اویغور مسئلے کی تحقیقات کرنے والے عوامی ٹربیونل کی قانونی حیثیت؟

برطانیہ سے تعلق رکھنے والے ایک ٹربیونل نے چین کے اویغور مسلمانوں پر مظالم کی تحقیقات کرنے کا آغاز کر دیا ہے، اس ٹربیونل میں وکلا اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ماہرین شامل ہوں گے۔

یہ ٹربیونل ورلڈ اویغور کانگریس کی درخواست پر قائم کیا گیا ہے، جو جلا وطن اویغور افراد کی سب سے بڑی نمائندہ تنظیم ہے(فوٹو کریڈٹ: اے ایف پی)

برطانیہ سے تعلق رکھنے والے ایک  ٹربیونل نے چین کے اویغور مسلمانوں پر مظالم کی تحقیقات کرنے کا آغاز کر دیا ہے۔ اس  ٹربیونل میں وکلا اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ماہرین شامل ہوں گے۔ آج یعنی جمعے سے اس  ٹربیونل میں گواہوں سے شواہد اکٹھے کیے جانے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے جبکہ چین نے اس  ٹربیونل کو ’جھوٹ پھیلانے والی مشین‘ قرار دیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس ’اویغور ٹربیونل‘ میں نو افراد کی جیوری موجود ہو گی جو چین کے سنکیانگ صوبے میں ان مبینہ جرائم کی تحقیقات کرتے ہوئے گواہوں سے ان مظالم کے شواہد جمع کرے گی۔ ان مبینہ جرائم میں جنسی صلاحیت ختم کرنے، تشدد، لاپتہ کرنے اور جبری مشقت جیسے جرائم شامل ہیں۔ 

دی انڈپینڈنٹ کے مطابق ٹربیونل میں پیش ہونے والی تین مسلمان اویغور خواتین چین سے فرار ہو کر پہلے ترکی پہنچی تھیں۔ ان خواتین کا کہنا تھا کہ سنکیانگ میں چینی حکام نے انہیں زبردستی اسقاط حمل پر مجبور کرتے ہوئے تشدد کا نشانہ بنایا۔

ایک خاتون کا کہنا تھا کہ ’انہیں زبردستی اسقاط حمل پر مجبور کیا گیا جب وہ چھ ماہ سے زائد کی حاملہ تھیں۔‘

 جبکہ ایک مرد کے مطابق چینی فوجیوں کی جانب سے انہیں قید کے دوران ’دن رات‘ تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

پیپلز ٹربیونل جس کو کسی حکومت کی حمایت حاصل نہیں ہے لندن میں کی جانے والی ان سماعتوں کی بنیاد پر اس بات کا تعین کرے گا کہ کیا چین نے اویغور سمیت مسلمانوں کے دیگر گروہوں کے ساتھ نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا ہے؟

یہ ٹربیونل ورلڈ اویغور کانگریس کی درخواست پر قائم کیا گیا ہے، جو کہ جلا وطن اویغور افراد کی سب سے بڑی نمائندہ تنظیم ہے۔ یہ تنظیم بین الااقوامی برادری سے سنکیانگ میں کیے جانے والے مبینہ مظالم کے خلاف اقدامات اٹھانے کا مطالبہ بھی کرتی رہی ہے۔

 ٹربیونل کے نائب سربراہ نک ویٹچ نے اس  ٹربیونل پر چین کی تنقید پر ردعمل دینے سے انکار کیا ہے۔ نک ویٹچ نے اس سلسلے میں شواہد کی بنیاد پر غیر جانبداری سے کام کرنے کا دعوی کیا ہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ رواں ہفتے اور ستمبر میں ہونے والی سماعتوں کے دوران ’ہزاروں صفحات‘ کے دستاویزی ثبوتوں کا جائزہ لیا جائے گا۔

ان کے مطابق یہ ٹربیونل آزادانہ طور پر کام کر رہا ہے اور یہ صرف اور صرف شواہد کی بنیاد پر کام کرے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم نے چین کو بھی دعوت دی ہے کہ وہ ہمیں اپنے پاس موجود شواہد فراہم کرے۔ ابھی تک ہمیں ان کی جانب سے کچھ مہیا نہیں کیا گیا۔‘

اس  ٹربیونل کی رپورٹ دسمبر میں پیش کی جائے گی۔ گو کہ اس رپورٹ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہو گی لیکن  ٹربیونل میں شامل افراد اس کے ذریعے بین الااقوامی برادری کی توجہ اس معاملے کی جانب مبذول کروانا چاہتے ہیں تاکہ اس کے حوالے سے اقدامات کیے جا سکیں۔

پینل کے مطابق ’ٹربیونل کے فیصلے پر عمل کا انحصار تمام ممالک، بین الااقوامی اداروں، کمپنیوں، فن کاروں، طبی اور تعلیمی اداروں سمیت تمام لوگوں پر انفرادی سطح پر ہو گا۔ مارچ میں چین نے برطانیہ کے جن چار اداروں پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا تھا ’اویغور ٹربیونل‘ بھی ان میں شامل تھا۔

اس ٹربیونل کے سربراہ جیفری نائس جو کہ ایک برطانوی وکیل ہیں، کا نام بھی چین کی اعلان کردہ پابندیوں کے شکار اداروں اور افراد کی فہرست میں شامل تھا جبکہ ٹربیونل کی مشیر ہیلینہ کینیڈی پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

جیفری نائس اس سے قبل اقوام متحدہ کے لیے سربیا کے سابق سربراہ سلوبودان میلازوچ کے خلاف قانونی کارروائی کی قیادت کر چکے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جبکہ دوسری جانب چین نے اس ٹربیونل پر شدید تنقید کی ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان زہاؤ لیجیان نے گذشتہ ہفتے اس ٹربیونل کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’یہ ایک حقیقی ٹربیونل یا خصوصی عدالت نہیں بلکہ جھوٹ پھیلانے والی ایک مشین ہے۔ اسے ایسے افراد نے بنایا ہے جو کوئی حیثیت نہیں رکھتے اور ان کے ارادے بد نیتی پر مبنی ہیں۔‘

امریکی حکومت بھی چین پر سنکیانگ میں ’نسل کشی‘ کرنے کے الزامات عائد کر چکی ہے جبکہ برطانیہ اس اصطلاح کے استعمال سے تو گریز کرتا ہے لیکن وہ بھی جرمنی اور امریکہ کے گذشتہ ماہ کیے جانے والے مطالبے کی حمایت کر چکا ہے جس میں چین سے اویغور اقلیت پر ظلم بند کرنے کا کہا گیا تھا۔

چین کئی بار ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہہ چکا ہے کہ اس کے اس علاقے میں موجود کیمپس شدت پسندی روکنے اور آمدن بڑھانے کے لیے قائم ہیں۔

اس ٹربیونل کے قیام کا اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب امریکی صدر جی سیون سمٹ میں شرکت کے لیے برطانیہ پہنچ رہے ہیں۔ جو بائیڈن اس سے قبل بھی مغربی جمہوری ممالک سے چین کے خلاف سخت موقف اپنانے کا کہہ چکے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس خبر میں اے ایف پی اور دی انڈپینڈنٹ کی اضافی معاونت شامل ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا