این اے 249: پیپلز پارٹی کے علاوہ تمام جماعتوں کا گنتی کا بائیکاٹ

صوبہ سندھ کے شہر کراچی کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 249 میں پیپلز پارٹی کے علاوہ دیگر تمام جماعتوں نے الیکشن کمیشن کے حکم کے مطابق ہونے والی ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا بائیکاٹ کر دیا ہے۔

(اے ایف پی/ فائل فوٹو)

صوبہ سندھ کے شہر کراچی کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 249 می پیپلز پارٹی کے علاوہ دیگر تمام جماعتوں نے الیکشن کمیشن کے حکم کے مطابق ہونے والی ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا بائیکاٹ کر دیا ہے۔

سوائے پیپلز پارٹی کے دیگر سیاسی جماعتوں نے فارم 45 پر تحفظات کا ظہار کیا ہے۔

مسلم لیگ ن کی جانب سے دوبارہ گنتی کی درخواست کے بعد آج جب ضمنی انتخاب میں حصہ لینے والی تمام جماعتوں کے ارکان ریٹرننگ آفس پہنچے اور گنتی کا عمل شروع ہونے لگا تو پیپلز پارٹی کے علاوہ دیگر جماعتوں کے امیدواروں نے نتائج تسلیم نہ کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے رجوع کرنے کا مطالبہ کیا۔

الیکشن میں حصہ لینے والی تمام جماعتوں کے نمائندے حلقہ این اے 249 میں آر او آفس میں موجود تھے جہاں آج ووٹوں کی دوبارہ گنتی ہونی تھی۔

حلقہ 249 میں 29 اپریل کو ہونے والے ضمنی الیکشن میں پیپلز پارٹی کے امیدوار قادر خان مندوخیل کامیاب قرار پائے تھے جبکہ مفتاح اسماعیل چند سو ووٹوں کے فرق سے دوسرے نمبر پر رہے تھے۔

جس پر دو مئی کو مفتاح اسماعیل نے الیکشن کمیشن سے رجوع کیا تھا۔ الیکشن کمیشن کے دو رکنی کمیشن نے اس حوالے سے حکم امتناع جاری کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ کمیشن درخواست سے مطمئن ہے اور یہ الیکشن کمیشن کی مداخلت کا کیس ہے۔

بعد میں چار مئی کو پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار اور رہنما مفتاح اسماعیل کی درخواست پر الیکشن کمیشن نے فیصلہ سناتے ہوئے پورے حلقے میں دوبارہ گنتی کرانے کا حکم دیا تھا۔

تاہم آج ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا عمل شروع ہونے سے قبل ہی امیدواروں نے الزام لگایا کہ جو پولنگ بیگ لائے گئے ہیں ان پر سیل موجود نہیں ہے اور وہ کھلے ہوئے تھے جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار قادر مندوخیل کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہے اور تمام بیگز پر سیل موجود تھی۔

امیدوارں کی جانب سے دوسرا اعتراض یہ کیا گیا ہے کہ انہیں فارم 45 اور 46 بھی نہیں دیے گئے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس موقع پر حلقے میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کرانے کی درخواست دینے والے مسلم لیگ ن کے امیدوار مفتاح اسماعیل نے صحافیوں نے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’آج بھی جب ہم نے مطالبہ کیا کہ کم از کم فارم پر دستخط تو دکھا دیں تو آر او نے کہا کہ فارم 46 نہیں دیں گے۔‘

مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ ’جب پہلا بیگ کھلا تو سیل نہیں تھا جس پر کہا گیا کہ سیل گر گئی ہوگی۔ ہم الیکشن کمیشن میں جائیں گے۔‘

ان کے مطابق جن جماعتوں نے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا بائیکاٹ کیا ہے ان میں متحدہ قومی موومنٹ، پاک سر زمین پارٹی، پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف پیپلز پارٹی، تحریک لیبک پاکستان اور آزاد امیدوار آر او آفس میں موجود رہے۔

دوسری جانب حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کو ایک درخواست بھیجی ہے جس میں این اے 249 میں ہونے والے ضمنی الیکشن کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

تحریک انصاف کے امیدوار امجد آفریدی نے اس موقع پر کہا کہ ہم نے درخواست دی ہے کہ ہمیں فارم 45 نہیں ملا جس کے بغیر ووٹوں کی دوبارہ گنتی ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم الیکشن کمیشن سے انصاف کی اپیل کر رہے ہیں،  بائیکاٹ کی درخواست ہم نے جمع کرائی ہے، حلقے میں پریذائیڈنگ افسر 95 فیصد محکمہ تعلیم سے لگائے گئے تھے اور الیکشن میں دھاندلی ثابت ہوئی ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست