ٹرمپ نے اپنی مدت صدارت میں کتنے پیسے کمائے؟

ٹرمپ کی مدت صدارت کے دوران اکثر دیکھا گیا کہ ان کی آمدن کا بڑا حصہ گروپ کی ملکیت زیادہ معروف اثاثوں سے حاصل کیا گیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی مدت صدارت کے دوران اکثر دیکھا گیا کہ ان کی آمدن کا بڑا حصہ گروپ کی ملکیت زیادہ معروف اثاثوں سے حاصل کیا گیا (اے ایف پی)

امریکہ میں کاروباری اخلاقیات اور احتساب کے نگران سرکاری ادارے ’سٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھک‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی مدت صدارت کے دوران 1.6 ارب ڈالرز کمائے۔

سابق صدر کی آمدن سے متعلق تفصیلات دیکھنے کے بعد گروپ نے دعویٰ کیا کہ یہ رقم اس آمدن کا چھوٹا سا حصہ ہے جو انہیں مدت صدارت کے دوران حاصل ہوئی جب کہ انہوں نے امریکی ٹیکس دہندگان کی رقم سے ملنے والی اپنی تنخواہ عطیہ کرنے کو بڑائی قرار دیا۔

کریو نے حساب کتاب لگایا ہے کہ 2020 میں کرونا (کورونا) وبا کی وجہ سے ہوٹلز کے کاروبار سے ہونے والی آمدنی میں بڑی کمی کے بعد بھی ٹرمپ نے تفصیل بتائی ہے۔ انہوں نے ٹرمپ آرگنائزیشن اور آمدن کے دوسرے بیرونی ذرائع سے مجموعی طور پر 1,613,583,013 ڈالرز کمائے۔

انہوں نے زیادہ سے زیادہ 1,790,614,202 ڈالرز کی آمدن کا بتایا لیکن یہ تفصیل مبہم ہے کیونکہ سالانہ آمدن میں بعض اثاثوں کو ’50 لاکھ ڈالرز سے زیادہ مالیت کا‘ ظاہر کیا گیا تھا۔ ٹرمپ آرگنائزیشن کے کاروباری ڈھانچے کا مطلب ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ جو آمدن بتائی گئی اس سے ٹرمپ کی ذاتی آمدن کے بارے میں پتہ چلتا ہو۔

ٹرمپ کی مدت صدارت کے دوران اکثر دیکھا گیا کہ ان کی آمدن کا بڑا حصہ گروپ کی ملکیت زیادہ معروف اثاثوں سے حاصل کیا گیا۔ ان اثاثوں میں ریاست فلوریڈا میں پام بیچ پر واقع لگژری نجی کلب ’ماراے لاگو‘، واشنگٹن ڈی سی میں دا ٹرمپ انٹرنیشنل ہوٹل، فلوریڈا کے علاقے ڈورل، نیو جرسی کے علاقے بیڈ منسٹر اور ورجینیا میں واقع ٹرمپ نیشنل کے گالف کورس شامل ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چار سال میں ان اثاثوں سے مبینہ طور پر 62 کروڑ ڈالرز کی آمدن ہوئی۔ کووڈ 19 کی وجہ سے پابندیاں عائد ہونے کے بعد سفر اور سیاحت میں کمی آئی جس سے ان اثاثوں سے ہونے والی آمدن کم ہو گئی۔

کریو کا مؤقف ہے کہ اس آمدن میں بڑا حصہ ان لوگوں کی طرف سے ادا کردہ رقم کا تھا جو ٹرمپ کے نام سے قائم عمارتوں میں قیام کر کے صدر کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتے تھے۔ ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومتی معاملات ان لوگوں کی متعین کردہ سمت میں چلائے گئے۔

ادارے نے سوال کیا کہ اب جب کہ آمدن کا سلسلہ رک گیا ہے تو اس صورت میں مستقبل میں کیا ہوگا۔ کریو کی رپورٹ اس وقت سامنے آئی ہے کہ امریکی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا جس کے تحت ٹرمپ پر لازمی ہوگا کہ وہ اپنے ٹیکس گوشوارے نیویارک میں پروسیکیوٹرز کے حوالے کریں۔

دی انڈپینڈنٹ نے اس رپورٹ پر تبصرے لیے ٹرمپ آرگنائزیشن سے رابطہ کیا ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ