پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کا سب سے ’تعلیم یافتہ‘ گاؤں

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے پسماندہ ضلح حویلی میں گاؤں جبی سیداں سے اس وقت شعبہ تعلیم میں کم و بیش 120 گزیٹڈ افسران اور 50 نان گزٹیڈ افسران ہیں جبکہ درجن بھر ڈاکٹر سمیت 100 کے لگ بھگ افراد دیگر سرکاری محکموں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اگرچہ تعمیر وترقی کے لحاظ سے پیچھے ہے لیکن تعلیمی اعتبار سے اس کا کوئی ثانی نہیں۔ شرح خواندگی کے لحاظ سے یہ پاکستان کے صوبوں سے آگے ہے۔ 

یہاں کے پسماندہ ترین ضلع حویلی میں واقع ’جبی سیداں‘ ایک ایسا گاؤں ہے جو تعلیمی قابلیت کے اعتبار سے دنیا کے تعلیم یافتہ علاقوں پر سبقت کا حامل ہے۔ 

اس گاؤں کو پاکستان بھر میں دو اعتبار سے منفرد مقام حاصل ہے۔ ایک تو یہاں کا تعلیمی تناسب 100 فیصد ہے اور دوسرا یہ کہ تعلیم کی بلند شرح کے ساتھ جرائم کی شرح صفر ہے۔

تقریباً اڑھائی سو گھرانوں پر مشتمل اس گاؤں میں مساجد کو گاؤں کی خواندگی میں مرکزی مقام حاصل ہے۔ یہاں چھ مساجد اور ایک مدرسہ موجود ہے۔ ایک جامعہ مسجد ہے جو کہ ضلع بھر کی قدیم جامعہ مسجد سمجھی جاتی ہے۔ 

دنیا بھر میں عام طور پر اور تیسری دنیا کے غریب ممالک میں خاص طور پر یہ بات دیکھی جا سکتی ہے کہ خواتین عموماً تعلیمی اور ملازمتوں کے میدان میں مردوں سے بہت پیچھے ہیں، لیکن  جبی سیداں میں خواتین بھی تعلیمی اور ملازمتوں کے میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں۔ گھر گھر میں ایم اے، بی ایڈ ، ایم فل اور ایم ایس سی کے مشکل مضامین کی ڈگری ہولڈر خواتین بھی موجود ہیں۔ مرد و خواتین کی اکثریت ملازمت پیشہ ہے اور ان ملازمین میں زیادہ تر شعبہ تعلیم سے منسلک ہیں۔

جبی سیداں سے اس وقت شعبہ تعلیم میں کم و بیش 120 گزیٹڈ افسران اور 50 نان گزٹیڈ افسران اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں جبکہ درجن بھر ڈاکٹر سمیت 100 کے لگ بھگ  افراد دیگر سرکاری محکموں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔

اس گاؤں کا یہ امتیاز بھی ہے کہ یہاں  40 حافظ قرآن اور علما مدارس اور مساجد میں تدریسی امور سرانجام دے رہے ہیں۔ گذشتہ اڑھائی سال میں ہونے والی پبلک سروس کمیشن کے تحت ضلعی کوٹہ کی 42 آسامیوں میں سے 29 آسامیوں پر اس گاؤں کے افراد کی تقرریاں ہوئیں جو یہاں کے مکینوں کی اعلیٰ تعلیم اور قابلیت کا ثبوت ہے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لائن آف کنٹرول پر واقع ہونے کے باعث جبی سیداں میں زندگی خوف کے سائے میں پروان چڑھتی ہے۔ یہ علاقہ تین اطراف سے لائن آف کنٹرول میں گھرا ہوا ہے جس کے باعث آئے روز بمباری ہوتی رہتی ہے۔

یہاں زندگی اس اعتبار سے بھی کافی مشکل ہے کہ موسم سرما میں چار ماہ یہاں درجہ حرارت نکتہ انجماد کے اردگرد ہی رہتا ہے۔ اس کے ساتھ آدھے سے زیادہ گاؤں کو پختہ سڑک کی سہولت میسر نہیں ہے۔ 

 اس کے باوجود ضلع حویلی کے گاؤں جبی سیداں کا شمار پاکستان کے چند نمایاں دیہات میں ہوتا ہے۔

دلچسپ و حیران کن بات یہ بھی ہے کہ اس گاؤں میں کوئی ہائی سکول ہے نہ ہی مڈل سکول، بوائز اور گرلز کے لیے ایک ایک پرائمری سکول ہوتا تھا لیکن امتداد زمانہ دیکھیے اب یہ دونوں سرکاری سکول بھی عملاً بند ہو چکے ہیں۔ (ہائی سکول تقریباً تین کلومیٹر دور دوسرے گاؤں سولی میں ہے)۔ اس سب کے باوجود جبی سیداں کا بچہ بچہ نہ صرف زیور تعلیم سے آراستہ ہے بلکہ گاؤں کے سینکڑوں افراد برسرِ روزگار ہیں اور پاکستان  کےزیر انتظام کشمیر کے اعلیٰ سرکاری عہدوں پر بھی فائز نظر آتے ہیں۔

مرد و خواتین اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ کھیتی باڑی سے بھی منسلک رہتے ہیں۔ گریڈ 19 اور گریڈ 20 کے افسران تک گھر کے کام کاج خود کرتے ہیں۔ پھل دار درختوں اور سبزیوں کی افرائش کے علاوہ اپنے اپنے گھروں میں کم عمر بچے کو ناظرہ قرآن بھی خود پڑھاتے ہیں۔

جبی سیداں کے مکین مہمان نواز ہونے کے ساتھ سادہ طرز زندگی گزارنے والے عام سے لوگ محسوس ہوئے، جن سے مل کر اپنائیت کا احساس ہوتا ہے.

قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ اس گاؤں میں تمام گھرانوں کا تعلق سادات خاندان کے بخاری سلسلے سے ہے۔ سادات کے اس خاندان کی ایک شاخ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے علاقوں سری نگر اور کریڑی کے مقام پر بھی آباد ہے۔ وہاں بھی یہ خاندان تعلیمی، صحافتی اور سیاسی میدان میں نمایاں نظر آتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس