پشاور: عورت مارچ منتظمین و شرکا کے خلاف ایف آئی آر درج

عورت مارچ کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم گذشتہ ماہ سیشن جج شوکت اللہ کی جانب سے دیا گیا تھا۔

آٹھ مارچ 2021 کو اسلام آباد میں منعقدہ عورت مارچ  کے دوران شرکا نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے ہیں (فائل تصویر: اے ایف پی)

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کی ذیلی عدالت کی جانب سے گذشتہ ماہ سنائے گئے حکم کے بعد جمعرات (15 اپریل) کو عورت مارچ کی منتظمین اور شرکا کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی۔

عورت مارچ کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم سیشن جج شوکت اللہ کی جانب سے دیا گیا تھا۔

تھانہ شرقی میں درج کی گئی ایف آئی آر میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 295 اے اور سی شامل کی گئی ہیں، جو کہ مذہب سے متعلق ہیں۔ یہ دفعات لاگو ہونے کے بعد اگر جرم ثابت ہو جائے یا ملزم خود اقبال جرم کرلے تو  اسے سزائے موت، عمر قید، جرمانہ یا تینوں ایک ساتھ ہو سکتی ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو کو موصول ہونے والی ایف آئی آر کی تفصیلات کے مطابق: ’پشاور ہائی کورٹ کے پانچ وکلا نے رواں سال اسلام آباد میں منعقد ہونے والی عورت مارچ پر الزام عائد کیا تھا کہ منتظمین کی ہدایت و سرپرستی میں فحش و غیر اسلامی پوسٹرز کے علاوہ توہین مذہب کی گئی، جس سے سائلان سمیت مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے۔‘

ایف آئی آر میں مزید لکھا گیا ہے کہ ’یہ ایک قابل دست اندازی جرم ہے اور یہ کہ متعلقہ مواد سائلان نے پشاور کچہری کے احاطے میں دیکھے تھے۔‘

ایف آئی آر درج ہونے کے بعد درخواست گزار ایڈوکیٹ ابرار حسین نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ منتظمین اور شرکا کے نام بھی جلد ہی افشا کر دیں گے، جو مذکورہ بالا ریلی کا حصہ تھے۔

انہوں نے مزید بتایا: ’ان کا تعلق اسلام آباد اور لاہور سے ہے۔ ایف آئی آر کے بعد انہیں کسی بھی وقت گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ ہاں البتہ اگر یہ منتظمین اور شرکا مانتے ہیں کہ انہوں نے ایسا قصداً نہیں کیا اور انہوں نے معافی مانگ لی تو میں اپنا کیس واپس لے لوں گا۔‘

جب ایف آئی آرکے حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو نے عورت مارچ کی منتظمین سے رابطہ کیا تو ایک رضاکار نے اپنا نام طاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ لاہور کی ایک ذیلی عدالت نے آج ہی ایک تھانے کو ان کی درخواست کے بعد کارروائی نہ کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ اس طرح کی ایک درخواست انہوں نے پشاور کی عدالت میں بھی جمع کروائی تھی، تو پھر کیسے ان کے خلاف پولیس نے قانونی کارروائی کی ہے؟

 لیکن پشاور تھانہ شرقی پولیس کے مطابق انہیں عدالت کی جانب سے ایسا کوئی حکم نامہ نہیں ملا۔

جب اس حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو نے تھانہ شرقی سے رابطہ کیا تو محرر آفتاب عالم نے بتایا کہ ’ہمیں عدالت نے طلب کرکے تنبیہ کی کہ اگر آج ایک بجے تک ایف آئی آر درج نہیں کی گئی تو پولیس کے اس اقدام کو توہین عدالت سمجھا جائے گا۔‘

تھانہ شرقی پولیس کے مطابق، انہیں خیبر پختونخوا کی کسی عدالت کی جانب سے ایف آئی آر پر سٹے آرڈر کا حکم نامہ نہیں ملا اور ضلعی سطح پر سرکاری وکیل کی ہدایات پر انہوں نے عدالتی حکم کی پیروی کرتے ہوئے عورت مارچ کی منتظمین وشرکا کے خلاف پی پی سی قانون کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔

عورت مارچ کی منتظمین نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ انہوں نے اس معاملے پر اعلیٰ حکومتی عہدیداران سے مداخلت کی درخواست کرتے ہوئے یہ اپیل کی تھی کہ وہ عورت مارچ کو بدنام کرنے والے عناصر کے خلاف وفاقی اور صوبائی اداروں کے ذریعے  تحقیقات کریں اور انہیں قرار واقعی سزا دیں۔

واضح رہے کہ رواں سال آٹھ مارچ کو عورت مارچ کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی، جس میں خواتین کو مذہب اسلام، روایتی اقدار اور مذہبی شخصیات کے خلاف نعرے بازی کرتے سنا گیا، تاہم جب اس ویڈیو کا حقیقی ویڈیو سے موازنہ کیا گیا تو یہ ایک جعلی اور من گھڑت ویڈیو ثابت ہوئی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان