فلسطین کے لیے امداد: طریقہ کار کیا ہے اور پولیس کیوں روک رہی ہے؟

فلسطین میں اسرائیلی بمباری سے ہونے والی تباہی پر وہاں کے مسلمانوں کے لیے دیگر مسلم ممالک کی طرح پاکستان کی تنظیمیں بھی امدادی کاموں میں حصہ لے رہی ہیں۔

فلسطین کے لیے امداد بھیجنے والی تنظیموں میں پاکستان سے  جماعت اسلامی کی الخدمت فاؤنڈیشن بھی شامل ہے (الخدمت فاؤنڈیشن)

فلسطین میں اسرائیلی بمباری سے ہونے والی تباہی پر وہاں کے مسلمانوں کے لیے دیگر مسلم ممالک کی طرح پاکستان کی تنظیمیں بھی امدادی کاموں میں حصہ لے رہی ہیں۔

ان تنظیموں میں جماعت اسلامی کی الخدمت فاؤنڈیشن بھی چندہ مہم کے ذریعے امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے والی ایک تنظیم ہے۔

لیکن جماعت اسلامی نے الزام لگایا ہےکہ پنجاب میں پولیس نےکئی شہروں میں ان کے امدادی کیمپ اکھاڑ دیے ہیں اور چندہ مہم بھی چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

جہاں تک وہاں سفری اور بینکوں کے ذریعے فنڈز منتقل کرنے کا معاملہ ہے تو وہ بھی کسی امتحان سے کم نہیں کیونکہ وہاں عام طور پر دوسرے ممالک سے داخل ہونے یا فنڈز ٹرانسفر کرنے کا نیٹ ورک نہ ہونے کے برابر ہے اس صورتحال میں وہاں تنظیمیں اپنی مدد آپ کے تحت ہی کام کر رہی ہیں۔

پنجاب میں پولیس چندہ جمع کرنے سے کیوں ’روک‘ رہی ہے؟

جماعت اسلامی پنجاب کے امیر جاوید قصوری نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ’ہم فلسطین کے مسلمان بھائیوں کے لیے فنڈز جمع کر رہے ہیں اور پیر کو صوبہ بھر میں چندہ مہم چلائی اور امداد جمع کرنے کے لیے کیمپ بھی لگائے۔ لیکن پولیس نے لاہور، اوکاڑہ، چیچہ وطنی، ساہیوال اور شورکوٹ میں پولیس نے ان کے کیمپ ہٹا دیے اور چندہ مہم چلانے سے روک دیا گیا۔‘

جاوید قصوری کے مطابق یہ حکومتی سطح پر رکاوٹ نہیں تھی۔ ’البتہ پولیس حکام اور مقامی انتظامیہ کے مطابق انہوں نے اجازت نہ لیے جانے پر روکا ہے لیکن اس طرح کا رویہ مسلمانوں کی امداد جمع کرنے سے متعلق نہیں ہونا چاہیے۔‘

دوسری جانب ترجمان پولیس رانا عارف نے اس حوالے سے بتایا کہ الخدمت فاؤنڈیشن پر چندہ جمع کرنے کی پابندی نہیں ہے، اس لیے ان کے کیمپ ہٹانے یا چندہ مہم روکنےسے متعلق کوئی اطلاع نہیں۔ البتہ جن شہروں میں روکا گیا ہے وہاں انتظامیہ کو اجازت سے متعلق شکایات ضرور ہوسکتی ہیں۔

دوسرے ممالک سے امدادی کارروائیوں کا طریقہ

غیر سرکاری تنظیم ’ہیلپ پاکستان‘ کے سربراہ نثار احمد نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین میں امدادی کارروائیوں میں دوسرے ممالک کی تنظیموں کو مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس علاقے میں ایک طرف اسرائیل ہے اور ایک سرحد مصر کی جانب سے بند ہے لہذا یہاں زمینی راستے سے امداد پہنچانا مشکل ہے۔ دوسرا بینکنگ کا نظام بھی اس معاملے میں زیادہ فعال نہیں ہے، اس لیے وہاں فنڈز کی منتقلی ممکن نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اب جو تنظیمیں پاکستان یا دوسرے اسلامی ممالک سے فلسطینیوں کے لیے کام رہی ہیں ان کے لیے براہ راست وہاں سرگرمیاں کرنا ممکن نہیں۔ اس لیے وہاں پہلے سے کام کرنے والی عالمی این جی اوز یا ترکی کے ریڈ کریسنٹ ادارہ سے مل کر وہاں کھانے پینے کی اشیا، طبی امداد یا عمارات کی تعمیر نو کا کام کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نثار احمد کے مطابق ویسے تو کسی بھی آفت یا جنگ کی حالت میں اقوام متحدہ کے پروٹوکول ہوتے ہیں جن کے تحت کسی بھی آفت زدہ علاقے میں امدادی کارروائیوں کے لیے آمدورفت کو نہیں روکا جاسکتا لیکن کیونکہ یہ علاقہ اسرائیل کے زیر تسلط ہے اس لیے یہاں مشکلات ابھی برقرار ہیں۔

الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے ترجمان شعیب ہاشمی نے بتاتے ہیں کہ ان کی تنظیم اب تک سات کروڑ روپے سے زائد رقم چندے سے جمع کر کے فلسطینیوں کی امدادی کارروائیوں کے لیے بھجوا چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہاں براہ راست امداد پہنچانا ممکن نہیں اس لیے ان کی تنظیم ترکی ریڈ کریسنٹ اور دیگر عالمی رفاہی تنظیموں کے ساتھ مل کر وہاں کام کر رہی ہے۔

فلسطینیوں کے لیے بھیجی جانے والی امداد کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ متاثرین کے لیے تیار کھانا، طبی امداد اور مسمار گھروں کی دوبارہ تعمیر کا بندوبست کیا جا رہا ہے۔

’جو تنظیمیں بھی پاکستان سے فنڈز جمع کر رہی ہیں وہ نقد رقوم فلسطین میں کام کرنے والی تنظیموں کی مدد سے ہی وہاں خرچ کر رہی ہیں۔‘

ان کے مطابق وہاں اشیا کی صورت میں سامان لے جانا ممکن نہیں اس لیے جو کام بھی کیے جارہے ہیں ان کے انتظامات بھی فلسطین سے ہی کیے جا رہے ہیں۔

’وہاں ایک لاکھ کے قریب آبادی ہے جو اسرائیلی حملوں سے متاثر ہوئی ہے جس کے لیے امدادی سرگرمیوں کی اشد ضرورت ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان