کرونا ایمرجنسی: کیا پاکستان بھارت کو آکسیجن فراہم کرسکتا ہے؟

بھارت میں کرونا کیسز میں اضافے اور ہسپتالوں میں آکسیجن کے بحران کے بعد پاکستانی شہری حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ پڑوسی ملک کو آکسیجن فراہم کی جائے، لیکن کیا پاکستان ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟

بھارت میں اب تک دنیا بھر میں دوسرے نمبر  پر سب سے زیادہ یعنی ایک کروڑ 59 لاکھ سے زائد کرونا کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں  ( اے ایف پی)

بھارت کی مختلف ریاستوں میں کرونا وائرس کے کیسز میں اضافے اور ہسپتالوں میں آکسیجن کے بحران کے بعد جمعے کی صبح سے پاکستان میں ٹوئٹر پر ایک ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہا ہے، جس میں لوگ پیغام دے رہے ہیں کہ پاکستان کو اس بحران میں بھارت کی مدد کرتے ہوئے پڑوسی ملک کو آکسیجن فراہم کرنی چاہیے۔

اس خبر کو فائل کرنے تک اب تک 30 ہزار سے زائد صارفین ہیش ٹیگ  #Indianeedsoxygen  کے ذریعے حکومت سے بھارت کی مدد کا مطالبہ کرچکے ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے مابین تعلقات زیادہ تر کشیدگی اور سردمہری کا شکار رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی سیاسی مسئلہ سامنے آتا ہے تو پاکستانی اور بھارتی سوشل میڈیا صارفین ایک دوسرے  پر خوب تنقید کے نشتر چلاتے ہیں، تاہم اس مرتبہ یہ ہیش ٹیگ اس رویے سے ہٹ کر ہے اور اس میں انسانی ہمدری کی جھلک دکھائی دے رہی ہے۔

سینیئر صحافی عاصمہ شیرازی نے اس حوالے سے ٹوئٹر پر لکھا: 'میرا دل اپنے پڑوسیوں کے لیے دُکھتا ہے۔'

پاکستان مسلم لیگ ن کی  رکن اسمبلی حنا پرویز بٹ نے بھی اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ 'بھارت کے ساتھ باقی سارے معاملات اپنی جگہ لیکن میں پڑوسی ملک بھارت میں کرونا سے متاثرہ افراد کے لیے دعا گو ہوں۔'

ایک اور ٹوئٹر صارف شگفتہ حسین نے لکھا ہے کہ وہ وزیر اعظم عمران خان سے درخواست کرتی ہیں کہ حکومت پاکستان  انسانی ہمدردی کی خاطر بھارت کو امداد بھیج دیں کیونکہ ہم اسلام کے آخری پیغمبر کی امت ہیں، جنہوں نے انسانوں سمیت جانوروں پر بھی رحم کیا ہے۔

ٹوئٹر پر تو یہ ٹرینڈ کئی گھنٹوں سے جاری ہے، لیکن اسی اثنا میں پاکستان میں ایمبولینس کی سب سے بڑی سروس رکھنے والی ایدھی فاؤنڈیشن کی انتظامیہ نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے نام لکھے گئے خط میں بھارتی حکومت کو ایمبولینس کی سروسز دینے کی پیشکش کی ہے۔

مودی کے نام خط میں ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے لکھا ہے کہ انہیں افسوس ہے کہ بھارت اس طرح کے ایمرجنسی حالات سے گزر رہا ہے۔ فیصل ایدھی نے لکھا: 'ہمارے ساتھ میڈیکل ٹیکنیشنز، آفس سٹاف، ڈرائیورز  اور دیگر سپورٹنگ سٹاف موجود ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ بھارت کی حکومت ہمیں اپنے ملک میں داخل ہونے کی اجازت دے اور مقامی انتظامیہ ہمیں سپورٹ فراہم کرے۔'

بھارت میں آکسیجن کی قلت کیوں ہوئی؟

بھارت میں اب تک دنیا بھر میں دوسرے نمبر  پر سب سے زیادہ یعنی ایک کروڑ 59 لاکھ سے زائد کرونا کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ یہاں اموات کی تعداد ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد ہے۔

بھارت کو کرونا کے رواں تیسری لہر میں سب سے زیادہ ایمرجنسی کا سامنا کرنا پڑا، جہاں ہسپتالوں میں بستروں کی گنجائش نہیں ہے اور آکسیجن سپلائی میں مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

بھارت کی سب سے زیادہ متاثرہ ریاستوں میں مہاراشٹرا، کیرالہ، کرناٹکا، تمل ناڈو، اتر پردیش، چھتیس گڑھ، جھارکنڈ اور گجرات شامل ہیں، جہاں پر کرونا کے مثبت کیسز کی شرح بھارتی حکومت کے اعداد و شمارکے مطابق آٹھ سے 25 فیصد کے درمیان ہے۔ ان میں بعض ریاستیں آکسیجن کی کمی کا شکار ہیں کیونکہ وہاں پر ہسپتال زیادہ فاصلے پر واقع ہیں اور سپلائی وقت پر نہیں پہنچتی۔

یہاں ایک بات قابل ذکر ہے کہ بھارت کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق وہ موجودہ آکسیجن کی طلب کو پورا کر سکتا ہے تاہم انہیں آکسیجن کی سپلائی میں مشکل پیش آ رہی ہے۔

بھارتی وزارت صحت کی جانب سے مختلف کمپینوں کو 18 اپریل کو لکھے گئے ایک خط میں بتایا گیا کہ اس وقت بھارت میں جتنا آکسیجن پیدا ہوئی، اس کا 60 فیصد زیر استعمال ہے اور اس کا استعمال زیادہ ہونے کی توقع ہے۔

اسی خط (جس کی کاپی انڈپینڈنٹ اردو کے پاس میں موجود ہے ) میں لکھا گیا ہے کہ صنعتی زونز کو آکسیجن کی سپلائی معطل کی جائے تاکہ ہسپتالوں میں آکسیجن کی کمی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

'گیس ورلڈ' نامی ادارہ جو پوری دنیا میں آکسیجن کی طلب اور سپلائی پر نظر رکھتا ہے، کے مطابق بھارت میں سالانہ 65000 ٹن آکسیجن  پیدا ہوتی ہے، جس میں سے 70 فیصد سے زائد سٹیل کی صنعت اور 15 فیصد پیٹرو کیمیکلز سیکٹر  میں استعمال ہوتا ہے جبکہ 1700 ٹن آکسیجن روزانہ کی بنیاد پر میڈیکل کے شعبے میں استعمال ہوتی ہے، جب عام حالات ہوں۔

بھارتی محکمہ صحت کی جانب سے 15 اپریل کو جاری ایک پریس ریلیز کے مطابق بھارت روزانہ 7127 میٹرک ٹن آکسیجن پیدا  کرتا ہے جبکہ 12 اپریل کو روزانہ آکسیجن کی طلب 3842 میٹرک ٹن تھی، تاہم اب کچھ ریاستوں میں جہاں کرونا تیزی سے پھیل رہا ہے، میں آکسیجن کی روزانہ طلب چھ ہزار میٹرک ٹن سے بھی بڑح گئی ہے۔

گیس ورلڈ کے مطابق کرونا کے پھیلنے کے بعد بھارت میں 2020  میں آکسیجن  کی طلب 10 ہزار سے 12 ہزار ٹن روزانہ تھی جبکہ 2021 میں بھی یہ طلب اسی طرح رہنے کی توقع ہے۔

اسی ادارے نے بھارت میں آکسیجن کرائسز کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ اعدادو شمار سے پتہ چلتا ہے کہ بنیادی مسئلہ آکسیجن پیدا کرنے کا نہیں بلکہ آکسیجن کو ہسپتالوں تک پہنچانے کے لیے ضروری لاجسٹکس کا انتظام ہے۔

آکسیجن کو ایک مخصوس قسم کے ٹینک، جسے 'کرائیو جینک ٹینک' کہا جاتا ہے، میں سپلائی کیا جاتا ہے جبکہ اس کو سلینڈر کے ذریعے بھی ہسپتالوں میں پہنچایا جاتا ہے۔

لاجسٹکس کی اگر بات کی جائے تو ممبئی کی مشہور سلینڈر بنانے والی کمپنی ایورسٹ کانٹو سلینڈرز کی انتظامیہ نے میڈیا کو بتایا ہے کہ سلینڈرز کی طلب روزانہ کی بنیاد پر 10 ہزار ہے تاہم کمپنی روزانہ صرف دو ہزار سلینڈر بناسکتی ہے، کمپنی کے مطابق: 'اس سے زیادہ ہماری صلاحیت نہیں ہے کیونکہ ہم پہلے سے تیار نہیں تھے۔'

کیا پاکستان بھارت کو آکسیجن فراہم کر سکتا ہے؟

پاکستان میں بھی کرونا کی تیسری لہر کے دوران کیسز روز بروز بڑھ رہے ہیں۔ ملک میں 22 اپریل تک مجموعی کرونا کیسز کی تعداد ساٹھ لاکھ 78 ہزار سے  زیادہ ہے جبکہ مجموعی طور اب تک کرونا سے 16 ہزار اموات واقع ہوئی ہیں۔ ملک بھر میں 23 اپریل کو کرونا کے مثبت کیسز کی شرح تقریباً 11 فیصد ہے۔

ان کیسز کی بڑھتی ہوئے شرح کی وجہ سے ہسپتالوں میں آکسیجن کے مسائل بھی سامنے آرہے ہیں۔ پاکستان میں کرونا کے معاملات کو دیکھنے والے ادارے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے سربراہ  اسد عمر نے 19 اپریل کو ٹویٹ کی تھی کہ 'ہسپتال  کرونا کے مریضوں سے بھر رہے ہیں جبکہ انتہائی نگہداشت وارڈز میں، گذشتہ  سال جون کے مقابلے میں، جب کرونا کی شرح عروج پر تھی، مریضوں کی تعداد میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسد عمر نے لکھا تھا: 'ملک میں آکسیجن کی سپلائی دباؤ میں ہے اس لیے کرونا سے بچاؤ کے ایس او پیز پر عمل درآمد ضروری ہے۔'

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کے سربراہ اسد عمر نے اسی حوالے آج وزیر اعظم عمران کی سربراہی میں اجلاس کے بعد بتایا کہ ملک میں آکسیجن کی پیداوار کا 90 فیصد اب استعمال ہو رہا ہے جس میں 80 فیصد تک صحت کے شعبے میں استعمال ہو رہا ہے۔

اسد عمر نے یہ بھی بتایا کہ ہم سوچ رہے ہیں کہ اگر آکسیجن کی ضرور بڑھتی ہے تو اس کے لیے آکسیجن برآمد کرنے کا پلان بنائیں گے۔

گیس ورلڈ کے اندازے کے مطابق پاکستان میں میڈیکل آکسیجن کی طلب 110 ٹن روزانہ کی بنیاد پر  تھی جو 2020 میں تقریباً 500 ٹن روزانہ تک پہنچ گئی اور 2021 میں بھی اسی طرح رہے گی۔

ملک میں آکسیجن پیدا کرنے والی ایک بڑی کمپنی  کے ایک عہدیدار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا ملک میں کرونا کی موجودہ صورتحال میں حکومت کو یہ مشورہ نہیں دیا جا سکتا ہے کہ آکسیجن بھارت کو فراہم کریں۔انہوں نے بتایا: 'پاکستان میں کرونا کے کیسز روزانہ کی بنیاد پر بڑھ رہے ہیں اور خدانخواستہ اگر کیسز اسی حساب سے بڑھتے رہے تو ہمیں بھارت سے بھی سخت حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔'

مذکورہ عہدیدار نے انڈپینڈنٹ اردو کے ساتھ شیئر کیے گئے اعدادوشمار سے ثابت کیا کہ پاکستان موجود حالت میں اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ بھارت کو آکسیجن فراہم کرے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں کل ملا کر پانچ کمپنیاں ہیں، جو آکسیجن پلانٹ لگائے ہوئے ہیں اور جو آکسیجن ملک بھر کے صنعتی زونز سمیت ہسپتالوں کو فراہم کرتے ہیں۔

مذکورہ عہدیدار نے بتایا کہ 'ایک پرانی کمپنی جو تقریباً 160 ٹن آکسیجن یومیہ پیدا کرتی ہے، نے اپنی پوری آکسیجن سپلائی ہسپتالوں کے لیے شروع کر رکھی ہے اور صنعتی زونز کو بند کی ہوئی ہے۔'

'پاکستان میں روزانہ کی بنیاد پر اندازاً 500 ٹن آکسیجن پیدا ہوتی ہے، جس کا موجودہ حالات میں 70 فیصد ہسپتالوں کو سپلائی کیا جاتا ہے جبکہ اس سے پہلے یہ سپلائی 30 سے 40 فیصد تھی۔'

انہوں نے بتایا کہ 'آکسیجن فراہم کرنا اتنا آسان کام نہیں ہے اور پاکستان میں تو یہی پانچ کمپنیاں ہے، جن کے پاس اتنی صلاحیت نہیں ہے کہ اگر بھارت جسیے حالات پیدا ہوگئے تو مسئلہ گمبھیر ہو جائے گا۔ بھارت میں تو درجنوں کمپنیاں ہے اور وہاں کی صلاحیت بھی ہم سے زیادہ ہے لیکن چونکہ وہاں حالات سنگین ہوگئے ہے، اسی وجہ سے ان کو مشکلات کا سامنا ہے۔'

زیادہ پڑھی جانے والی صحت