آسٹریلیا کا کابل میں سفارت خانہ بند کرنے کا ’عارضی فیصلہ‘

آسٹریلیا کی حکومت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ’غیریقینی حالات‘ کی وجہ سے اگلے ہفتے سے کابل میں اپنا سفارت خانہ بند کر رہی ہے۔

افغان سکیورٹی فورسز لغمان میں سوموار کو طالبان کے ساتھ لڑائی میں مصروف (اے ایف پی)

آسٹریلیا کے وزیر اعظم سکاٹ موریسن نے اچانک اعلان کیا ہے کہ وہ افغانستان سے تمام غیر ملکی افواج کے انخلا کے تناظر میں جمعے تک کابل میں اپنا سفارت خانہ بند کر رہے ہیں۔

آسٹریلیا کی حکومت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ’غیریقینی حالات‘ کی وجہ سے یہ فیصلہ کر رہی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کابل میں آسٹریلیا کے سفارت خانے کے جاری ایک بیان کہا گیا ہے کہ سفارت خارنہ 28 مئی سے بند ہوگا۔ ’ہم امید کرتے ہیں کہ کابل میں سفارت خانہ بند کرنے کا فیصلہ قلیل المدتی ہوگا اور صورت حال بہتر ہونے کے بعد یہ دوبارہ مستقل کام بنیادوں پر کام شروع کر دے گا۔‘

امریکہ کے علاوہ آسٹریلیا کے 80 فوجی بھی افغانستان چھوڑ کر جا رہے ہیں۔

کابل میں منتخب حکومت اور افغان سکیورٹی سروسز دو دہائیوں کی غیر ملکی امداد کے باوجود کمزور ہیں اور امریکی فوجی مدد کے بغیر ان کی کامیابی واضح نہیں ہے۔

آسٹریلیا کا سفارت خانہ دارالحکومت کابل کے ایک محفوظ ترین علاقوں میں واقع ہے۔ کئی دنوں سے مزید خصوصی حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سفارت خانہ کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے عدم تحفظ کی وجہ سے وہ کابل میں اپنے سفارتی اہلکاروں کو ضروری تحفظ فراہم کرنے سے قاصر ہے۔

آسٹریلیا میں مقیم افغانستان کے ماہر نشانک موتوانی نے اے ایف پی کو بتایا کہ طالبان آسٹریلیا کے اعلان کو فتح سے تعبیر کریں گے۔ ’طالبان اسے اس طرح دیکھیں گے۔ اس بات کے واضح اشارے ہیں کہ نیٹو اور غیر نیٹو ممالک امریکی انخلا کے فیصلے کی وجہ سے پیدا ہونے والی سلامتی کے خلا کی وجہ سے اپنے سفارتی مشن بند کر دیں گے۔‘

افغان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ امید کرتا ہے کہ آسٹریلیا اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے گا تاہم ان کی حکومت کے اس فیصلے کا احترام کرتی ہے۔ ’ہم سکیورٹی خدشات کے پیش نظر آسٹریلیا کی حکومت کے سفارت خانے کو عارضی طور پر بند کرنے کے فیصلے سے واقف ہے اور ان کا احترام کرتے ہیں۔‘

ترجمان نے مزید کہا کہ افغان حکومت دوست ممالک کے ساتھ بین الاقوامی قانون اور کنونشنز اور معاہدوں کے مطابق غیر ملکی سفارت کاروں کی سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

آسٹریلوی حکومت کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ستمبر تک تمام غیر ملکی فوجی افغانستان سے رخصت ہونے والے ہیں۔ آسٹریلیا نے بھی گذشتہ دو سالوں کے دوران افغانستان میں اپنے فوجیوں کی تعداد کو 880 سے کم کر کے 80 کردی تھی۔

کابل میں امریکی سفارت خانے نے ایک ماہ قبل اپنے سفارت کاروں سے کہا تھا کہ اگر وہ کہیں اور سے کام کرسکتے ہیں تو وہ افغانستان چھوڑ دیں۔

آسٹریلیا پہلا ملک ہے جس نے غیر ملکی افواج کے مکمل انخلا کے تناظر میں کابل میں اپنا سفارت خانہ بند کیا۔

لیکن قریب ایک ماہ قبل (چار اپریل) محکمہ خارجہ نے کابل میں بڑھتے ہوئے تشدد اور عدم تحفظ کی اطلاعات کی وجہ سے اپنے سفارت خانے کے تمام عملے کو افغانستان چھوڑنے کا حکم دیا۔

افغانستان کے مختلف علاقوں میں جن میں لغمان اور پغمان شامل ہیں طالبان اور افغان سکیورٹی فورسز کے درمیان زبردست لڑائی کی اطلاعات بھی مل رہی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا