کیا لوگوں کے خواب میں جا کر انہیں پیغام دیا جا سکتا ہے؟

جن افراد پر تحقیق کی گئی ضروری نہیں کہ وہ بولیں بلکہ ان کے جوابات کو آنکھوں اور چہرے کے پٹھوں کی حرکت سے سمجھا جا سکتا ہے۔

(پکسابے)

ایک نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ خواب کے دوران لوگوں سے رابطہ کرنا، ان کا سوالات سمجھنا اور ان سوالات کا معقول جواب دینا ممکن ہے۔

امریکہ کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے مصنف کین پالر نے کہا کہ ’ہمیں پتہ چلا ہے کہ آنکھوں کی تیز حرکت والی نیند کے دوران لوگ تجربہ کرنے والے شخص کے ساتھ تعلق قائم اور گفتگو کر سکتے ہیں۔ ہم نے یہ بھی دکھایا ہے کہ خواب دیکھنے والے افراد سوالات سمجھنے کی صلاحیت، یاداشت سے کام لینے اور جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’بہت سے لوگ کہہ سکتے ہیں کہ ایسا ممکن نہیں ہوگا ۔ یہ کہ جب لوگوں سے سوالات پوچھے جائیں گے تو یا وہ جاگ جائیں گے یا جواب دینے میں ناکام رہیں گے اور یقینی طور پر سوال کو موڑے توڑے بغیر اس کا مطلب نہیں سمجھیں گے۔‘

محققین نے امریکہ، فرانس، جرمنی اور نیدرلینڈز میں ایسے 36 افراد سے رابطہ کرنے کی کوشش کی جنہیں خواب دیکھنے کے دوران اس بات کا علم تھا کہ وہ خواب دیکھ رہے ہیں۔ (اسے لوسڈ ڈریمنگ کہتے ہیں)

تحقیق کے بعض شرکا اکثر ایسے خواب دیکھتے تھے جبکہ کچھ  اس سے پہلے کبھی ایسی کیفیت سے نہیں گزرے تھے۔ محققین کے علم میں آیا ہے کہ ایسے افراد جو خواب دیکھ رہے تھے ان کے لیے ہدایات پر عمل کرنا، ریاضی کے بنیادی سوالات حل کرنا، سوالات کا ہاں یا نہ میں جواب دینا اور مختلف محسوسات میں تمیز کرنا ممکن تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جن افراد پر تحقیق کی گئی ضروری نہیں کہ وہ بولیں بلکہ ان کے جوابات کو آنکھوں اور چہرے کے پٹھوں کی حرکت سے سمجھا جا سکتا ہے۔

’کرنٹ بائیولوجی‘ نامی جریدے کے مطابق خواب دیکھنے والوں نے 158 سوالات پوچھے جانے کے وقت کے اعتبار سے 18.6 فیصد درست جواب دیا۔ مختلف لوگوں سے مختلف طریقے سے سوالات کیے گئے۔

’سائنس‘ نامی جریدے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کچھ لوگوں نے سوالات کو خواب کے حصے کے طور پر یاد کیا۔ ایک نے کار کے ریڈیو سے ریاضی کے سوالات سنے۔ ایک اور شخص نے محقق کو خواب میں مداخلت کرتے ہوئے یہ سوال کرتے سنا کہ آیا وہ ہسپانوی زبان بولتے ہیں۔

نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی میں ڈاکٹریٹ کی طالبہ اور تحقیقی دستاویز کی پہلی مصنفہ کیرن کنکولی کے بقول: ’ہم نے نتائج کو ایک جگہ رکھا کیونکہ ہم نے محسوس کیا کہ چار مختلف لیبارٹریوں نے چار مختلف طریقے استعمال  کیے اور ان سے جو نتائج حاصل ہوئے ان سے دوطرفہ رابطے کی حقیقت سے انتہائی قائل کرنے والے انداز میں تصدیق ہوئی۔‘

انہوں نے کہا کہ مستقبل میں خوابوں پر ہونے والی تحقیق میں ان طریقوں کو جاگتی حالت کے مقابلے میں حالت نیند میں کسی کے دماغ کا تجزیہ کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح خواب کے بعد کی رپورٹس جیسا کہ وہ مشینیں جو سونے والوں کو بعض خواب دکھا سکتی ہیں، کی تصدیق کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

عام لوگوں کے معاملے میں ان طریقوں کو ایسے افراد کے لیے کام میں لایا جا سکتا ہے جو نیند کے مسائل کا شکار ہوں یا انہیں ڈراؤنے خواب آتے ہوں۔

یونیورسٹی آف وسکونسن کے حسیات سے متعلق نیورو سائنس دان بنجامن بیئرڈ نے جریدے ’سائنس‘ کو بتایا کہ اس تحقیق نے نیند کی بنیادی تعریفوں کو چینلج کر دیا ہے۔

’یہ اس تصور کا ثبوت ہے اور یہ حقیقت ہے کہ مختلف لیبارٹریوں نے یہ تمام مختلف طریقے استعمال کیے تاکہ ثابت کیا جا سکے کہ اس قسم کا دوطرفہ رابطہ ممکن ہے۔ اس طرح اس تصور کو تقویت ملی ہے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق