ٹیکس یا مہنگی درآمدات: نئی گاڑیوں کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیوں؟

ملک میں کئی دہائیوں سے کام کرنے والی تین بڑی آٹو مینوفیکچر کمپنیوں کے علاوہ پانچ نئی کمپنیوں نے گاڑیاں متعارف کرائیں مگر مقابلے کی فضا کے امکان کے باوجود گاڑیوں کی قیمت میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔

کمپنیاں ڈالر کی روپے کے مقابلے میں کم ہوتی قدر کے باوجود اپنی گاڑیوں کی قیمت کم کرنے کو تیار نہیں (اے ایف پی)

پاکستان میں گذشتہ کئی سالوں سے امریکی ڈالر کی قدر میں اضافے کو وجہ بتاتے ہوئے نئی گاڑیوں کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہے۔

اس دوران ملک میں کئی دہائیوں سے کام کرنے والی تین بڑی آٹو مینوفیکچر کمپنیوں کے علاوہ پانچ نئی کمپنیوں نے گاڑیاں متعارف کرائیں مگر مقابلے کی فضا کے امکان کے باوجود گاڑیوں کی قیمت میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔

یہ کمپنیاں ڈالر کی روپے کے مقابلے میں کم ہوتی قدر کے باوجود اپنی گاڑیوں کی قیمت کم کرنے کو تیار نہیں جبکہ بکنگ کے وقت شرط رکھی جاتی ہے کہ ڈالر کا ریٹ بڑھنے کی صورت میں زائد قیمت وصول کی جائے گی۔

چیئرمین پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن سہیل بشیر رانا نے اس حوالے سے مئی 2020 میں ’پرافٹ ٹوڈے‘ کو بتایا تھا کہ ’جب ہم مقامی صنعت کی بات کرتے ہیں تو خام مال اور پارٹس ڈالر کی بڑھتی قدر کے باعث مہنگے ہو گئے ہیں۔‘ 

ویب سائٹ پاک وہیل کے سربراہ سنیل سرفراز منج نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں نے گذشتہ دو سال خاص طور پر کرونا لاک ڈاؤن کے بعد قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سب سے زیادہ اضافہ سوزوکی کمپنی نے 2019 میں لانچ کی گئی نئی آلٹو گاڑی پر کیا جس میں 50 فیصد اضافے کے بعد یہی گاڑی  نو لاکھ 90 ہزار روپے کی بجائے اب ساڑھے 14لاکھ روپے میں مل رہی ہے۔

ان کے مطابق پاکستان میں اب تین کی بجائے آٹھ کمپنیاں فعال ہیں مگر اس کے باوجود قیمتوں میں کمی اس لیے نہیں آرہی کہ کمپنیوں کا خیال میں یہاں لوگ زیادہ پیسہ دینے کو تیار ہیں تو قیمتیں کم کیوں کریں؟

’دوسرا جتنی زیادہ گاڑی کی قیمت ہوگی حکومت کو اتنا زیادہ ٹیکس ملے گا اس لیے کوئی روکنے کی کوشش نہیں کرتا۔‘

انہوں نے کہا کہ بڑی گاڑیوں کی نسبت چھوٹی گاڑیوں کی قیمتوں میں 40 سے 50 فیصد تک اضافہ ہوا مثلاً ٹویوٹا فورچونر 80-85 لاکھ سے 90-95 لاکھ تک گئی جو چھوٹی گاڑیوں کے مقابلے میں زیادہ اضافہ نہیں۔

’نئی گاڑیوں کی انوائس میں درج ہوتا ہے کہ ڈالر کی قیمت بڑھے گی تو خریدار کو رقم زیادہ دینا ہوگی مگر یہ ذکر نہیں ہوتا کہ ڈالر کی قدر کم ہوگی تو قیمت بھی کم ہوگی۔ اس بارے میں حکومت نے بھی کوئی قانون سازی نہیں کی اور نہ ہی صارفین کے حقوق کے تحفظ کا کوئی منصوبہ نظر آتا ہے لہٰذا کمپنیاں من مانی کرتی رہیں گی۔‘

سی ای او ٹاپ لائن موٹرسکیورٹیز محمد سہیل نے اس حوالے سے کہا کہ پہلے ایک تاثر تھا کہ تین بڑی کمپنیاں گٹھ جوڑ سے قیمتیں بڑھاتی ہیں۔

محمد سہیل کے مطابق جب 50 لاکھ کی گاڑی کمپنی سے نکلتے ہی 55 لاکھ کی فروخت ہوتی ہے تو کمپنیاں ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کو مد نظر رکھتے ہوئے قیمتیں کیوں کم کریں؟ گاڑیاں تو بلیک میں بک رہی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے خیال میں اس کا مستقل حل مقامی مینوفیکچرنگ ہے کیونکہ بھارت میں ماروتی گاڑی کم قیمت پر لاکھوں کی تعداد میں فروخت ہوئی تو غیر ملکی کمپنیوں کو بھی ریٹ مناسب رکھنا پڑا جبکہ یہاں ایسی صورتحال نہیں۔

انہوں نے کہا کہ قیمتوں میں اضافے کی وجہ یہ بھی ہے کہ جب کسی ملک میں مہنگائی ہوتی ہے تو اس کا اثر ہر چیز کی قیمتوں پر پڑتا ہے، دوسری جانب جب حکومت نے امپورٹس پر شرائط سخت کیں تو اس کا اثر کار ساز کمپنیوں پر بھی پڑا۔

ٹویوٹا کمپنی کے پاکستان میں سربراہ علی اصغر جمالی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ ان کی کمپنی نے گذشتہ ڈیڑھ سال کے دوران گاڑیوں کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا جس کا مقصد اپنے صارفین کا اعتماد حاصل کرنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ کا کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن جب ڈالر کا ریٹ بڑھا تھا تب بھی ان کی کمپنی نے قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا اور جو قیمت طے کی اسی پر گاڑیاں فراہم کیں۔

دوسری جانب وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے ٹیکسٹائل اینڈ انڈسٹریز عالیہ حمزہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت گاڑیوں کی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

عالیہ حمزہ کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے تین بڑی مینوفیکچر گروپ کی مینوپلی توڑ دی ہے چھ نئے گروپ جن میں کیا، ماسٹر، یونائیٹڈ، ہنڈائی، فوٹان اور ویگل جے ڈبلیو مینوفیکچرنگ شروع کر چکے ہیں اور مزید آ رہے ہیں۔

ان کے مطابق حکومت اس شعبہ میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ نئی پالیسی ’آٹو انڈسٹری ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پلان‘ سے چھوٹی گاڑیوں کی قیمتوں میں فوری کمی آئے گی یا ایک سطح پر برقرار رہیں گی اور یہ پالیسی گیم چینجر ثابت ہوگی۔‘

عالیہ حمزہ نے کہا کہ قیمتوں کا ایک معیار پیداوار میں اضافے اور ڈیمانڈ بڑھنے پر ہوتا ہے۔ ’جب یہ کمپنیاں پارٹس بھی یہاں بنائیں گی تو قیمتوں میں کمی آئے گی کمپنیوں کو مینوفیکچرنگ کی اجازت دینے سے بڑی کمپنیوں کو بھی گاڑیاں بیچنے کے لیے اشتہار دینے پڑ رہے ہیں۔‘

تاہم اگر گذشتہ ایک سال کے دوران گاڑیوں کی قیمتوں کا موازنہ کیا جائے تو مختلف شورومز سے جمع شدہ اعدادوشمار کے مطابق اگست 2020 میں ہنڈا سٹی مینول کی قیمت 23 لاکھ 27 ہزار روپے تھی جو ایک لاکھ 40 ہزار اضافے کے ساتھ اب 24لاکھ 67ہزار روپے میں بک ہو رہی ہے۔

اسی طرح ہنڈا سوک مینول پچھلے سال اگست میں 36لاکھ 49 ہزار کی تھی جو 98 ہزار اضافے کے ساتھ 37لاکھ 47ہزار روپے تک پہنچ گئی۔ سوزوکی کلٹس وی ایکس آر 17لالھ 45ہزار سے بڑھ کر 35ہزار کے اضافہ سے 17لاکھ 80ہزار کی ہوگئی۔

سوزوکی ویگن آر 35 ہزار اضافے کے ساتھ 16لاکھ پانچ ہزار سے 16لاکھ 40 ہزار تک جا پہنچی ہے۔

ٹویوٹا آلٹس گذشتہ سال اگست میں 33لاکھ نو ہزار سے 60ہزار اضافے کے بعد 33لاکھ 69 ہزار تک میں بک ہو رہی ہے۔ اسی طرح ٹویوٹا گرینڈے چند ماہ میں 36 لاکھ 79 ہزار سے تین لاکھ اضافے کے ساتھ 39لاکھ 79ہزار روپے تک پہنچ گئی۔

محمد سہیل کے خیال میں سپلائی اور ڈیمانڈ کے فارمولے کو مدنظر رکھتے ہوئے گاڑیوں کی قیمتیں ڈالر کی قدر میں مذید کمی کے باجود بھی نیچے جانے کا امکان نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت