کرونا کیسز میں کمی: کیا بھارت نے وبا پر قابو پالیا ہے؟

ایک ارب 34 کروڑ کی آبادی والے اس ملک میں وائرس سے صحت یابی کی شرح دنیا میں بلند ترین میں سے ایک یعنی 97.31 فیصد ہے۔

بھارتی   وائرولوجسٹ شاہد جمیل کے مطابق بھارتی شہریوں کے اندر پائی جانے والی قوت مدافعت جو کہ مخصوص قسم کی ہے وہ کافی مضبوط ہے اور اسی وجہ سے اس وبا پر قابو پایا جا رہا ہے۔ (فائل تصویر: اے ایف پی)

بھارت میں کرونا (کورونا) کیسز کی تعداد میں ڈرامائی کمی واقع ہوئی ہے اور وزارت صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک ارب 34 کروڑ کی آبادی والے ملک میں وائرس سے صحت یابی کی شرح دنیا میں بلند ترین میں سے ایک یعنی 97.31 فیصد ہے۔

کرونا کی وبا کے آغاز سے ایک کروڑ نو لاکھ کیسز اور ایک لاکھ 50 ہزار اموات کے بعد بھارت میں کرونا کیسز کی تعداد میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے اور اب ملک میں صرف ایک لاکھ 39 ہزار 637 فعال کیسز اور ایک لاکھ 55 ہزار 732 اموات ہو چکی ہیں۔

گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھارت میں کرونا کے صرف 12 ہزار 194 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد سو سے کم رہی ہے جو رواں مہینے میں آٹھویں بار ہے۔ یہ ستمبر کے بالکل برعکس ہے جب بھارت میں روزانہ تقریباً ایک لاکھ کرونا کیسز سامنے آ رہے تھے۔

چین کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ آبادی والے ملک میں یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ماہرین اور کئی تحقیقی مقالوں میں مخدوش نظام صحت کے باعث کیسز کی تعداد میں بڑے اضافے کی پیش گوئی کی گئی تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں صورت حال کے بہتر ہونے کی کئی وجوہات ہیں لیکن بڑی وجہ ایک بڑی آبادی کا وائرس سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے، لیکن ماہرین نے انتباہ جاری کیا ہے کہ محکہ صحت کے حکام کو وائرس کی مختلف اقسام کے لیے تیار رہنا ہوگا۔

ملک کے ایک کلیدی وائرولوجسٹ شاہد جمیل نے دی انڈپینڈنٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس وائرس کی خاص بات یہی ہے کہ یہ بڑے شہروں میں جلدی پھیلتا ہے جو کہ گنجان آباد ہوتے ہیں اور لوگوں میں وائرس ایک دوسرے کو منتقل کرنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ یہ وائرس دیہی علاقوں میں سست رفتاری سے پھیلتا ہے۔ انہی مجموعی وجوہات کی بنیاد پر روزانہ سامنے آنے والے کیسز میں کمی آ رہی ہے کیونکہ شہروں میں لوگوں کی بڑی تعداد رہتی ہے جہاں وائرس تیزی سے پھیلتا ہے اور یہ لوگ پہلے ہی وائرس سے متاثر ہونے کے خدشے سے دوچار رہے ہیں۔‘

اتوار کو بھارتی وزارت صحت کا کہنا تھا کہ بھارت میں کرونا سے صحت یابی کی شرح دنیا میں بلند ترین میں سے ایک ہے یعنی 97.31 فیصد جبکہ ملک میں ہلاکتوں کی شرح دنیا میں کم ترین ہے۔

وزارت صحت کے مطابق ’یکم اکتوبر 2020 سے ملک میں کرونا کیسز سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد میں بڑی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ آج کرونا کیسز سے شرح اموات 1.5 فیصد سے بھی نیچے یعنی 1.43 فیصد ہے۔‘

بھارت میں اس وقت فعال کیسز ملک کے تمام کیسز کا صرف 1.26 فیصد ہیں اور نئے سامنے آنے والے 86.25 فیصد کیسز صرف چھ ریاستوں سے سامنے آئے ہیں۔

شاہد جمیل کے مطابق باقی وجوہات کے علاوہ ایک بڑی وجہ بھارت میں نوجوانوں کی بڑی آبادی کا ہونا بھی ہے، اس کے علاوہ دوسرے وائرس سے متاثر ہونے کا خدشہ بھی ایک وجہ ہے، جس سے ملک کو اس حوالے سے فائدہ ہوا ہے۔

مردم شماری کے مطابق بھارت کی نصف آبادی 25 سال سے کم عمر ہے یعنی اس عمر سے کم بھارت میں 60 کروڑ افراد موجود ہیں۔ سال 2019 میں ملک میں اوسط عمر 28 سال تھی جبکہ امریکہ اور برطانیہ میں یہ تعداد 38 اور 40 سال ہے۔

شاہد جمیل کا کہنا ہے کہ ’زیادہ نوجوان افراد جن میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں اور وہ معمولی انفیکشن سے جلد صحت یاب ہو جاتے ہیں، نے بھی بھارت کی مدد کی ہے اور تیسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ لوگ کسی ایسے علاقے میں رہتے ہیں جہاں کئی افراد دیگر دوسرے وائرسز کے خدشے کا شکار ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ بھارتی شہریوں کے اندر پائی جانے والی قوت مدافعت جو کہ مخصوص قسم کی ہے وہ کافی مضبوط ہے اور اسی وجہ سے اس وبا پر قابو پایا جا رہا ہے اور یہ سنگین صورت حال اختیار نہیں کر رہی، جس سے موت واقع ہو سکتی ہے۔

بھارت بھر میں معاشی مشکلات کے بعد، ریستوان، شراب خانے، دکانیں اور مارکیٹیں بند ہونے کے بعد کھل چکی ہیں۔ سکول بھی جزوی طور پر کھل چکے ہیں جبکہ کارخانوں میں بھی کام شروع ہو چکا ہے۔

انہوں نے حکام کو انتباہ کیا کہ دنیا بھر میں کووڈ کی مختلف اقسام کے خطرے کے بعد حکام کو اس حوالے سے ہوشیار رہنا ہو گا کیونکہ یہ صحت یابی کی صورت حال کو بدل سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ضروری نہیں ہے کہ وائرس کی یہ قسم بیرون ملک سے آئے۔ بھارت میں بھی اندرونی طور پر کوئی قسم سامنے آ سکتی جو تیزی سے پھیل سکتی ہے۔ ہم اس حوالے سے سستی کا مظاہرہ نہیں کر سکتے اور ہمیں ہر صورت حال کے لیے تیار رہنا ہو گا۔‘

بھارت نے اپنے سیرو سروے کے نتائج جاری کیے ہیں جس میں بھارتی آبادی میں اینٹی باڈیز کا جائزہ لیا گیا ہے۔ سروے رپورٹ میں سامنے آیا ہے کہ بھارت کی 21 فیصد سے زائد آبادی کرونا سے متاثر ہونے کے خدشے کا سامنا کر چکی ہے جو کہ 18 سال سے زائد عمر کے ہر پانچ بھارتی شہریوں میں سے ایک ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کا مطلب ہے کہ بھارت کی 30 کروڑ آبادی شاید کووڈ 19 سے پہلے ہی متاثر ہو چکی ہے جو کہ سرکاری طور پر رپورٹ کیے جانے والے اعداد و شمار سے بہت بڑی تعداد ہے۔

گلوبل ہیلتھ اینڈ پالیسی کے ریسرچر ڈاکٹر اننت بھان نے دی انڈپینڈنٹ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’حکومت کا اپنا سیرو سروے یہ ثابت کرتا ہے کہ ملک میں کرونا سے رپورٹ کردہ تعداد سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ حکومت کی اپنی تحقیق ثابت کرتی ہے کہ کرونا سے بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہوئے اور اس سے متاثر ہونے کے خدشے کا شکار ہوئے۔ یہ شاید جان بوجھ کر نہیں کیا جا رہا۔ بھارت جیسے ملک میں کرونا وائرس کے کیسز کی کم تعداد کی تصدیق ہونا یقینی ہے۔‘

بھان کے مطابق ملک میں صورت حال کافی گھمبیر ہے لیکن زندگی معمول پر آ چکی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ نئی پیش رفت کافی حوصلہ افزا ہے جو ملک میں طبی عملے کو جسمانی طور پر سکون فراہم کرے گی جو ہمہ وقت کام کر رہے ہیں لیکن اس وقت ہمیں ان لوگوں کے لیے احتیاط کرنی ہو گی جو باہر ہیں۔‘

بھارت میں 16 جنوری سے شروع ہونے والی ویکسینیشن مہم کے سست ردعمل سے بھی پہلے وائرس کے پھیلاؤ میں کمی واقع ہو رہی تھی۔ اس مہم میں سب سے پہلے طبی عملے کو ویکسین لگائی گئی تھی۔

ہفتے کو ان لوگوں کو ویکسین کی دوسری خوراک دی گئی تھی جنہیں اس ویکسینیشن مہم کے پہلے روز پہلی خوراک دی گئی تھی۔ رپورٹس کے مطابق دوسری خوراک کے لیے صرف چار فیصد افراد ویکسین لگوانے آئے۔ وزارت صحت نے آج ہی اعلان کیا ہے کہ مارچ کے اوائل سے 50 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے ویکسینیشن کا آغاز کر دیا جائے گا۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا