اسرائیلی پولیس، فلسطینیوں کے درمیان جھڑپیں، 170 افراد زخمی

فرانس، جرمنی، اٹلی، سپین اور برطانیہ نے بیان میں اس حوالے سے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ بیت المقدس میں بڑھتی کشیدگی کے باعث ایسے اقدامات سے اجتناب کرے۔

بیت المقدس میں مسجد الاقصیٰ کے احاطے میں سینکڑوں فلسطینیوں اور اسرائیلی پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں 163 فلسطینی اور چھ پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

فلسطینیوں نے ان جھڑپوں میں ربڑ کی گولیاں اور سٹن گرینیڈ فائر کرنے والی پولیس پر جواب میں پتھراؤ کیا۔ الاقصیٰ اور مشرقی بیت المقدس کے دیگر علاقوں میں زخمی افراد کے علاج کے لیے فلسطینی ہلال احمر نے ایک فیلڈ ہسپتال کھول دیا ہے۔

اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ شام کی نماز کے بعد ’ہزاروں نمازیوں کے احتجاج‘ کی وجہ سے سکیورٹی فورسز کو ’نظم و ضبط بحال‘ کرنا پڑا۔

بیت المقدس میں حالیہ ہفتوں میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ فلسطینیوں کی جانب سے مقدس ماہ رمضان کے دوران پرانے شہر کے کچھ حصوں تک رسائی پر اسرائیل کی پابندیوں اور کئی فلسطینی خاندانوں کو اپنے گھر اسرائیلی آباد کرنے کے لیے خالی کرنے کے خلاف احتجاج بتایا جاتا ہے۔

امریکہ نے کشیدگی میں کمی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ زبردستی بے دخلی مشرقی بیت المقدس کی صورت حال کو مزید خراب کر سکتی ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی خبردار کیا ہے کہ جبری بے دخلی ’جنگی جرائم‘ کے مترادف ہوسکتی ہے۔

جمعہ کو بدامنی یوم القدس کے دن پیدا ہوئی جو اسرائیل مخالف ایران کی جانب سے فلسطین کی حمایت میں ریلیوں کا سالانہ دن تھا۔ اس میں خطے کے اکثریتی مسلم ممالک یہاں تک کہ پاکستان میں بھی ہزاروں افراد نے احتجاجی مارچ کیے۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے تازہ کشیدگی کے لیے اسرائیلی حکومت کو ’ذمہ دار‘ قرار دیا ہے اور اقصیٰ میں اپنے ہیروز کی مکمل حمایت کی۔

یہ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب مسلمان الاقصیٰ کے احاطے میں نے انتہائی حساس مقام پر رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو نماز ادا کرنے کے لیے جمع ہوئے۔

تازہ کشیدگی کئی دنوں کی خونریز جھڑپوں اور ہلاکتوں کے بعد سامنے آئی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ اس سے قبل جمعہ کو اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے مقبوضہ مغربی کنارے میں سالم بیس پر فائرنگ کے نتیجے میں دو فلسطینیوں کو ہلاک اور تیسرے کو زخمی کر دیا تھا۔

اسرائیل کی سرحدی پولیس کے ترجمان تامیر پیرو نے اے ایف پی کو بتایا کہ رائفلوں سے لیس فلسطینی حملہ آوروں نے اہلکاروں کی جانب دوڑنا اور فائرنگ شروع کر دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ افسران نے ’کنکریٹ بلاکس کے پیچھے پناہ لی اور جوابی فائر کیے،‘ جس میں دو حملہ آور ہلاک اور ایک شدید زخمی ہوا۔

بیت المقدس میں گذشتہ دو روز سے جاری کشیدگی کے بعد یورپی ممالک نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مغربی کنارے کے علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر روک دے۔

فرانس، جرمنی، اٹلی، سپین اور برطانیہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں اس حوالے سے اسرائیل پر زور دیا گیا ہے کہ وہ بیت المقدس میں بڑھتی کشیدگی کے باعث ایسے اقدامات سے اجتناب کرے۔

یاد رہے مغربی کنارے کے علاقے شیخ جراح میں موجود فلسطینی گھروں پر اسرائیلی آباد کاروں کے قبضے کے حوالے سے سماعت جلد متوقع ہے۔

ان قبضوں کو اسرائیل کی ایک عدالت کی حمایت حاصل ہے۔ فلسطینیوں کی اس علاقے سے بے دخلی کے خدشے کے باعث بیت المقدس میں شدید کشیدگی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یورپی اقوام کا کہنا تھا کہ ’ہم اسرائیلی حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے میں 450 گھروں کی تعمیر کے فیصلے کو واپس لیتے ہوئے مقبوضہ فلسیطینی علاقوں میں اپنی توسیع پسندی کی پالیسی کو ختم کرے۔ اگر اس فیصلے پر عمل ہوتا ہے تو یہ ایک مستحکم فلسیطینی ریاست کے قیام کے لیے نقصان دہ ہو گا۔‘

بیت المقدس میں یہودیت، مسیحیت اور اسلام تینوں مذاہب کے مقدس مقام موجود ہیں اور یہ شہر اسرائیل فلسطین تنازعے کا مرکز چلا آ رہا ہے۔

شیخ جراح کے علاقے میں بے دخلی کے شکار فلسطینیوں اور اسرائیلی آباد کاروں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس علاقے میں اسرائیلی پولیس اور فلسطینیوں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جمعرات کو دوسرے روز بھی جاری رہا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس وقت اس علاقے کو رکاوٹیں لگا کر بند کر دیا گیا جب ایک انتہا پسند اسرائیلی قانون ساز اتیمار بین گویر نے ایک آباد کار کے گھر کے باہر اپنا دفتر قائم کر لیا۔

انہیں عبرانی زبان میں ’یہ گھر ہمارا ہے‘ کے الفاظ کہتے ہوئے بھی سنا گیا۔

اسرائیلی قانون ساز کا کہنا تھا کہ ’میں یہاں اس لیے آیا ہوں کہ ہر شام بچوں اور خواتین پر حملے کیے جا رہے ہیں۔‘

اس تقریر کے بعد فلسطینی اور اسرائیلیوں کے درمیان ایک بار پھر جھڑپ ہوئی۔ اسرائیلی پولیس کے مطابق اس نے 15 افراد کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ پولیس نے ایک اسرائیلی شہری کی ملکیتی گاڑی کو جلائے جانے کی بھی تصدیق کی ہے۔

مظاہرے میں شریک 17 سالہ فلسطینی ابو سنینہ کا کہنا تھا کہ وہ نہیں جانتے اس گاڑی کو آگ کس نے لگائی ہے لیکن وہ چاہتے ہیں کہ اسرائیلی آباد کار یہاں سے واپس چلے جائیں۔

 ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ہماری زمین ہے۔ وہ یہاں کیوں آئے ہیں۔ وہ ہمیں ہماری زمین سے کیوں نکالنا چاہتے ہیں؟‘

ہلال احمر کا کہنا ہے کہ بدھ کو بھی اسرائیلی پولیس اور فلسطینیوں کے درمیان ہونی والی جھڑپ میں 22 فلسطینی زخمی ہوئے تھے جبکہ اسرائیلی پولیس کی جانب سے 11 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا