انسانی دماغ پہلی بار بغیر تار کے کمپیوٹر سے منسلک

سائنس دانوں نے کلینیکل ٹرائل میں ایک چھوٹا ٹرانسمیٹر استعمال کیا جو اسے کسی شخص کے برین موٹر کارٹیکس سے جوڑ دیتا ہے۔

(پکسا بے)

سائنس دانوں نے پہلی بار کسی تار کے بغیر کمپیوٹر کو انسانی دماغ سے کمانڈ دینے کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ ایک ایسی پیش رفت ہے جو فالج کے شکار افراد کے لیے امید کی کرن بن سکتی ہے۔

امریکہ میں براؤن یونیورسٹی کے محققین کا کہنا ہے کہ یہ نظام ’سنگل نیورون ریزولوشن اور مکمل براڈ بینڈ فیڈیلٹی‘ کے ذریعے دماغ سے سگنل کو کمپیوٹر تک منتقل کرنے کے قابل بناتا ہے۔

اسے ’برین گیٹ ٹیکنالوجی‘ کا نام دیا گیا ہے جس کے کلینیکل ٹرائل میں ایک چھوٹا ٹرانسمیٹر استعمال کیا گیا جو اسے کسی شخص کے برین موٹر کارٹیکس سے جوڑ دیتا ہے۔

سائنسی جریدے ’آئی ای ای ای ٹرانزیکشنز آن بائیو میڈیکل انجینیئرنگ‘ کی رپورٹ کے مطابق فالج کے مرض میں مبتلا افراد پر مشتمل شرکا نے آزمائشی طور پر اس نظام کا استعمال ٹیبلٹ کمپیوٹر کو کنٹرول کرنے کے لیے کیا۔

ٹرائل کے دوران شرکا اسی طرح کی ٹائپنگ سپیڈ اور پوائنٹ اینڈ کلک کی درستگی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے جتنا وہ اسے وائرڈ سسٹم کے ذریعے کرسکتے تھے۔

براؤن یونیورسٹی میں انجینیئرنگ کے ایک اسسٹنٹ پروفیسر جان سمیرال نے کہا: ’ہم نے ثابت کیا ہے کہ یہ وائرلیس نظام عملی طور پر گولڈ سٹینڈرڈ والے وائرڈ سسٹمز کے مساوی کام کرتا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’سگنلز کو اسی طرح درست فیڈیلٹی کے ساتھ ریکارڈ کیا اور منتقل کیا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ ہم وہی ڈی کوڈنگ الگورتھم استعمال کرسکتے ہیں جن کا استعمال ہم وائرڈ آلات کے ساتھ کرتے ہیں۔

’فرق صرف اتنا ہے کہ لوگوں کو اب ہمارے آلات سے جوڑنے کے لیے تار کی ضرورت نہیں اور یہی خوبی اس نظام کے استعمال کے سلسلے میں نئے امکانات کھول دیتی ہے۔‘

یہ نیورل انٹرفیس ٹیکنالوجیز کی تیزی سے بڑھتی ہوئی فیلڈ میں جدید ترین پیش رفت کی نشاندہی کرتا ہے جس نے ایلون مسک اور فیس بک جیسی دیو قامت کمپنیوں اور ارب پتی شخصیات کو اپنی جانب راغب کیا۔

ایلون مسک نے حال ہی میں انکشاف کیا کہ ان کے ’نیورلنک‘ سٹارٹ اپ نے پہلے ہی ایک بندر کے دماغ پر وائرلیس چپ کا تجربہ کیا ہے جس کی مدد سے وہ ویڈیو گیمز کھیل سکتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تازہ ترین ٹرائل کے دو شرکا، جن کی عمریں 35 اور 63 تھیں، وہ ریڑھ کی ہڈی کی چوٹوں سے مفلوج تھے۔ انہوں نے لیبارٹری کی بجائے گھر پر رہتے ہوئے 24 گھنٹے تک مسلسل وائرلیس سسٹم کا استعمال کیا۔

نسبتاً آسانی سے استعمال ہونے کا مطلب یہ ہے کہ تربیت یافتہ ماہرین وائرلیس کنکشن گھروں میں قائم کرنے کے قابل تھے، اس سے کرونا وبا کے دوران بھی یہ مطالعہ جاری رہ سکتا ہے۔

براؤن یونیورسٹی کے انجینیئرنگ پروفیسر اور برین گیٹ کلینیکل ٹرائل کی سربراہی کرنے ولے محقق لی ہچ برگ کا کہنا ہے کہ ’اس سسٹم کی مدد سے ہم لمبے عرصے تک گھر میں دماغی سرگرمی کا اس طرح مطالعہ کر سکتے ہیں جو اس سے پہلے تقریباً ناممکن تھا۔

’اس سے ہمیں ڈی کوڈنگ کرنے والے الگورتھم ڈیزائن کرنے میں مدد ملے گی جس سے فالج کے شکار افراد کے لیے ہموار، فطری، قابل اعتماد مواصلات کی بحالی اور نقل و حرکت کی سہولت فراہم کی جا سکے گی۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق