جب ملزم نے جج کے سامنے تشدد میں استعمال ہونے والا ’چھتر‘ رکھا

پشاور میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت میں اس وقت دلچسپ صورت حال پیدا ہوگئی جب ایک مقدمے کی سماعت کے دوران ملزم نے جج کے سامنے اس پر مبینہ تشدد میں استعمال ہونے والا چھتر رکھ دیا۔

ملزم کے الزامات ایک طرف لیکن جیل کے اندر سے ملزم کا چھتر باہر نکال کر لے آنا جیل سکیورٹی انتظامات پر سوالیہ نشان ہے: جج (تصویر بشکریہ محمد طیب)

پشاور میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت میں بدھ کو اس وقت دلچسپ صورت حال پیدا ہوگئی جب ایک مقدمے کی سماعت کے دوران ملزم نے جج کے سامنے اس پر مبینہ تشدد میں استعمال ہونے والا چھتر رکھ دیا۔

جج سید اصغر علی کی عدالت میں یہ منظر اس وقت دیکھنے میں آیا جب وہ پشاور ہائی کورٹ کے احاطے میں ایک بم دھماکے میں ملوث ملزمان اکرام اللہ اور نعمت اللہ کے کیس کی سماعت کر رہے تھے۔

سماعت کے دوران ملزم نعمت اللہ کے وکیل جبکہ اکرام اللہ عدالت میں خود پیش ہوئے۔ اس مقدمے میں جج کے جاری آرڈر میں لکھا گیا ہے کہ اکرام اللہ نے عدالت میں پیش ہو کر بتایا کہ ان کو پشاور سینٹرل جیل میں جیل سپرٹنڈنٹ نے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا۔

ملزم اکرام اللہ بطور ’ثبوت‘ جیل سے اپنے ساتھ ایک چھتر بھی لے کر آئے تھے جس سے مبینہ طور پر ان کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

عدالت نے اپنے حکم نامے میں لکھا کہ ملزم نے مزید ثبوت کے طور پر جج کو اپنی قمیص اتار کر جسم پر تشدد کے نشانات بھی دکھائے۔

مقدمے کے مختصر آرڈر میں لکھا گیا چھتر ایک قسم کا ربر کے پٹے سے بنا آلہ ہوتا ہے جس کو مبینہ طور پر پولیس جیل اور تھانوں میں ’چھترول‘ (پٹائی) کے لیے استعمال کرتی ہے۔

جج سید اصغر علی نے اس ساری صورت حال پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کے الزامات ایک طرف لیکن جیل کے اندر سے ملزم کا چھتر باہر نکال کر لے آنا جیل سکیورٹی انتظامات پر سوالیہ نشان ہے۔

عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا: ’یہ ملین ڈالر سوال ہے کہ ایک ملزم نے، جو گذشتہ دو سالوں سے جیل میں ہے، کیسے چھتر کو جیل سے باہر نکال کر عدالت میں پیش کر دیا۔‘ 

جیل میں ناقص سکیورٹی پر وضاحت کے لیے عدالت نے جیل انتظامیہ کے افسران کو سماعت کے دوران طلب کر لیا۔

عدالتی آرڈر کے مطابق جیل سپرٹنڈنٹ عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ ملزم کے ساتھ جیل کے اندر موبائل فون اور نشہ آور اشیا پکڑی گئی ہیں اور اسی کو چھپانے کے لیے وہ خود پر تشدد کی بات کر رہے ہیں۔

تاہم بعد میں جیل سپرٹنڈنٹ نے جب ملزم اکرام اللہ کا لایا ہوا چھتر اور ان کے جسم پر تشدد کے نشان دیکھے تو عدالت میں معافی مانگ کر بتایا کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کریں گے۔ 

حکم نامے کے مطابق عدالت نے کہا کہ جیل سپرنڈنڈنٹ کی بات ایک طرف لیکن یہ صرف ایک جیل کا معاملہ نہیں بلکہ صوبے میں مختلف جیلیں موجود ہیں جہاں پر ایسے معاملات ہو سکتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عدالت نے کہا: ’جیل کے اندر کسی بھی قیدی پر تشدد معزز عدالت کی بے عزتی ہے کیونکہ یہ قیدی عدالتی حکم پر جیل حکام کے حوالے کیے جاتے ہیں اور جیل کے اندر ہر ایک قیدی کے حقوق کا خیال رکھنا قانونی تقاضہ ہے۔‘

عدالت نے بتایا کہ چونکہ یہ معاملہ صرف پشاور جیل تک محدود نہیں اس لیے عدالت نے صوبائی محکمہ داخلہ اور انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات کو حکم دیا کہ اس مخصوص کیس کی تفتیش سمیت عمومی طور پر اس قسم کے معاملات کے گائیڈ لائنز واضح کی جائیں تاکہ مستقبل میں اس طرح کے سکیورٹی لیپس کے واقعات سامنے نہ آئیں۔

عدالت نے اپنے حکم نامے میں مذکورہ چھتر کو آئی جی جیل خانہ جات کے دفتر بھجوانے کا حکم دیا تاکہ وہ اس معاملے کو دیکھ سکیں۔

اس معاملے پر بات کرتے ہوئے صوبائی آئی جی جیل خانہ جات خالد عباس نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پشاور جیل انتظامیہ نے اس حوالے سے انکوائری کا آرڈر دے دیا ہے اور انکوائری رپورٹ آنے کے بعد تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ شیئر کی جائے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان