لینڈ سیٹلمنٹ اچھی بات لیکن چترال کے لوگ اس پر برہم کیوں ہیں؟

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ چترال میں پہاڑ، دریا اور جنگلات حکومت کے کھاتے میں ڈالے جا رہے ہیں اور عوام کو ان کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے۔

چترال میں لینڈ سیٹلمنٹ  گورنمنٹ کا پروجیکٹ ہے جو 2002 سے چلا آ رہا ہے(سید احمد علی شاہ)

پاکستان کے اکثر اضلاع میں لینڈ سیٹلمنٹ ایک عرصہ پہلے ہو چکی ہے لیکن چترال میں یہ کام تاخیر سے شروع ہو کر جب آخری مراحل میں پہنچا ہے تو مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت اس مسئلے پر عجلت کا مظاہرہ کر رہی ہے اور عوام سے ان کا حق چھینا جا رہا ہے۔

بیرسٹر اسد الملک نے اس معاملے پشاور ہائی کورٹ میں رٹ پیٹیشن اور حکمِ امتناع کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔ انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’لینڈ سیٹلمنٹ ایک اچھا کام ہے، لیکن اس کے نام پر چترال کے عوام کی زمینیں سرکار کے نام سے رجسٹرڈ کر دی گئی ہیں۔ چترال میں 1975 کے نوٹیفیکیشن کو بنیاد بنا کر سرکاری کھاتے میں ڈالا گیا ہے، حالانکہ یہ ایسی زمینیں ہیں جو ہم پہلے سے استعمال کرتے آئے ہیں۔‘

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ایسا ہی ایک نوٹیفیکیشن بلوچستان کے حوالے سے موجود ہے لیکن وہاں کے لوگوں نے بلوچستان ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کی اور پانچ رکنی لارجر بنچ نے عوام کے حق میں فیصلہ دیا۔ اسی طرح ہم بھی پشاور ہائی کورٹ مینگورہ برانچ دارالقضا میں رٹ پٹیشن دائر کر چکے ہیں۔‘ 

انہوں نے امید ظاہر کی کہ فیصلہ ان کے حق میں آئے گا۔ انہوں نے کہا، ’پاکستان کے دوسرے اضلاع میں ایسا کوئی کام نہیں ہوتا، یہ چترال کے عوام کے ساتھ زیادتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’دیر اور سوات میں بھی پہاڑ ہیں اس پر مقامی لوگ مکانات تعمیر کرتے ہیں، ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں، جب کہ چترال میں پہاڑ، دریا اور جنگلات حکومت کے کھاتے میں ڈالے جا رہے ہیں اور عوام کو ان کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے۔‘ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری طرف سیٹلمنٹ آفس کے ایک عہدےدار نے نام نہ بتانے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’یہ گورنمنٹ کا پروجیکٹ ہے جو 2002 سے چلا آ رہا ہے۔ یہ پروجیکٹ بہت لمبا چلا اور اس کے تحت زمیں کی پیمائش کرنا اور اصل حق داروں کا تعین کرنا ہے۔ اس سے قبضہ مافیا سے بچا جا سکتا ہے۔ یہ 1975 کے نوٹیفیکیشن کے تحت ہوا ہے۔ اس وقت کی ریاست چترال اور حکومت پاکستان کے درمیاں معاہدہ ہوا تھا، جس کے تحت پہاڑ، ریور بیڈز اور خود رو پودے اور بنجر زمینیں حکومت پاکستان کو دیے گئے تھے۔ ہمارا کام قانون کے تحت کام کرنا ہے۔ اس مسئلے ہمارے نمائندگان کردار ادا کر سکتے تھے، جو نہ کر سکے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’مسئلہ عوام کے تعاون کا فقدان تھا۔ جب پٹواری زمین کی پیمائش کے لیے جاتے تھے تو لوگ اپنی زمینیں نہیں دکھاتے تھے، تو پھر پٹواری کیا کرے؟ اس پروجیکٹ کے سست روی کی وجہ عوام کا تعاون کا نہ ہونا تھا اور اس وجہ سے زمین کی پیمائش میں غلطیاں بھی ہوئی۔ 31 مارچ 2021 کی آخری تاریخ ہے۔ اس دن سیٹلمنٹ کے کاغذات ڈی سی آفس میں جمع کرنا ہے۔‘

اس کیس میں وزیر اعلیٰ کے نمائندہ خصوصی اور رکن صوبائی اسمبلی وزیر زادہ کا کہنا ہے کہ ’ہم نے لینڈ سیٹلمنٹ کے مسلے پر تین ماہ کا وقت لیا ہے اور کمیشن کے لیے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سے بات کی ہے تاکہ لوگوں کی شکایات سننے کا موقع مل سکے، اور کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اگر یہ کام 1975 کے نوٹیفیکیشن کے مطابق ہوا تو عوام کا نقصان ہو گا۔ یہ کام کافی عرصے سے جاری ہے۔ اس وقت چترال کی قیادت سو رہی تھی، لیکن اب لوگوں کو پتہ چلا ہے تو وہ چیخ رہے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان