’کوئلے کی کان میں جانے پر افسردگی،باہر آنے پر خوشی‘

سالانہ ایک ارب سے زائد روپے ٹیکس اور رائلٹی دینے کے باوجود بلوچستان کے ضلع دکی کی کوئلہ کانوں میں اموات کا سلسلہ تھم نہ سکا۔

دو ہزار سے چھ ہزار فٹ تک گہری کانوں سے سالانہ 16 لاکھ ٹن کوئلہ نکالنے والوں کی اموات میں کمی کی بجائے اضافہ ہو رہا ہے (تصاویر: رفیع اللہ مندوخیل)

گذشتہ سال قدرتی معدنیات سے مالامال صوبے بلوچستان کی کوئلہ کانوں میں ہونے والے حادثات کے نتیجے میں سو سے زائد کان کن ہلاک ہوئے جن میں سے 52 ہلاکتیں ضلع دکی میں ہوئیں۔

دو ہزار سے چھ ہزار فٹ تک گہری کانوں سے سالانہ 16 لاکھ ٹن کوئلہ (بلیک ڈائمنڈ) نکالنے والوں کی اموات میں کمی کی بجائے اضافہ ہو رہا ہے۔

 

دکی کول فیلڈ میں تین ماہ قبل ہلاک ہونے والے ایک کان کن کے چچازاد بھائی اور 30 سالہ کان کن سید خان کا تعلق ضلع قلعہ سیف اللہ سے ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کا  27 سالہ چچازاد بھائی کام کے دوران ٹیلے کی ٹکر کے نتیجے میں ہلاک ہو گیا۔

’اس کے خاندان کو ٹھیکیدار نے تو دولاکھ روپے معاوضہ دیا تاہم حکومت نے کوئی مدد نہیں کی۔‘

چار ہزار فٹ گہری کوئلے کی کان (جسے مقامی طور پر الج کہا جاتا ہے) میں کام کرنے والے قلعہ سیف اللہ کے کان کن محمد نسیم نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ کان میں جاتے وقت انتہائی افسردہ ہوتے ہیں لیکن نکلتے وقت نئی زندگی محسوس کرتے ہیں۔ انہیں ایک ہزار سے 11 سو روپے تک دیہاڑی ملتی ہے۔

دکی کے میڑک پاس 22 سالہ نوجوان مزدور محمد رسول نے بتایا کہ وہ گذشتہ پانچ سال سے یہ کام کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ سخت کام بھی مشکل سے ملتا ہے۔

’کام کرنے والے کان کن مرجاتے ہیں یا پھر بیمار ہوجاتے ہیں۔ اجرت میں صرف اتنی رقم بچتی ہے کہ میں اپنے بچوں کے لیے دودھ  لے سکوں ۔‘

 

گذشتہ 32 سال سے مائننگ کے شعبے سے وابستہ نیشنل لیبر فیڈریشن کے صوبائی نائب صدر امبر خان یوسف زئی نے کان کنوں کی اموات کی بنیادی وجوہات کے بارے میں بتایا کہ کوئلہ کانوں میں میتھین گیس جمع ہونے، آکسیجن کی کمی، کان بیٹھنے اور کوئلہ نکالتے وقت تار ٹوٹنے اور ٹرالی کی ٹکر کے باعث جان لیوا حادثات پیش ٓتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کان کنوں کے لیے طبی سہولیات کا فقدان، مزدوروں کے بچوں کے لیے سکولوں کی عدم موجودگی، لیبر کالونی پرغیر متعلقہ افراد کا قبضہ اور ہلاکتوں کی صورت میں ڈیتھ گرانٹ کی فراہمی میں غیرضروری تاخیر بنیادی مسائل ہیں۔

ان کا کہنا تھا: ’لیبر کے لیے حکومت کے قائم آٹھ بنیادی مراکز صحت اور چھ تعلیمی ادارے تاحال غیرفعال ہیں۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ کوئلہ کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں میں سے صرف دو فیصد مزدور ای او بی آئی (ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ انسٹی ٹیوشن) کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں۔  ’رجسٹریشن نہ ہونے کی وجہ سے ناخواندہ کوئلہ مزدور اپنے بنیادی حقوق سے بے خبر اور محروم ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ مقامی کول مائنزکے  مالکان نہیں چاہتے کہ مزدور رجسٹرڈ ہوں کیونکہ ای او بی آئی کے ساتھ رجسٹر ہونے کی صورت میں مالکان کو بھی قانونی تقاضے پورے کرنے پڑتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ کوئلہ کانوں کی گہرائی عموماً دو سے چھ ہزار فٹ تک ہوتی ہے اور 24 گھنٹے کوئلہ نکالنے کے لیے مزدور تین شفٹوں میں کام کرتے ہیں۔

’کوئلہ تیز دھار کدال کی مدد سے کھود کر ٹیلے میں باہر نکالا جاتا ہے۔ کدال استعال کرنے والے کو ٹکمی جبکہ لوڈ کرنے والے کو بڈی کہا جاتا ہے۔ ٹیلے میں آدھا ٹن کوئلہ ڈال کر ہینو ڈیزل انجن کی مدد سے باہر کھینچا جاتا ہے جو لوہے کے مضبوط تار سے بندھا ہوتا ہے۔ کان کو گرنے سے بچانے کے لیے سفیدے اور کیکر کی لکڑی استعمال ہوتی ہے۔‘

ضلع دکی میں تعینات انسپکٹر مائنز صابر شاہ کاکڑ نے حکومت کی جانب سے کان کنوں کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات کے حوالے سے بتایا کہ ان کا بنیادی کام کان کنوں کی جانوں کی حفاظت ہے۔

وہ حادثات کی صورت میں انسپکشن کرتے ہیں اور ہلاک ہونے والے کان کن کی میت ان کے آبائی علاقے بھیجنے کے لیے ایمبولینس کا بندوبست اور ٹھیکیدار سے مقررکردہ دولاکھ روپے کا معاوضہ دلواتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’حادثے کے بعد اگر انکوائری میں ٹھیکے دار ذمہ دار ٹھہرے تو حکومت پانچ لاکھ روپے جرمانہ کرتی ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ محکمہ مائنز کان کنوں، مائن مینیجر اور دیگر سٹاف کو تربیت دیتا ہے۔

’چمالنگ سمیت دکی میں 1450 کوئلہ کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی تعداد 15 ہزار ہے، جن میں سے 70 فیصد کا تعلق سوات، شانگلہ اور افغانستان جبکہ 30 فیصد کا تعلق ژوب ڈویژن سے ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ گذشتہ سال کے اعدادوشمار کے مطابق دکی سے نکلنے والے کوئلے کی مد میں ایک ارب 73 کروڑ روپے سکیورٹی، رائلٹی اور سیلزٹیکس کی مد میں حکومت کو ادا کیا گیا۔

’دکی کے علاقے میں حفاظتی اقدامات پرعمل نہ کرنے پر رواں سال ضلعی انتظامیہ نے 200 کوئلہ کانیں بند کردیں۔ یہ کوئلہ کانیں حفاظتی آلات، گیس ٹیسٹر، لیبرڈیٹا، اعدادوشمار نہ ہونے اور دیگر حفاظتی اقدامات نہ اٹھانے پر بند کی گئیں۔‘

صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے 227 کلومیٹر دور دکی میں کوئلہ نکالنے کا کام 1968  میں شروع ہوا۔ لورالائی کی تحصیل دکی کو 2017 میں ضلعے کا درجہ دیا گیا۔ اس کی آبادی ڈیڑھ لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔

بلوچستان کے مخلتف علاقوں مثلاً دکی، مارواڑ، مارگٹ، سورینج، ہرنائی، چمالنگ، کھوسٹ اور مچھ سے نکلنے والا کوئلہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں کارخانوں، اینٹ کی بھٹوں اور توانائی کے مختلف شعبوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔

اس وقت مارکیٹ میں کوئلہ فی ٹن قیمت نو ہزار روپے سے لے کر19 ہزار روپے تک ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا