سیزفائر معاہدے کے بعد بھارت کی جانب سے دوبارہ خلاف ورزی

تین مئی کی صبح ورکنگ باؤنڈری پر چاروا سیکٹر میں بھارت کی جانب سے فائرنگ کی گئی اور بھارتی بارڈرسیکورٹی فورسز نے چھوٹے ہتھیاروں اور مارٹرز سے بلا اشتعال فائرنگ کی جس کے بعد دفتر خارجہ نےبھارتی ناظم الامور کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا۔

(فائل فوٹو: اے ایف پی)

تین مئی کی صبح ورکنگ باؤنڈری پر چاروا سیکٹر میں بھارت کی جانب سے فائرنگ کی گئی اور بھارتی بارڈرسیکورٹی فورسز نے چھوٹے ہتھیاروں اور مارٹرز سے بلا اشتعال فائرنگ کی جس کے بعد دفتر خارجہ نےبھارتی ناظم الامور کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا۔

اس حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ نے بیان دیا کہ فائر بندی معاہدے کے بعد خلاف ورزی پرگزشتہ روز  پاکستان نے بھارتی  ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کیا اور احتجاجی مراسلہ اُن کے حوالے کیا گیا۔ جس میں لکھا گیا کہ بھارت حالیہ سیز فائر معاہدے کی پاسداری کرے اور مقامی آبادی کو نشانہ بنانا بند کرے۔ ترجمان دفترخارجہ نے مزید بتایا کہ بھارت کو اس کی جنگ بندی مفاہمت کا احترام کرنے کی ذمہ داری یاد کرائی گئی۔

جبکہ اس حوالے سے بھارتی میڈیا نے رپورٹ کرتے ہوئے دعوی کیا کہ بارڈر سیکیورٹی فورسز کی پیٹرولنگ پارٹی پر رام گڑھ سیکٹر جموں پر پنجاب رینجرز نے فائرنگ کی۔

پاکستان نے بھارتی میڈیا کے بیان کو سختی سے مسترد کر تے ہوئے کہا کہ خلاف ورزی بھارت کی جانب سے کی گئی جس کے بعد پاکستان کی جانب سے جوابی کارروائی کی گئی۔

واضح رہے کہ سیز فائر معاہدے سے قبل رواں برس دو فروری کو آخری خلاف ورزی لائن آف کنٹرول کے جنڈروٹ سیکٹر میں ہوئی تھی جس کے نتیجے میں چار سویلن زخمی ہوئے تھے اور اُس کے بعد پاکستان نے بھارتی ناظم الامور کو سمن کیا تھا۔

سیز فائر معاہدہ کیا تھا؟

رواں برس فروری کے آخر میں پاکستان بھارت ڈی جی ملٹری آپریشنز کی مشترکہ پریس ریلیز میں اعلان کیا گیا کہ دونوں ممالک نے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر فائر بندی کا معاہدہ کر لیا ہے اور اب دونوں جانب سے فائرنگ نہیں کی جائے گی۔

اس مشترکہ پریس ریلیز سے قبل پاکستان بھارت ڈی جی ملٹری آپریشنزکی ملاقات ہوئی تھی جس میں صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور بات چیت کی گئی تھی۔ پچیس فروری سے فائربندی کو قابل عمل قرار دیا گیا تھا۔ مشترکہ پریس ریلیز میں ہاٹ لائن برقرار رکھنے پر بھی زور دیا گیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

واضح رہے اقوام متحدہ کی قرارداد کی روشنی میں سب سے پہلے 2003 میں سیزفائر معاہدہ ہوا تھا۔ اُس کےبعد پھر خلاف ورزی کی روش چل نکلی۔ 2017 میں دوبارہ بات چیت کر کے فائر بندی کی کوشش کی گئی لیکن وہ بھی زیادہ عرصہ برقرار نہ رہ سکی۔

جبکہ سال 2019 میں پاکستان بھارت کشیدگی کے بعد سے لائن آف کنٹرول حالت جنگ میں تھی جس کے نتیجےمیں مقامی آبادی کے سینکڑوں شہری زخمی ہوئے اور کچھ جان سے بھی گئے۔ جبکہ سیکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی چل بسے۔

ڈیٹا کے مطابق سال 2020 میں بھارت کی جانب سے 3097 خلاف ورزیاں کی گئی تھیں جبکہ رواں برس جنوری سے دو فروری تک 175 سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیاں کی گئیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان