومت اور امریکہ سے کیا تھا۔

حنیف اتمر کا کہنا ہے کہ طالبان اس معاہدے کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

ایرانی نمائندہ خصوصی کے ساتھ ان کی ملاقات میں اتمر کا کہنا تھا کہ ’طالبان معاہدے کی تین اہم شقوں کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ وہ اپنے 90 فیصد قیدیوں کو میدان جنگ میں واپس بھیج چکے ہیں، تشدد میں اضافہ کر چکے ہیں اور القاعدہ اور دوسرے بین الااقوامی دہشت گرد گروہوں سے ان کے تعلقات بھی قائم ہیں۔‘

ابراہیم تہرانی حال ہی میں طالبان وفد کے رہنما عبدل الغنی برادر کے دورہ تہران کے بعد افغانستان پہنچے ہیں۔ تہران میں عبدالغنی برادر نے ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف سمیت سینیئر ایرانی عہدیداروں سے ملاقات کی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق ملاقات کے دوران ایرانی وزیر خارجہ نے ایک ایسی اسلامی ریاست کی حمایت کا اعلان کیا جس میں تمام نسلی اور مذہبی گروہ شامل ہوں۔

تاہم افغان حکومت اس موقف کو ایرانی حکومت کی جانب سے افغانستان کی مرکزی حکومت کی حمایت کے موقف کے برخلاف سمجھتی ہے۔ 

ابراہیم تہرانی جو مبینہ طور پر طالبان کے دورہ ایران کی وضاحت کرنے افغانستان پہنچے ہیں، نے افغان وزیر خارجہ کو طالبان کے دورہ ایران کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا ملک اپنے مشرقی ہمسائے میں جنگ بندی کی حمایت کرتا ہے۔

انہوں نے افغان وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات میں انہیں آگاہ کیا کہ ایران کی طالبان کے حوالے سے پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور وہ اپنے ماضی کی حکمت عملی پر ہی عمل پیرا رہیں گے۔ ان عہدے داروں نے دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات اور افغان امن عمل پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا