قاضی عیسیٰ نظرثانی کیس: ’چیف جسٹس چاہیں تو لارجر بینچ بنا سکتے ہیں‘

سپریم کورٹ کے چھ رکنی بینچ نے نظرثانی کی اپیل پر لاجر بینچ کی تشکیل کے لیے جسٹس فائز عیسیٰ کی جانب سے دائر درخواستوں کو سننے کے لیے چیف جسٹس کو بھجوا دیں۔

19 جون 2020 کو سپریم کورٹ کے 10 رکنی بینچ نے مختصر فیصلے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کالعدم قرار دیا تھا (سپریم کورٹ)

سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسٰی نظرثانی کیس میں بینچ کی تشکیل کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ لارجر بینچ تشکیل دینے کا اختیار چیف جسٹس آف پاکستان کے پاس ہے اور وہ چاہیں تو نظرثانی درخواستوں پر لارجر بینچ بھی بنا سکتے ہیں۔

چھ رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے بینچ کا محفوظ شدہ فیصلہ پیر کو سناتے ہوئے جسٹس فائز عیسیٰ نظرثانی درخواستیں سننے کے لیے بنیچ کی تشکیل کے لیے چیف جسٹس کو بھجوا دیں۔

عدالت نے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ عمومی طور پر فیصلہ دینے والا بینچ ہی نظرثانی درخواستیں سنتا ہے۔ نظرثانی بینچ میں فیصلہ تحریر کرنے والا جج لازمی شامل ہوتا ہے۔ تاہم فیصلہ تحریر کرنے والا جج دستیاب نہ ہو تو حکم نامے سے اتفاق کرنے والا جج بینچ میں شامل ہوتا ہے۔

تاہم چھ رکنی لارجر بینچ میں شامل جسٹس منظور احمد ملک نے فیصلے سے اختلاف کیا ہے اور کہا کہ وہ نظرثانی درخواستوں کے فیصلے پر اختلافی نوٹ لکھیں گے۔

یاد رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے خلاف صدارتی ریفرنس کیس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، ان کی اہلیہ سرینا عیسیٰ سمیت مختلف بار کونسلز نے نظر ثانی درخواستیں دائر کی تھیں۔ نظر ثانی درخواستوں میں چھ رکنی لارجر بینچ کے بجائے دس ررنی لارجر بینچ تشکیل دینے کی استدعا کی گئی تھی۔

نظرثانی درخواست میں کیا موقف تھا؟

صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی درخواست میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے موقف اپنایا تھا کہ سرکاری عہدے داروں نے ان کے اور ان کے اہل خانہ کے خلاف پروپیگینڈا مہم چلائی۔ یہ انہیں ایف بی آر کی رپورٹ فراہم کی گئی اور نہ اہلیہ کو کوئی رپورٹ فراہم کی گئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے درخواست میں ایف بی آر کی رپورٹ میڈیا کو لیک کرنے پہ بھی اعتراض کیا اور کہا کہ ایف بی آر رپورٹ بھی ریفرنس کی مانند گمراہ کن پروپیگینڈا کے لیے میڈیا کو لیک کی گئی جس سے وہ اور ان کی اہلیہ متاثر ہو سکتے ہیں۔

نظرثانی درخواست میں استدعا کی گئی کہ 19 جون 2020کو جاری ہونے والے فیصلے کے پیرا گراف 2 تا 11 پر نظر ثانی کر کے واپس لیا جائے۔ درخواست کے مطابق 19 جون کے فیصلہ سے عدلیہ کی آزادی کو ایگزیکٹو کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے اور ایسا کرنا آئین کے خلاف ہے۔

درخواست میں قاضی فائز عیسیٰ نے مطالبہ کیا کہ جسٹس مقبول باقر، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس یحیٰی آفریدی کو بھی نظرثانی درخواست کے لارجر بینچ کا حصہ بنایا جائے اور درخواست کی سماعت ٹی وی پر لائیو نشر کرنے کا حکم دیا جائے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ فیصلہ

واضح رہے کہ 19 جون 2020 کو سپریم کورٹ کے 10 رکنی بینچ نے مختصر فیصلے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کالعدم قرار دیتے ہوئے اسے خارج کر دیا تھا۔ اس کے بعد173 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ 23 اکتوبر کو جاری ہوا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کالعدم قرار دینے کے لیے سات ججز کا فیصلہ متفقہ تھا جبکہ جسٹس فیصل عرب نے اضافی نوٹ لکھا اور جسٹس یحییٰ آفریدی نے اختلافی نوٹ۔

اس تفصیلی فیصلے پر بینچ کے دو ارکان جسٹس مقبول باقر اور جسٹس منصور علی شاہ کے دستخط بھی موجود نہیں تھے۔  

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان