پاکستان میں مرغیوں کی بیماری: کیا یہ انسانوں میں منتقل ہو سکتی ہے؟

سوشل میڈیا پر یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ ملک میں مرغیوں کو ایک خاص قسم کی بیماری نے متاثر کیا ہے، لہذا برائلر چکن کھانے سے گریز کیا جائے، یہ بیماری کیا ہے اور کیا اس کی انسانوں میں منتقلی کا خطرہ موجود ہے؟

پولٹری فارمرز کی نمائندہ تنظیم پولٹری ایسوسی ایشن پاکستان کے عہدیدار بلال احمد  کے مطابق یہ کوئی نئی بیماری نہیں بلکہ پولٹری کی ایک عام سی بیماری ہے (تصویر: انڈپینڈنٹ اردو)

پاکستان میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر حالیہ عید الفطر کے دنوں سے یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ ملک میں مرغیوں کو ایک خاص قسم کی بیماری نے متاثر کیا ہے، لہٰذا برائلر چکن کھانے سے گریز کیا جائے۔

انڈپینڈنٹ اردو نے پولٹری فارم مالکان، ماہرین اور متعلقہ سرکاری محکموں سے بات کرکے یہ جاننے کی کوشش کی کہ یہ بیماری کیا ہے اور کیا اس کا انسانوں میں منتقل ہونے کا کوئی خطرہ موجود ہے؟

خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی کے رہائشی محمد زاہد گذشتہ کئی سالوں سے پولٹری فارم کے کاروبار سے وابستہ ہیں اور انہوں نے گھر کے قریب ہی فارم کھول رکھا ہے۔

عید کے بعد انہوں نے فارم میں تقریباً تین ہزار چوزے رکھے لیکن ایک ماہ بعد ان میں سے 500 کے قریب مرغیاں مر چکی ہیں، جس سے ان کو تقریباً تین لاکھ روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔

زاہد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پولٹری فارمز سے وابستہ کاروباری شخصیات کے لیے یہ عام سی بات ہے کہ تین ہزار میں سے سو کے لگ بھگ مرغیاں مر سکتی ہیں لیکن جب پانچ سو کے قریب مرغیاں مر گئیں تو انہیں تشویش لاحق ہوئی اور وہ مری ہوئے مرغیوں میں سے کچھ کو ویٹرنری ڈاکٹر کے پاس لے کر گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر نے تشخیص کے بعد بتایا کہ ’مرغیوں کو ایک قسم کی بیماری لگ گئی ہے تاہم ہمیں واضح طور پر نہیں معلوم کہ یہ کس قسم کی بیماری ہے۔‘

زاہد نے بتایا کہ مرغیوں کی بیماری بہت عام سی بات ہے اور ہر ایک گروپ میں کچھ نہ کچھ مرغیاں مر جاتی ہیں۔ 

علامات کے بارے میں زاہد کا کہنا تھا کہ جو مرغیاں مر گئی ہیں، ان میں انسانوں کی طرح نزلہ زکام کی علامات پائی گئی تھیں۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ بیماری لگنے کے بعد کتنے دنوں میں مرغیاں ہلاک ہوئیں تو انہوں نے بتایا کہ ’تین سے چار دنوں میں ساری مرغیاں مر گئی تھیں۔‘

اسی حوالے سے سوشل میڈیا پر کچھ صارفین نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ مرغیوں کی یہ بیماری انسانوں میں منتقل ہو سکتی ہے، اس لیے چکن نہیں کھانی چاہیے۔

پولٹری فارمرز کی نمائندہ تنظیم پولٹری ایسوسی ایشن پاکستان کے عہدیدار بلال احمد نے اس حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’سوشل میڈیا پر اس مسئلے کو بطور پروپیگنڈا استعمال کیا گیا ہے کیونکہ جس بیماری کی بات ہو رہی ہے، یہ کوئی نئی بیماری نہیں بلکہ پولٹری کی ایک عام سی بیماری ہے۔‘

بلال نے بتایا: ’یہ ایک جراثیم سے لگنے والی بیماری ہے جس کو ’کورائزا‘ کہتے ہیں اور یہ پوری دنیا میں موجود ہے جو کم عمر کی مرغیوں کو متاثر کرتی ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں اس بیماری نے پولٹری فارمز کو متاثر کیا ہے۔ یہ حالیہ عید کے دنوں سے شروع ہوئی تھی اور اب تقریباً ختم ہونے والی ہے۔

وائرس نہیں، بیکٹیریا

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ یہ بیماری کسی وائرس سے نہیں بلکہ Haemophilus paragallinarum نامی ایک بیکٹیریا سے پھیلتی ہے۔ وائرس سے ہونے والی بیماریوں کا علاج مشکل ہوتا ہے، اور ان کے لیے بڑی حد تک ویکسین پر انحصار کرنا پڑتا ہے، جیسا آج کل دنیا بھر میں کرونا وائرس سے پھیلنے والی بیماری کووڈ 19 کے خلاف ہو رہا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ وائرس کے خلاف محفوظ اور موثر ادویات کی قلت ہے۔

اس کے برخلاف بیکٹیریا کے لیے بہت موثر اینٹی بایوٹک ادویات موجود ہیں، اس لیے اس سے ہونے والی بیماریوں کا زیادہ بہتر طریقے سے مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔  

بلال سے جب پوچھا گیا کہ بیماری نے پاکستان میں کتنے فیصد فارمز کو متاثر کیا ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ ’جب بیماری مکمل طور پر ختم ہو جائے تو ہم ڈیٹا اکٹھا کرکے اندازہ لگائیں گے کہ اس بیماری سے کتنی مرغیاں متاثر ہوئی ہیں۔‘

بلال نے اس بیماری کے انسانوں میں منتقل ہونے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’سوشل میڈیا پر جو باتیں کی جارہی ہیں کہ یہ بیماری انسانوں میں منتقل ہوسکتی ہے یہ سراسر بے بنیاد ہے، کیونکہ یہ بیماری انسانوں میں منتقل نہیں ہو سکتی اور نہ ہی متاثرہ مرغی کھانے سے یہ انسانوں میں منتقل ہو سکتی ہے۔‘

انہوں نے بتایا: ’انسانوں میں منتقلی کی افواہیں ان عناصر کی جانب سے پھیلائی جاتی ہیں جو چاہتے ہیں کہ پولٹری فارم سے وابستہ افراد کے کاروبارکو نقصان پہنچے۔ عموماً ایسی افواہیں ان دنوں میں پھیلائی جاتی ہیں جب مرغی کی قیمت زیادہ ہو جاتی ہے۔‘

اس بیماری کی علامات کیا ہیں؟

مرغیوں کی اس بیماری کی علامات عام نزلہ و زکام جیسی ہیں۔ امیریکن سوسائٹی فار مائیکرو بیالوجی کے اسی بیماری پر لکھے گئے ایک تحقیقی مقالے کے مطابق یہ بیماری Haemophilus paragallinarum نامی بیکٹیریا سے مرغیوں میں پھیلتی ہے جو نظامِ تنفس کو متاثر کرتی ہے۔

مقالے کے مطابق امریکہ اور افریقہ سمیت ترقی یافتہ ممالک میں بھی یہ بیماری مرغیوں میں عام ہے، جس سے برائلر سمیت انڈے دینے والی مرغیاں بھی متاثر ہوتی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مقالے کے مطابق اس بیماری کی وجہ سے مرغیوں کی انڈے دینے کی صلاحیت دس سے 40 فیصد تک کم ہو جاتی ہے جبکہ اس بیماری سے مرنے کی شرح دس فیصد تک ہے۔ اس سے ایسے فارمز زیادہ متاثر ہوتے ہیں جہاں پر مرغیوں کی تعداد زیادہ ہو۔

علاوہ ازیں بیماری کی علامات میں مرغی کی ناک سے پانی کا بہنا، چہرے کی سوجن، دست اور بھوک نہ لگنا شامل ہیں۔ 

اس بیماری کی ویکسینز بھی مقامی اور بین الاقوامی سطح پر موجود ہیں، تاہم مقالے کے مطابق ترقی یافتہ ممالک میں اس بیماری کے جراثیم کی اقسام تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ اسی وجہ سے ویکسین پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

مقالے میں لکھا گیا ہے کہ اس بیماری کی تشخیص کے لیے اب جدید پی سی آر ٹیسٹ (جس کے ذریعے آج کل کرونا وائرس کی تشخیص بھی ہوتی ہے) استعمال ہوتا ہے۔ یہ چین اور امریکہ میں زیر استعمال ہے جس میں مرغی سے نمونہ لے کر لیب بھیج دیا جاتا ہے اور چھ گھنٹوں میں ٹیسٹ کا نتیجہ آ جاتا ہے۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا محکمہ لائیو سٹاک اینڈ ڈیری فارم کے ڈائریکٹر عالم زیب نے اس بیماری کے حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ یہ عام سی بیماری ہے لیکن سوشل میڈیا پر اس کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جارہا ہے جبکہ اس سے انسانی صحت کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔

عالم زیب نے بتایا کہ یہ بیماری ’زوونوٹِک‘ (وہ بیماری جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے) نہیں ہے اور مرغی کھانے سے کسی قسم کا خطرہ لاحق نہیں ہوتا۔ 

انہوں نے بتایا کہ ’اس بیماری سے بچنے کے مختلف طریقے موجود ہیں جبکہ مرغیوں کو ویکسین بھی دی جاتی ہے تاکہ ایسی بیماریوں سے بچایا جا سکے۔‘

چین میں برڈ فلو کی مخصوص سٹرین کا انسانوں میں منتقلی کا پہلا کیس 

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی ایک رپورٹ کے مطابق منگل (یکم جون) کو چین کے صوبے جیانگسو میں ممکنہ طور ایک 41 سالہ شخص میں برڈ فلو کے مخصوص سٹرین H10N3 کا پہلا کیس سامنے آیا ہے۔

چین کے نیشنل ہیلتھ کمیشن کے مطابق برڈ فلو سے متاثرہ شخص 28 اپریل کو ہسپتال میں داخل ہوئے اور ان کی حالت نارمل بتائی جاتی ہے جبکہ اس وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ کم ہے۔

کمیشن کے مطابق اب تک اس سے پہلے اس سٹرین کی انسانوں میں منتقلی کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا تھا جبکہ اس کی بڑے پیمانے پر انسانوں میں منتقلی کا خطرہ کم ہے۔

امریکی ادارے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) کے مطابق برڈ فلو وائرس کی اس سے پہلے ایک دوسری قسم کی انسانوں میں منتقلی کے اب تک دنیا میں 800 کیسز سامنے آئے ہیں، جن میں سے زیادہ تر کیسز ایشیائی ممالک سے ہیں۔

اسی ادارے کے مطابق برڈ فلو وائرس کی انسان میں منتقلی اور اس سے ہونے والی شرح اموات 60 فیصد ہے۔

رپورٹ کے مطابق برڈ فلو سے متاثرہ مرغیوں کو کھانے سے وائرس کی انسان میں منتقلی کے حوالے سے حتمی طور کچھ نہیں کہا جا سکتا، تاہم متاثرہ مرغی کے ساتھ انسانوں کا کوئی قریبی رابطہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس سے یہ وائرس انسانوں میں منتقل ہو سکتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت