اسلام آباد کا ہسپتال دکھانے والے متوقع اسرائیلی وزیراعظم

اپوزیشن اتحاد کے درمیان معاہدہ طے پانے کے بعد سابق کمانڈو اور کروڑ پتی کاروباری شخصیت نفتالی بینیت اگلے وزیر اعظم کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیا مین نتن یاہو کے مخالفین نے اعلان کیا ہے کہ وہ دیگر جماعتوں سے مل کر نیا اتحاد بنانے کے معاہدے تک پہنچ گئے ہیں۔

اس طرح مذہبی اور قوم پرستی پر مبنی بیانات دے کرسیاست میں نام پیدا کرنے والے ارب پتی اور سابق کاروباری شخصیت نفتالی بینیت اسرائیل کے اگلے وزیراعظم بن سکتے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ ڈرامائی اعلان حزب اختلاف کے رہنما یائر لاپڈ اور دائیں بازو کے نظریات رکھنے والے ان کے مرکزی اتحادی بینیت نے بدھ کی آدھی رات کو ڈیڈ لائن سے چند لمحے قبل کیا اور ملک کو محض دو سالوں میں مسلسل پانچویں انتخاب کی طرف جانے سے روک دیا۔

ٹوئٹر پر ایک پیغام میں لاپڈ نے کہا کہ انہوں نے اس معاہدے سے ملک کے صدر کو آگاہ کردیا ہے۔ ’یہ حکومت اسرائیل کے تمام شہریوں، وہ جنہوں نے ان کو ووٹ دیا اور جنہوں نے نہیں دیا، ان سب کے لیے کام کرے گی۔ یہ اسرائیلی معاشرے کو متحد کرنے کے لیے سب کچھ کرے گی۔‘

اس معاہدے کے تحت لاپڈ اور بینیت وزیراعظم کے عہدے کو مخصوص مدت کے لیے آپس میں تقسیم کریں گے۔

بینیت پہلے دو سال خدمات انجام دیں گے جبکہ لاپڈ آخری دو سال وزیراعظم ہوں گے۔

اس تاریخی معاہدے میں ایک چھوٹی اسلامی جماعت یونائیٹڈ عرب بھی شامل ہے، جو حکومت کی تشکیل کی حامی بننے والی پہلی عرب جماعت بن جائے گی۔

اس معاہدے کو اب بھی کنیسٹ یا پارلیمنٹ کے ذریعے منظور ہونا ہے، توقع ہے کہ اگلے ہفتے کے اوائل میں اس حوالے سے ووٹنگ کا انعقاد ہوگا۔ اگر ایسا ہوجاتا ہے تو لاپڈ اور ان کے مختلف شراکت دار نتن یاہو کی 12 سالہ طویل حکمرانی کو ختم کردیں گے۔

دوسری جانب بدعنوانی کے الزامات کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے عہدے پر قائم رہنے کے خواہش مند نیتن یاہو سے توقع کی جارہی ہے کہ وہ نئے اتحاد کو اقتدار میں آنے سے روکنے کے لیے آنے والے دنوں میں ہر ممکن کوشش کریں گے اور اگر وہ ناکام ہوئے تو انہیں حزب اختلاف میں دھکیل دیا جائے گا۔

نفتالی بینیت کون ہیں؟

اسرائیل کے متوقع اگلے وزیر اعظم نفتالی بینیت اپنے پیش رو بن یامین نتن یاہو سے بھی زیادہ سخت گیر موقف رکھتے ہیں، جن کا خواب ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے بیشتر حصے کو بھی اسرائیل میں ضم کر لیا جائے جبکہ وہ فلسطینی ریاست کے قیام کو اسرائیل کے لیے خودکشی سمجھتے ہیں۔

اسرائیل کے مذہبی حق اور یہودی آبادکاری کے حامی بینیت کا کہنا ہے کہ وہ ملک کو سیاسی بحران سے بچانے کے لیے اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ ہاتھ ملانے کو تیار ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق 49  سالہ بینیت امریکہ سے اسرائیل منتقل ہونے والے ایک خاندان میں پیدا ہوئے اور ٹیکنالوجی کے کاروبار میں وابستہ رہ کر کروڑ پتی شخصیت بنے۔ وہ اسرائیل کے طویل عرصے تک وزیراعظم رہنے والے 71 سالہ نتن یاہو سے عمر میں کافی چھوٹے ہیں۔

سابق کمانڈو بینیت نے اپنے بڑے بیٹے کا نام نتن یاہو کے بھائی یونی کے نام پر رکھا ہے جو 1976 میں یوگنڈا کے ہوائی اڈے پر اغوا شدہ اسرائیلی مسافروں کو آزاد کرانے کے لیے کی گئی کارروائی میں ہلاک ہو گئے تھے۔

بینیت کے نتن یاہو کے ساتھ ماضی میں طویل عرصے تک دوستانہ مگر پیچیدہ  تعلقات رہے ہیں، جو 2006 اور 2008 کے دوران ان کے سینیئر معاون کی حیثیت سے کام کرتے رہے لیکن بعد میں ان کی راہیں جدا ہو گئیں۔

بینیت نے 2013 میں قومی سیاست میں حصہ لیا اور یہودی آباد کاروں کی حمایت کرنے والی پارٹی کی اصلاح کی۔ وہ نتن یاہو کی مختلف حکومتوں میں وزیر دفاع کے ساتھ ساتھ تعلیم اور خزانہ کے وزیر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیتے رہے۔

مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کی تحریک ’یشا‘ کے رہنما کی حیثیت سے بینیت نے اس علاقے کے کچھ حصوں پر قبضہ کر لیا جسے ان کے سیاسی پلیٹ فارم کی بڑی کامیابی قرار دیا جاتا ہے۔

لیکن ’تبدیلی‘ کے نام پر بننے والی ان کی ممکنہ حکومت کو بائیں بازو اور سنٹرلسٹ جماعتوں کے ساتھ پارلیمنٹ میں عرب ارکان کی حمایت بھی درکار ہو گی، جس کے بعد ان کے لیے مقبوضہ مغربی کنارے کے مزید حصوں پر قابض ہونے کی پالیسی پر عمل پیرا ہونا سیاسی طور پر ناقابل عمل ہوگا۔

بینیت نے اتوار کو کہا تھا کہ دائیں اور بائیں بازو کی دونوں جماعتوں کو اس طرح کے ’نظریاتی امور‘ پر سمجھوتہ کرنا پڑے گا۔

ان کے والدین کا تعلق سان فرانسسکو سے تھا جو اسرائیلی شہر حائفہ منتقل ہوگئے تھے جہاں بینیت پیدا ہوئے، وہ ایک کٹر مگر جدت پسند مذہبی یہودی ہیں۔ ان کی اہلیہ گیلات ایک ڈیزرٹ شیف ہیں اور یہ جوڑا اپنے چار بچوں کے ساتھ تل ابیب کے مضافاتی پوش علاقے میں رہتا ہے۔

نتن یاہو کی طرح بینیت بھی روانی سے انگریزی بولتے ہیں، جنہوں نے اپنا کچھ بچپن شمالی امریکہ میں گزارا تھا۔

ہائی ٹیک شعبے میں کام کرنے والے بینیت نے یروشلم کی عبرانی یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری بھی حاصل کی۔ 1999 میں انہوں نے ایک سٹارٹ اپ تشکیل دیا اور پھر وہ نیویارک منتقل ہو گئے۔ انہوں نے 2005 میں ایک اینٹی فراڈ سافٹ ویئر کمپنی ’سیوٹا‘ کو امریکی سکیورٹی کمپنی آر ایس اے کو 145 ملین ڈالر میں فروخت کیا۔

بینیت کی پالیسی

گذشتہ سال جب نتن یاہو کی حکومت نے ٹرمپ انتظامیہ کے آخری مہینوں میں مغربی کنارے کے انضمام اور یہودی آبادکاری کے منصوبے کو آگے بڑھانے کی کوشش کی تھی، تب اس وقت بطور وزیر دفاع کام کرنے والے بینیت نے کہا تھا: ’ملک میں اس تعمیراتی منصوبے کی رفتار کو ایک سیکنڈ کے لیے بھی نہیں روکا جانا چاہیے۔‘

جب اسرائیل نے متحدہ عرب امارات اور دیگر مسلم اور خلیجی ریاستوں کے ساتھ باضابطہ تعلقات استوار کیے تو الحاق کا یہ منصوبہ بالآخر ختم کردیا گیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ میں اس منصوبے کے دوبارہ زندہ ہونے کا امکان بہت کم ہے۔

دوسری جانب فلسطینی بینیت کے اقتدار میں آنے کو مذاکرات سے ہونے والے امن اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی امیدوں کے لیے ایک دھچکا سمجھتے ہیں۔

اسرائیل کے چوتھے انتخابات کے بعد بینیت نے کہا تھا کہ پانچویں انتخابات کا انعقاد ایک قومی تباہی ہوگی۔ اپنی حکومت کی تشکیل کے لیے انہوں نے نتن یاہو کی مخالفت کرنے والی سنٹرلسٹ اور بائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ بات چیت کی۔

معیشت کو آزاد بنانے کے حامی بینیت نے سرکاری سرخ فیتے کے خاتمے اور ٹیکسوں میں کمی کے لیے حمایت کا اظہار بھی کیا ہے۔

مذہبی حق سے متعلق اپنے سابقہ اتحادیوں میں سے کچھ کے برعکس بینیت ہم جنس پرستوں کے حقوق اور مذہب اور ریاست کے مابین تعلق جیسے معاملات پر نسبتاً لبرل خیالات رکھتے ہیں۔

حالیہ کشیدگی کے دوران نفتالی بینیت نے اسلام آباد میں واقع نجی شفا ہسپتال کی تصویر دکھاتے ہوئے اسے فلسطینی تنظیم حماس کا غزہ میں موجود ہیڈ کوارٹر قرار دیا تھا۔

واضح رہے کہ فلسطینی علاقوں میں گذشتہ ماہ کیے جانے والے اسرائیلی حملوں میں 10 سے 21 مئی کے دوران 240 افراد مارے گئے تھے۔

20  مئی کو نفتالی بینیت نے ایک ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے کہا: ’غزہ میں موجود بڑا میڈیکل کمپلیکس اور حماس کا ہیڈکوارٹر جہاں سے یہ گروہ اسرائیل کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیاں کر رہا ہے۔‘

ان کے اس دعوے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف صارفین نے فوری طور پر نشاندہی کی کہ یہ تصویر دراصل اسلام آباد میں موجود شفا ہسپتال کی ہے۔

دوسری جانب پاکستانی دفتر خارجہ نے بھی دائیں بازو کی جماعت سے تعلق رکھنے والے اسرائیلی سیاست دان کے اس بیان پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس پر اعتراض اٹھایا تھا۔

’میں نے بہت سارے عربوں کو ہلاک کیا ہے‘

اسرائیلی اخبار ’دا یروشلم پوسٹ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق بینیت نے مبینہ طور پر کابینہ میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے ہونے والے مباحثے کے دوران انتہائی شدت پسندانہ تبصرے کیے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بینیت نے کہا ’اگر آپ دہشت گردوں کو پکڑتے ہیں تو آپ انہیں صرف ہلاک ہی کر سکتے ہیں۔‘

اسرائیلی قومی سلامتی کے مشیر یاکوف امیدور نے بینیت کے تبصرے کا جواب دیتے ہوئے کہا ’یہ عمل قانونی نہیں۔‘

اس کے جواب میں بینیت نے مزید کہا: ’میں نے اپنی زندگی میں بہت سارے عربوں کو ہلاک کیا ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں۔‘

’ابراہم فنڈ انیشی ایٹوز‘ کے شریک ایگزیکٹو ڈائریکٹر امون بیری سلیٹزیانو نے یروشلم پوسٹ کو بتایا کہ بینیت کی جانب سے تمام عربوں کو دہشت گرد قرار دینا ناقابل قبول ہے اور کوئی بھی ملک کسی وزیر کو اپنے شہریوں کے بارے میں اس طرح کی زبان استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔

یروشلم پوسٹ کو بینیت کے دفتر سے رابطہ کرنے پر جواب ملا کہ ان کے تبصرے اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ دہشت گردوں کے خلاف دو طرح کی کارروائیاں ہو رہی ہیں جس میں انہیں زندہ پکڑنا یا ہلاک کرنا شامل ہے۔

بیان میں کہا گیا: ’اگر آخر میں ہم گرفتار دہشت گردوں کو جانے دیں گے تو شاید ہمیں ان کو ہلاک کرنے کے مقصد کے لیے ایکشن لینا چاہیے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا