قومی اسمبلی میں قرارداد پیش، تحریک لبیک کا احتجاج ختم کرنے کا اعلان

کالعدم جماعت تحریک لبیک پاکستان نے قومی اسمبلی میں فرانسیسی سفیر کی بے دخلی سے متعلق قرارداد پیش کیے جانے کے بعد ملک کے مختلف علاقوں میں جاری احتجاجی دھرنے ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

(دھرنے کے شرکا اسمبلی میں قرارداد پیش ہونے کے بعد واپس جاتے ہوئے: اے ایف پی)

کالعدم جماعت تحریک لبیک پاکستان نے قومی اسمبلی میں فرانسیسی سفیر کی بے دخلی سے متعلق قرارداد پیش کیے جانے کے بعد ملک کے مختلف علاقوں میں جاری احتجاجی دھرنے ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

نامہ نگار ارشد چوہدری کے مطابق کالعدم تحریک لبیک کے نائب امیر مولانا شفیق امینی نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے چوک یتیم خانہ ملتان روڑ مرکزی دھرنے سمیت تمام احتجاجی دھرنے ختم کرنے کا باقائدہ اعلان کیا۔

مولانا شفیق امینی کا کہنا تھا کہ حکومت نے فرانسیسی سفیر کو نکالنے سے متعلق ’ٹی ایل پی کے مطالبہ پر پارلیمان میں قرارداد بھی پیش کر دی اور سعد حسین رضوی سمیت تمام گرفتار کارکنوں کی رہائی کا حکم دے دیا گیا ہے جس کے بعد ٹی ایل پی اپنے مقصد میں کامیاب ہوئی ہے تمام کارکنوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔‘

اس سے قبل منگل کو ہی کالعدم تحریک لبیک پاکستان سے مذاکرات کے بعد حکومت نے قومی اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کیا جس میں فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے بارے میں قرارداد پیش کی گئی۔ تاہم  پیپلز پارٹی نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔

اجلاس شروع ہوا تو وزیر مملکت علی محمد خان نے قومی اسمبلی کی معمول کی کارروائی معطل کرنے کی تحریک ایوان میں پیش کی جس پر ایوان نے قومی اسمبلی کی معمول کی کارروائی معطل کر دی۔

 رکن اسمبلی امجد علی خان نے ناموس رسالت کی قرارداد ایوان میں پیش کی۔ 

قرارداد کے تین اہم نکات یہ ہیں:

1.    فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکالنے کے مسئلہ پر بحث کی جائے۔
2.    تمام یورپی ممالک بالعموم اور فرانس بالخصوص کو اس معاملے کی سنگینی سے آگاہ کیا جائے۔
3.    تمام مسلم ممالک سے معاملے پر سیر حاصل بات کی جائے اور اس مسئلے کو اجتماعی طور پر بین الاقوامی فورمز پر اٹھایا جائے۔

 امجد علی خان نے اس معاملے پر  پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کی درخواست بھی کردی اور  وزیرپارلیمانی امورعلی محمد خان نےمعاملے پرپارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی بنانےکی تحریک پیش کی۔

ایوان نے خصوصی کمیٹی بنانے کی تحریک منظور کر لی جس پر اپوزیشن نے احتجاج کیا۔

 قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے ن لیگ کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ یہ قرارداد مشاورت سے لائی جانی چاہیے تھی، آپ نے قرارداد پیش کردی ہے، ہم اس پر غور کرکے آئیں گے، اس معاملے پر پورے ایوان پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے، ایک گھنٹہ دیں ہم قرارداد لے کر آئیں گے ،  جو قرارداد دیں گے اس پر بحث کرائیں گے۔

جمعیت علمائے اسلام کے رکن مولانا اسعد محمود نے کہا کہ ہنگامی اجلاس بلانا تھا تو اتنی زحمت بھی نہ کی کہ اپوزیشن کو اعتماد میں لیتے، آپ حکومت کے نہیں بلکہ ایوان کے اسپیکر ہیں،اسپیکر صاحب کا طرز عمل جانبدارانہ ہے،  حکومت کےہاتھ ہےکہ اپوزیشن سے مل کر متفقہ قرارداد لائے۔

وزیرمذہبی امور نورالحق قادری نے قومی اسمبلی میں اپنے بیان میں کہا کہ قرارداد کا ایک پس منظر ہے جس کا اشارہ کرچکا ہوں، تنظیم میں شامل لوگ پاکستان کے شہری ہیں، اس تنظیم کی بہت سی مذہبی جماعتوں نے حمایت کی ہے۔

قرارداد کا متن حسب ذیل ہے:

حزب اختلاف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہیں کرے گی۔ 

یہ اجلاس اس لیے اہم ہے کہ وزیر داخلہ شیخ رشید نے منگل کی صبح ایک ویڈیو بیان میں کہا تھا کہ حکومت آج ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کی قرارداد پیش کرے گی۔ اس بات کا اعلان کالعدم تحریکِ لبیک سے مذاکرات کے بعد ہوا تھا، اور وزیرِ داخلہ نے کہا تھا کہ اس کے جواب میں ’ٹی ایل پی کی جانب سے مسجد رحمت اللعالمین سمیت ملک بھر میں کیے جانے والے تمام دھرنے ختم کر دیے جائیں گے۔‘

لیکن پیپلز پارٹی نے اس اہم اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پیپلز پارٹی پنجاب کے جنرل سیکریٹری چوہدری منظور احمد نے انڈپینڈنٹ اردو سے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی نے منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسی دوران پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایک ٹویٹ کی ہے جس میں ان کا کہنا تھا: ’معاہدہ قومی اسمبلی کے سامنے نہیں لایا گیا۔ حکومت نے گلیوں میں کارروائی کی، لوگ مارے گئے، پانچ سو پولیس والے زخمی ہوئے، انٹرنیٹ بند ہوا، وزیرِ اعظم نے قومی اسمبلی میں بیان نہیں دیا، قومی اسمبلی کو اعتماد میں نہیں لیا۔ اب پی ٹی آئی قومی اسمبلی کے پیچھے چھپنا چاہتی ہے۔ یہ تمہارا گند ہے وزیرِ اعظم، اسے صاف کرو یا گھر جاؤ۔‘

اسی معاملے پر حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ن کے اسمبلی اراکین کا اپوزیشن چیمبر میں اجلاس تاحال جاری ہے جس میں وہ اسی اجلاس کے بارے میں اپنے موقف پر غور و خوض کر رہے ہیں، جب کہ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن بھی مسکم لیگ ن کے پارلیمانی پارٹی اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچ چکے ہیں۔

قومی اسمبلی کے اجلاس سے پہلے وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں تحریکِ انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بھی منعقد ہوا ہے۔

واضح رہے کہ ٹی ایل پی نے گذشتہ برس نومبر میں فرانس میں پیغمبر اسلام کے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے بعد ملک بھر میں احتجاج اور دھرنوں کے ذریعے فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ کیا تھا، جسے حکومت نے ایک معاہدے کے تحت منظور کر لیا تھا، جس کے لیے پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کیا جانا تھا۔

تاہم اس پر عمل درآمد نہ ہونے پر ٹی ایل پی نے رواں برس 20 اپریل کو احتجاج کی کال دی تھی، لیکن اس سے قبل ہی لاہور میں جماعت کے سربراہ سعد رضوی کو گرفتار کرلیا گیا۔ اس پر تحریک لبیک نے ملک بھر میں احتجاج کی کال دی، جس کے نتیجے میں ٹی ایل پی اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہو گیا، جس میں پولیس اہلکاروں سمیت کئی افراد جان سے جا چکے ہیں جبکہ متعدد زخمی بھی ہیں۔

اسی دوران وزارت داخلہ نے کابینہ کی منظوری سے تحریک لبیک پاکستان کو کالعدم جماعت قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست