زندگی کے آثار کی تلاش: ناسا کا روبوٹ مریخ کی سطح پر اتر گیا

سات ماہ کے لمبے سفر اور  مریخ کی فضا میں داخلے کے ’دہشت سے بھرے سات منٹ‘ کے بعد ’پرسیویرنس‘ روور سرخ سیارے کی سطح پر اترنے میں کامیاب ہو گیا۔

امریکی خلائی ادارے ناسا کا روبوٹ روور کامیابی سے مریخ کی سطح پر اتر گیا ہے۔

نظام شمسی کے چوتھے سیارے کی خطرناک فضا میں داخل ہو کر ’دہشت سے بھرے سات منٹ‘ برداشت کرتے ہوئے ’پرسیویرنس‘ نامی روبوٹ آخر کار مریخ کی سطح پر اتر گیا۔

گاڑی نما یہ روبوٹ اب ماضی میں بسنے والے زندگی کے آثار ڈھونڈنے کے لیے سرخ سیارے کی سطح کی جانچ کرے گا۔ وہ ہیلی کاپٹر کی شکل میں کسی اور سیارے پر دنیا کی سب سے پہلی کنٹرولڈ پراوز بھی لانچ کرے گا اور مریخ پر انسانوں کے بسنے کے طریقوں پر بھی جانچ کرے گا۔

کیلی فورنیا میں ناسا کے جیٹ پروپلثن لیب میں مشن کنٹرولز سکرین پر دیکھتے رہے کہ کیسے ’پرسیویرنس‘ ان خود کو مریخ کی سطح پر اتارا۔ ان کو ’پرسیویرنس‘ سے مواصلات 11 منٹ کی تاخیر سے ملیں۔ آخر کار ریڈیو سگنلز سے تصدیق ہو گئی کہ روبوٹ جیزیرو کریٹر میں جا اترا ہے۔

یہ گہرا گڑھا پہلے ایک جھیل ہوتا تھا اور لینڈنگ کے لیے اس کا انتخاب اس لیے کیا گیا کہ یہاں ممنکہ طور پر زندگی پائی جاتی ہوگی۔

’پرسیویرنس‘ خلا میں تقریباً سات ماہ اور 30 کروڑ میل کا سفر طے کر کے مریخ کی سطح پر پہنچا۔ مریخ کی فضا میں داخلہ، سطح کی جانب اترنا اور لینڈ کرنے تک کے ’دہشت سے بھرے سات منٹ‘ اس کے سفر کا سب سے مشکل دور تھا۔

مگر اس سے وہ عمل بھی شروع ہوا جس کے تحت روبوٹ اب مریخ کی سطح کو جانچے گا، مٹی اور پتھروں کا معائنہ کرے گا اور انہیں سٹور کرے گا کہ ایک دن انہیں زمین پر واپس لایا جاسکے۔

اس لینڈگ کی ویب کاسٹ کے دوران ناسا کے سائنس کے لیے ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر تھومس زیربوچن نے کہا: ’یہ ایک نئے عہد کی شروعات ہے۔‘

’پرسیویرنس‘ اس ماہ مریخ پہنچنے والے تین خلائی مشنز میں سے ایک ہے۔ اس سے قبل متحدہ عرب امارات اور چینی خلائی ایجنسیوں کے خلائی جہاز بھی یہاں پہنچے ہیں۔

لینڈگ اس دو سالہ اور 2.7 ارب ڈالر کی لاگت کے میشن کا سب سے خطرناک حصہ تھا۔ مشن کا مقصد مائیکروبز کے ممنکہ فاسل ڈھونڈنا ہے جو تین ارب سال قبل مریخ پر بستے ہوں گے جب یہاں کا درجہ حرارت زیادہ تھا، پانی موجود تھا اور ماحول ممنکہ طور پر زندگی کے لیے سازگار تھا۔

سائنسدانوں کو اس کی بات کی امید ہے کہ انہیں قدیم تلچھٹ کے نمونوں میں زندگی کے آثار ملیں گے۔ ’پرسیویرنس‘ مریخ کے پتھروں میں سے نمونے نکال کر جمع کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جن کا بعد میں زمین پر تجزیہ کیا جائے۔ یہ پہلا ایسا موقع ہوگا کہ کسی اور سیارے سے ایسے نمونے جمع کیے گئے ہوں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اگلی دہائی میں مریخ پر بھجنے کے لیے دو اور مشن کی منصوبہ بندی کی گئی ہے جو ان نمونوں کو ’پرسیویرنس‘ سے لے کر زمین پر ناسا کی جانچ کے لیے واپس لائیں گے۔

جعمرات میں مریخ پر ’پرسیویرنس‘ کی لینڈنگ کرونا (کورونا) وبا سے تھکے اور وبا سے ہی پیدا ہونے والی معاشی مشکلات میں گھرے امریکہ کے لیے ایک اہم فتح ہے۔

ناسا کے سائنس دانوں نے 1965 میں مریخ کی جانب بھجے جانے والے 20 امریکی مشنز میں سے ’پرسیویرنس‘ کو سب سے زیادہ بلند نظر قرار دیا ہے۔ ان مشنز کا آغاز 1965 میں مرینر سپیس کرافٹ سے ہوا جو مریخ کے پاس سے گزرا۔

اس سے پہلے مریخ پر بھیجے جانے والے چار رووز کے مقابلے میں ’پرسیویرنسن‘ بڑا ہے اور اس میں زیادہ آلات ہیں۔ اس سے حاصل ہونے والی معلومات پہلے سے موجود معلومات میں اضافہ کریں گی جیسے کہ کیسے مریخ کی سطح پر پہلے پانی بہا کرتا تھا اور کیسے پانی سے بدلنے والے کاربن اور معدنیات، جنہیں زندگی کے ارتقا کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے، یہاں موجود تھے۔  

’پرسیویرنس‘ میں تجرباتی پراجیکٹس بھی ہیں جو آگے جا کر انسانوں کی جانب سے مریخ کی جانچ کرنے میں مددگار ہوں گے۔ اس میں ایک آلا ایسا بھی ہے جو  مریخ کے ماحول میں موجود کاربن ڈائی آکسائڈ کو خالص آکسیجن میں بدلتا ہے۔

انسانوں کے استعمال کے لیے کسی غیر زمینی ماحول سے کوئی قدرتی وسائل حاصل کرنے کا اپنی نوعت کا یہ باکس نما پہلا آلا مستقبل میں مریخ پر انسانی زندگی گزارنے کو ممکن بنانے کے ساتھ ساتھ خلابازوں کو واپس زمین پر لانے کے لیے رکیٹ کا ایندھن بنانے میں بھی کام آئے گا۔

’پرسیویرنس‘ میں ایک پروٹوٹائپ چھوٹا ہیلی کاپٹر بھی ہے جسے کسی دوسری سیارے پر پہلی پاوورڈ اور کنٹرولڈ پرواز کا تجربہ کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر یہ تجربہ کامیاب ہوا تو چار پاؤنڈ (1.8 کلوگرام) کے اس ہیلی کاپٹر کی مدد سے دور دراز دنیاؤں کی کم سطح پر سرویلنس کا موقع ملے گا۔

روور کا مریخ کی سطح پر اس طریقے سے اترنا خود ایک اہم کامیابی ہے کیونکہ یہ ایک ایسی جگہ ہے جسے سائنس دان دونوں پرکشش اور لینڈنگ کے لیے خاص طور پر خطرناک کہتے ہیں۔

روور کو لے جانے والا خلائی جہ نےاز مریخ کی فضا میں زمین پر آواز کی رفتار سے 16 گنا تیز کی رفتار سے پرواز کی۔ اس کا رخ ایسا رہا کہ اسے ایئروڈائنیمک لفٹ ملے سکے اور جیٹ تھرسٹر درسے راستے کا اندازہ لگا سکیں۔

آواز کی رفتار سے بھی تیز پیراشوٹ کھلنے سے جہاز کی نیچے اترنے کی رفتار میں کمی آئی۔ اس کے بعد رکٹ سے چلنے والی ’سکائی کرین‘ ویہکل لانچ کی گئی جو محفوظ لینڈنگ سپاٹ پر گئی، روور کو اس کی جگہ پر اتارا اور پھر دور ایک محفوظ سائٹ پر جا کر کریش ہوگئی۔

’پرسیویرنس‘ سے پہلے جانے والا روور ’کیوریوسٹی‘ 2012 میں مریخ پر لینڈ ہوا اور اب بھی فعال ہے۔ 2018 میں ایک جگہ رہنے والا لینڈر ’ان سائٹ‘، جسے مریخ کے اندرونی ماحول کو سٹڈی کرنے کے لیے بھجا گیا تھا، بھی فعال ہے۔

ناسا کی تین سیٹالائٹ سے ساتھ یوریپین سپیس ایجنسی  کی دو  سیٹالائٹ ابھی مریخ کے مدار میں ہیں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی سائنس