امریکہ: کولوراڈو کے سپر سٹور پر فائرنگ، پولیس افسر سمیت 10 ہلاک

جائے وقوعہ سے مختصرکپڑوں میں ملبوس ایک سفید فام شخص کو ہتھکڑی لگا کر لے جاتے دیکھا گیا، حکام کے مطابق فائرنگ کرنے والے شخص کے مقصد کا تعین ابھی نہیں کیا جاسکا۔

یہ واقعہ پیر کو دوپہر کے بعد بولڈر کے علاقے میں کنگز سوپرز نامی سٹور پر پیش آیا  (تصویر: اے ایف پی)

امریکی ریاست کولوراڈو میں پولیس کے مطابق پیر کی دوپہر ایک مسلح شخص نے سپر سٹور پرفائرنگ کرکے 10 افراد کو ہلاک کر دیا جن میں ایک پولیس افسر بھی شامل ہیں۔

یہ واقعہ پیر کو دوپہر کے بعد بولڈر کے علاقے میں کنگز سوپرز نامی سٹور پر پیش آیا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق بولڈر پولیس کے سربراہ میرس ہیرلڈ نے پیر کی رات پریس کانفرنس میں بتایا کہ سپرمارکیٹ میں پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے میں 10 افراد ہلاک ہوئے، جن میں ایک پولیس افسر بھی شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہلاک والے 51 سالہ پولیس افسر کا نام ایرک ٹیلی ہے اور وہ 2010 سے بولڈر پولیس میں کام کررہے تھے۔

دوسری جانب بولڈ کاؤنٹی کے ڈسٹرکٹ اٹارنی مائیکل ڈوگھرٹی نے کہا ہے کہ متاثرہ افراد کے خاندانوں کو ابھی تک اطلاع دی جا رہی ہے، اس لیے متاثرین کے نام جاری نہیں کیے گئے۔

ڈوگھرٹی نے کہا: ’یہ ایک سانحہ بولڈرکاؤنٹی کا ڈراؤنا خواب ہے جس کے جواب میں ہمیں مقامی، ریاستی اور وفاقی حکام کا تعاون اور معاونت حاصل ہے۔‘

رپورٹس کے مطابق جائے وقوعہ سے ایک سفید فام شخص کو ہتھکڑی لگا کر لے جاتے دیکھا گیا، جن کی ٹانگوں پر خون لگا ہوا تھا۔ 

قانون نافذ کرنے والے حکام نے اخباروال سٹریٹ جرنل کو بتایا ہے کہ فائرنگ کرنے والے شخص کے مقصد کا ابھی تک تعین نہیں کیا جا سکا۔

بولڈر کے محکمہ پولیس کے کمانڈر کیری یاماگوچی نے کہا: ’جانی نقصان ہوا ہے۔ اس واقعے میں بہت سے لوگ مارے گئے ہیں اور مجھے یہ بتاتے ہوئے افسوس ہو رہا ہے کہ ان میں بولڈر پولیس کے ایک افسر بھی شامل ہیں۔‘

ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’عوام کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ہم نے ایک مشتبہ شخص کو تحویل میں لے لیا ہے جو واقعے میں زخمی ہوا اور ان کے زخموں کا علاج کیا جا رہا ہے۔‘

کمانڈر یاماگوچی نے مزید کہا کہ ’زخمی ہونے والے واحد شخص کے حوالے سے ہم آگاہ ہیں کہ وہ مشتبہ شخص ہیں۔ اس موقعے پر ہم کسی اور کے شدید زخمی ہونے کے بارے میں نہیں جانتے۔‘

عینی شاہدین نے کیا دیکھا؟

یوٹیوب پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں سپرسٹور کے اندرونی فرش پر ایک شخص کو دیکھا جا سکتا ہے جب کہ دو باہر زمین پر موجود ہیں۔ ویڈیو کے آغاز میں دو گولیاں چلنے کی آواز سنی جا سکتی ہے۔

اس سے پہلے ایک موقعے پر حکام نے لاؤڈ سپیکر پر اعلان کیا کہ ’عمارت کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے، آپ ہتھیار ڈال دیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

واقعے کے عینی شاہد ڈین شلر نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ہے کہ وہ سپرمارکیٹ سے نکلے ہی تھے انہوں نے گولیاں چلنے کی آواز سنی اور دیکھا کہ لوگ منہ کے بل زمین پرپڑے تھے۔ دو افراد پارکنگ لاٹ اور ایک شخص دروازے کے قریب تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ نہیں بتا سکتے کہ آیا ان لوگوں کی سانس چل رہی تھی۔

سارہ مون شیڈو نامی خاتون نے اخبار ڈینورپوسٹ کو بتایا کہ انہوں نے اپنے بیٹے کے ساتھ سٹرابیریز خریدیں، جس کے بعد فوراً انہیں دو گولیاں چلنے کی آواز سنائی دی۔ انہوں نے بیٹے کو نیچے جھکنے کے لیے کہا اور اس کے بعد دونوں نے دوڑ لگا دی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ انہوں نے باہر نکل کر دیکھا کہ ایک شخص پارلنگ لاٹ میں زمین پر موجود تھا۔

ایڈورڈز نامی شخص نے بتایا کہ پولیس کی گاڑی تیزی سے آئی اور پارکنگ ایریا میں زمین پر موجود شخص کے پاس آکررک گئی۔ انہوں نے کہا: ’ہمیں علم تھا کہ ہم اس شخص کے لیے کچھ نہیں کر سکتے۔ ہمیں جانا تھا۔‘

جیمزبینٹز نامی شہری نے بتایا کہ وہ گوشت خرید رہے تھے جب انہوں نے فائرنگ کی آواز سنی۔ انہوں نے سمجھا کہ غلطی سی گولی چلی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے مزید گولیاں چلنے کی آواز سنی۔ انہوں نے کہا: ’تب میں بھگدڑ میں آگے کی طرف تھا۔‘ جیمز کے مطابق وہ لوڈنگ ایریا سے چھلانگ لگا کر واپس پلٹے تا کہ وہاں سے نکل سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ نوجوان لوگ بڑی عمر کے افراد کی مدد کر رہے تھے۔

دوسری جانب کولوراڈو کے گورنر جیرڈپولس نے اپنی ٹویٹ میں کہا: ’بولڈر کے اپنے علاقے میں یہ واقعہ دیکھ کر، جس کے بارے میں بات نہیں کی جا سکتی، میرا دل ٹوٹ گیا ہے۔‘

امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے کہا ہے کہ ادارہ پولیس کی درخواست پر واقعے کی تحقیقات میں مدد کررہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری جین ساکی نے ٹویٹ میں بتایا ہے کہ صدر جوبائیڈن کو فائرنگ کے واقعے پر بریفنگ دی گئی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ