امریکہ سے ملنے والے سکے تاریخی جرم کا معمہ حل کرسکتے ہیں

امریکی ریاستوں سے ملنے والے یمنی سکے زمین پر ہونے والے ایک قدیم جرم کا معمہ حل کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

(العربیہ)

امریکی ریاستوں سے ملنے والے یمنی سکے زمین پر ہونے والے ایک قدیم جرم کا معمہ حل کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

یہ سکے یمن میں سال 1693 میں تیار کیے گئے تھے۔ جرم کی تفصیل کے مطابق ایک انگریز قزاق نے مکہ سے حج کر کے واپس جانے والے حاجیوں کے جہاز کو لوٹ لیا تھا جس کے بعد یہ قزاق دنیا کا مطلوب ترین مجرم قرار دیا گیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق لوٹے جانے والے اس جہاز میں سونے اور نقدی کی بڑی مقدار لدی ہوئی تھی۔ جہاز کو لوٹنے کے بعد اس قذاق نے غلاموں کی تجارت کا کاروبار شروع کر دیا تھا۔

لوٹے جانے والے یہ سکے امریکہ میں رہوڈ آئی لینڈ میں ایک پھلوں کے باغ اور نیو انگلینڈ کے علاقوں سے دریافت ہوئے ہیں۔

مشہور مورخ جم بیلی نے17ویں صدی کے ان سکوں کے ملنے کا انکشاف کیا جو مڈل ٹاؤن کی چراگاہ میں صحیح سالم حالت میں ملے۔

بیلی کے مطابق ’یہ ایک جرم کا خفیہ راز افشا کرنے کی ایک نئی تاریخ ثابت ہو گی۔‘

اس جرم کی کہانی سات ستمبر سال 1695 کو شروع ہوتی ہے جب ہنری ایوری کی قیادت میں ایک جہاز میں سوار قزاقوں نے گھات لگا کر گانجی سوائی نامی ایک بحری جہاز پر قبضہ کر لیا۔

یہ جہاز مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر کی ملکیت تھا۔ جہاز پر نہ صرف حج سے واپس آنے والے افراد سوار تھے بلکہ اس میں کروڑوں ڈالر مالیت کا سونا چاندی بھی لدا ہوا تھا۔

متعدد تاریخی روایات کے مطابق قزاقوں نے لوٹ مار پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انہوں نے ہندوستانی جہاز پر سوار مردوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور کئی افراد کو قتل کر دیا جب کہ خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بھی بنایا۔

بعد ازاں یہ قزاق الباہاما کے جزیروں کی سمت فرار ہو گئے جو اس وقت قزاقوں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ کی حیثیت رکھتے تھے۔

اس جرم کی خبر پوری دنیا میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی تھی یہاں تک کہ برطانیہ کے بادشاہ ولیم سوم بھی ہندوستان کے شدید دباؤ میں آ گئے تھے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے بھی ان قذاقوں کو پکڑنے پر بھاری انعامی رقم کا اعلان کیا تھا۔

جم بیلی کے مطابق آج بھی اگر گوگل پر پہلے عالمی تعاقب کے بارے میں تلاش کیا جائے تو اس کے نتیجے میں قزاق ہنری ایوری کا تعاقب ہی ظاہر ہو گا۔ اس وقت تمام لوگ اس قزاق کو تلاش کرنے کی کوشش میں لگے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مورخین سمجھتے ہیں کہ ایوری ہنری آخرکار 1696 میں آئرلینڈ چلا گئے تھا۔ تاہم مورخ بیلی نے واضح کیا کہ انہیں اور دیگر لوگوں کو ملنے والے سکوں کے ٹکڑے اس بات کی دلیل ہیں کہ ہنری نے پہلی مرتبہ امریکی نوآبادیاتی کالونیوں میں ٹھکانا بنایا تھا۔

ہنری اور ان کے ساتھیوں نے لوٹی جانے والی رقم اپنے اخراجات ادا کرنے کے لیے خرچ کی تھی۔

واضح رہے کہ دھات کے یہ پہلے سالم سکے سال 2014 میں مڈل ٹاؤن کے سویٹ بیری فارم میں سے ملے ہیں۔ بعد ازاں تحقیقات سے ثابت ہوا کہ یہ سکے سال 1693 میں یمن میں تیار ہوئے تھے۔

بیلی کے مطابق اس پیش رفت نے کئی سوالوں کو جنم دیا کیوں کہ امریکی قذاقوں نے آئندہ کئی دہائیوں تک بھی مشرق وسطی میں تجارت کے مقصد سے کوئی سفر نہیں کیا تھا۔

سال 2014 کے بعد سے اب تک محققین کو انہی سکوں کے مزید 15 ٹکڑے ملے ہیں۔ ان میں دس امریکی ریاست میسی چوسٹس، تین روڈ آئی لینڈ اور دو کونیٹیکٹ سے ملے ہیں جبکہ کچھ دیگر نمونے نارتھ کیرولینا ریاست میں ملے ہیں۔

مبہم ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوٹ مار کرنے والے قذاقوں نے فینسی نامی جہاز کو چھوڑنے کے بعد زہرہ البحر نامی ایک جہاز استعمال کیا تھا۔ یہ مشرقی ساحل پر سفر کرتا رہا اور پھر تقریباً 40 ’غلاموں‘ کے ساتھ 1696 میں نیو پورٹ (رہوڈ آئی لینڈ) پہنچا۔

یہ علاقہ 18ویں صدی میں شمالی امریکہ میں غلاموں کی تجارت کا مرکز تھا۔


بشکریہ: العربیہ

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق