چترال آنے والے مہمان پرندوں کی گولیوں سے تواضع

مقامی شکاری دریا کے قریب مصنوعی بندھ باندھ کر تین مہینوں میں خلاف قانون سینکڑوں بطخیں اور جنگلی فاختائیں مار ڈالتے ہیں۔

مہمان پرندے فروری سے اپریل تک بھارت سے سائبیریا اور موسم خزاں میں سائبیریا سے بھارت کا سفر کرتے ہیں(اے ایف پی فائل)

چترال میں شکاری چند مہینوں کے لیے یہاں کا رُخ کرنے والے مہمان پرندوں کی تواضع گولیوں سے کرتے ہیں۔

فروری سے اپریل تک اور پھر ستمبر سے دسمبر تک مختلف اقسام کی بطخیں چترال کا رُخ کرتی ہیں، جنہیں مقامی شکاری نشانہ بنانے کے لیے دریا کے قریب بڑی محنت سے مصنوعی بندھ باندھتے ہیں۔

شکاری ان مخصوص بندھوں میں طاق لگائے بیٹھتے ہیں اور جیسے ہی مہمان پرندے ان بندھوں میں اترتے ہیں وہ ان کا نشانہ بن جاتے ہیں۔

وہ مقررہ حد سے زیادہ شکار کر لیتے ہیں اور ایک شکاری تین میہنوں کے درمیان سینکڑوں کی تعداد میں بطخیں اور جنگلی فاختائیں مار ڈالتے ہیں۔

ایک شکاری نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ حکومت تین ہزار روپے میں ایک سال کا شوٹنگ لائسنس جاری کرتی ہے جس پر جنگلی فاختاؤں کا بھی شکار ہو سکتا ہے۔ شکار کی اجازت پانچ فروری سے 15 اپریل تک اور پھر 25 ستمبر 12 دسمبر تک ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 16 اپریل سے 24 ستمبر تک شکار پر پابندی ہوتی ہے۔ 

ڈی ایف او وائلڈ لائف چترال الطاف علی شاہ نے بتایا کہ تین ہزار روپے لائسنس فیس کے علاوہ شکار کے لیے کتا استعمال کرنے پر مزید 1500 روپے ادا کرنا ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا: ’اگر کوئی لائسنس کے بغیر شکار کرے تو جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ جرمانہ مختلف ہوتا ہے، کبھی کبھی کیس ڈی ایف او کے سامنے آتا ہے اور کبھی جج کیس سنتا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شکار کی حد سے متعلق انہوں نے بتایا کہ ایک لائسنس پر روزانہ 20 پرندے شکار کیے جا سکتے ہیں اور تمام اقسام کے پرندوں کے لیے ایک ہی لائسنس جاری ہوتا ہے۔

یہ پرندے فروری سے اپریل تک بھارت سے سائبیریا اور موسم خزاں میں سائبیریا سے بھارت کا سفر کرتے ہیں۔

شکاری نے مزید بتایا کہ ایک مصنوعی بندھ پر ڈیڑھ لاکھ روپے تک کا خرچہ آتا ہے۔

شکار کی مقررہ حد کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ لائسنس میں حد تو لکھی ہوتی ہے لیکن اسے کوئی نہیں پڑھتا اور نہ چیکنگ ہوتی ہے۔

چترال کے سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ طاہر الدین شادان کا کہنا ہے کہ علاقے میں موسمی پرندوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے جو قابل افسوس ہے۔

’اس موسم میں نابالغ بچے بندوق لے کر نکلتے ہیں۔ ان پر کوئی پابندی نہیں اور نہ ہی شکار کی کوئی حد مقرر ہے۔ اس موسم میں گولی لگنے کے واقعات بھی پیش آتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ پرندوں کی نسل کشی پر پابندی لگائے۔‘

چترال کے ایک اور رہائشی شہزادہ ادریس حیات کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ ’پرندوں کے قتل عام سے متعلق قوانین کو صحیح طریقے سے لاگو کرے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ چترال میں بطخوں کے شکار کے لیے بندھ باندھنے کے تناسب میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ ’چھوٹے پرندوں کی بھی نسل کشی کی جا رہی ہے جو قابل افسوس ہے۔ اس پر پابندی لگنی چاہیے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات