کیا حدیبیہ ریفرنس دوبارہ کھل سکتا ہے؟

وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ شریف خاندان کے خلاف اس کیس میں نئے ثبوت سامنے آئے ہیں جس کی بنا پر ریفرنس دوبارہ کھل سکتا ہے لیکن قانونی ماہرین اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟

حدیبیہ پیپر ملز کیس میں شہباز شریف اور نواز شریف مرکزی ملزم کی حیثیت رکھتے ہیں: فواد چوہدری (اے ایف پی)

‏وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے پیر کو کہا ہے کہ حدیبیہ پیپر ملز کا مقدمہ شریف خاندان کی ’کرپشن کا سب سے اہم سرا ہے۔‘

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس مقدمے میں شہباز شریف اور نواز شریف مرکزی ملزم کی حیثیت رکھتے ہیں۔

’جو طریقہ حدیبیہ میں پیسے باہر بھیجنے کے لیے استعمال ہوا اسی کو بعد میں ہر کیس میں اپنایا گیا، اس لیے اس کیس کو انجام تک پہنچانا از حد اہم ہے۔‘

فواد چوہدری نے اس معاملے پر مزید کہا کہ 'آج وزیر اعظم عمران خان کو قانونی ٹیم نے شہباز شریف کے مقدمات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔‘

’حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ حدیبیہ پیپر ملز کا مقدمہ نئے سرے سے تفتیش کا متقاضی ہے اور اس سلسلے میں متعلقہ اداروں کو نئے سرے سے تفتیش شروع کرنے کی ہدایات دی جارہی ہیں۔‘

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’حکومت کے پاس شریف برادران کے خلاف حدیبیہ پیپر ملز کے حوالے سے نئے ثبوت موجود ہیں جن کی بنیاد پر کیس کھولا جائے گا۔‘

کیا حدبییہ پیپر ملز ریفرنس سپریم کورٹ کے کالعدم قرار دینے کے بعد دوبارہ کُھل سکتا ہے کہ نہیں؟ اس حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو نے مختلف قانونی ماہرین سے رابطہ کیا۔

فواد چوہدری نے، جو پیشے کے اعتبار سے خود بھی وکیل رہ چکے ہیں، کہا کہ جب عدالت سول کیسز کالعدم قرار دے دے اور نظرثانی درخواست بھی خارج ہو جائے تو اُس میں مزید قانونی راستہ نہیں بچتا لیکن کریمنل کیسز میں اگر نئے ثبوت آئیں تو استغاثہ  تازہ درخواست دائر کر کے کیس کھول سکتی ہے۔‘

سابق جج اور سابق نیب پراسیکیوٹر شاہ خاور کے مطابق دوبارہ کیس کھولنے میں قانونی پیچیدگیاں ہیں۔ ’جب سپریم کورٹ نے حتمی فیصلہ سنا دیا تو اگر استغاثہ اُسی تفتیش کو لے کر آگے بڑھے گی تو سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہو گی اور توہین عدالت بھی ہو گی۔‘

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی بھی تحقیقاتی ایجنسی تفتیش دوبارہ شروع کرتی ہے تو ن لیگ اُن کے اوپر توہین عدالت کی درخواست دائر کر سکتی ہے۔

’ایک قانونی راستہ ہے۔ اگر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس خود بذریعہ رجسٹرار اس کیس کے فیصلے پر نوٹ لکھوائیں کہ اس کیس کے فیصلے میں کچھ ایسا ہے جس کو تبدیل ہونا ضروری ہے اور قانونی طور پہ اُس کا رہنا باقی کیسز کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے تو ایسی صورت میں اگر چیف جسٹس نظرثانی ازخود نوٹس لے لیں اور لارجر بینچ تشکیل دے دیں تو کیس دوبارہ کُھل جائے گا۔‘

پاکستان مسلم لیگ ن کا ردعمل

مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما پرویز رشید نے کہا کہ ‏'حدیبیہ پیپرز ملز کے مقدمات جنہیں اعلی ترین عدالتیں بھی دفنا چُکی تھیں۔ اُنہیں زندہ کرنے کی عمرانی کاوش گواہی ہے کہ ناکامیوں کے بوجھ کو انتقامی کارروائیوں کے پیچھے چھپانے کی روش جاری ہے- نواز شریف کو پھنسانے کے لیے اس کے بعد تو صرف ہابیل قابیل قتل مقدمہ ہی باقی بچتا ہے۔

ن لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ’حکومت کی ’غیرقانونی ٹیم‘ کیوں نہیں بتا رہی کہ حدیبیہ ریفرنس کو سپریم کورٹ قانونی طورپر ختم (کواش) کرچکی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ حدیبیہ کیس میں نئی تفتیش کے آغاز کا حکم دے کر عمران صاحب نے تسلیم کرلیا ہے کہ شہبازشریف کے خلاف تمام نیب کیس جھوٹے تھے۔

’ثابت ہوگیا کہ آشیانہ، صاف پانی، گندا نالا،ملتان و لاہور میٹروز، آمدن سے زائد اثاثوں کے سب کیس صرف سیاسی انتقام تھا۔‘

انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ نے ریفرنس کالعدم قرار دیا جس کے بعد نیب سپریم کورٹ گئی تو سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا'۔

واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے اکتوبر 2011 میں حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس پر نیب کو مزید کارروائی سے روکتے ہوئے  2014 میں ریفرنس خارج کر دیا تھا۔

اس کے بعد 2017 میں پانامہ پیپرز کیس کے دوران نیب نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ لیکن سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے حدیبیہ پیپرملز کا مقدمہ دوبارہ کھولنے کی درخواست یہ کہہ کر مسترد کردی تھی کہ درخواست زائد المعیاد ہے اور درخواست گزار تاخیر سے درخواست دائر کرنے کے حوالے سے عدالت کو مطمئن نہیں کرسکے۔

بعد ازاں نیب نے نظرثانی درخواست دائر کی جسے سپریم کورٹ نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ کیس کی دوبارہ تحقیقات نہ کرنے کے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے سے مطمئن ہیں۔

حدیبیہ کیس کیا ہے؟

حدیبیہ کا معاملہ تقریباً تین دہائی پرانا ہے۔ الزام یہ تھا کہ 1992 میں نواز شریف نے منی لانڈرنگ کے ذریعے رقم بیرون ملک بھیجی۔

2000 میں سابق صدر پرویز مشرف کے دور اقتدار میں ریفرنس دائر کیا گیا جس میں سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا اعترافی بیان شامل تھا۔

اعترافی بیان کے مطابق انہوں نے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے شریف خاندان کے لیے ایک کروڑ 48 لاکھ ڈالرز کی مبینہ منی لانڈرنگ کی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس ریفرنس میں نواز شریف اور شہباز شریف کے علاوہ مریم نواز، کیپٹن (ر) صفدر اور حمزہ شہباز کے بھی نام ہیں۔ بعد ازاں 2007 میں اسحاق ڈار اپنے بیان سے منحرف ہوگئے اور وجہ بیان کی کہ اعترافی بیان دباؤ کی وجہ سے دیا تھا۔

ریفرنس چلتا رہا لیکن نیب کی بھی ریفرنس میں عدم دلچسبی رہی جس پر ناکافی ثبوتوں کی وجہ سے لاہور ہائی کورٹ نے 13 سال بعد ریفرنس کالعدم قرار دے دیا۔

 2018 میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس کیس کے تفصیلی فیصلے میں لکھا کہ حدیبیہ ریفرنس کا مقصد ملزمان ( نواز شریف، شہباز شریف) کو دباؤ میں لانا تھا۔ ملزمان کو دفاع کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔ نیب نے ریفرنس کو غیر معینہ مدت تک زیر التوا رکھا ہے اور قانونی عمل کی نفی کی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان