’چیخیں، بیڑیاں، ریپ‘: اویغور مسلمانوں کے حراستی مراکز کا احوال

چین میں اویغور مسلمانوں کے لیے قائم حراستی مرکز میں مینڈارن پڑھانے والی ایک خاتون کا کہنا ہے کہ انہوں نے ’وہاں ہولناک سانحہ دیکھا ہے۔‘

مئی 2019 میں لی گئی اس تصویر میں سنکیانگ  کے شہر ہون کے باہر  ایک ممنکہ حراستی کیمپ  (اے ایف پی فائل)

ایک خاتون، جن کا دعویٰ ہے کہ انہیں چین کے اویغور حراستی مراکز میں ’بلند آواز میں روتے ہوئے‘ مردوں اور خواتین کو چین کی روائتی مینڈارن زبان پڑھانے پر مجبور کیا گیا، نے بند اور مقفل دروازوں کے پیچھے ہونے والے واقعات کی ایک نایاب جھلک دکھائی ہے۔

معلمہ قلبی نور صدیق کا کہنا ہے کہ انہیں2016 میں سیباغ ڈسٹرکٹ بیورو آف ایجوکیشن میں ہونے والے ایک اجلاس میں طلب کیا گیا اور بتایا گیا کہ وہ جلد ہی ’ان پڑھ لوگوں‘ کے ساتھ کام کریں گی۔2017 تک وہ حکومت کے زیرانتظام دو مراکز میں ’بیڑیوں میں بند‘ طلبہ کو مینڈارن زبان پڑھاتی رہیں۔

صدیق ازبک شہری ہیں جو وہ سنکیانگ میں پلی بڑھیں۔ انہوں نے 28 سال تک سکول کے چھ سے 13 سال کی عمر کے بچوں کو پڑھایا۔

جمعے کو امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدیق نے کہا کہ جب زیر حراست افراد حراستی مراکز میں پہنچتے تو وہ ’فٹ اور ہٹے کٹے ہوتے تھے اور ان کی آنکھوں میں چمک ہوتی تھی۔‘ لیکن جلد وہ کمزور اور بیمار ہوجاتے تھے۔

انہوں نے یاد کیا کہ وہ اپنے زیرزمین سطح کے کلاس روم کے اوپر سے باقاعدگی سے آنے والی چیخوں کی آوازیں سنتی تھیں۔ جب انہوں نے پوچھا تو ایک پولیس اہلکار نے تصدیق کی کہ ان زیرحراست افراد کی چیخوں کی آوازیں تھیں جنہیں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہوتا تھا۔

انہوں نے کہا:  ’میں نے ہولناک سانحہ دیکھا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

صدیق نے یہ بھی کہا ہے کہ جن حراستی مراکز میں انہوں نے کام کیا ان میں ایک میں خاتون پولیس افسر نے انہیں بتایا کہ وہ گارڈز کی طرف سے حراستی مراکز میں بند خواتین کو ریپ کرنے کی اطلاعات کی تحقیقات کر رہی ہیں۔ صدیق کے مطابق انہی خاتون پولیس افسر نے کہا کہ ان کے ساتھی مرد پولیس اہلکار شراب کے نشے میں دھت ہو کر ’ایک دوسرے کو بتاتے کہ انہوں نے لڑکیوں کو کس طرح تشدد اور ریپ کا نشانہ بنایا۔‘

چین کا اصرار ہے کہ ان نام نہاد ’پیشہ ورانہ تعلیم کے مراکز‘ میں ایسی کوئی بدسلوکی نہیں ہوتی۔ اس وجہ سے ان دعووں کی تصدیق نہیں کی جا سکی تاہم صدیق نے جو واقعات بیان کیے وہ ایسے ہی ہیں جو ان مراکز سے بچ نکلنے والے افراد نے اپنے تجربات کا ذکر تے ہوئے بتائے ہیں۔

اویغور خاتون ترسونے ضیاالدون نے ’سی این این‘ کی اسی رپورٹ میں بتایا کہ جب2018میں انہیں پکڑ کر سنکیانگ کے شہر غلجہ کے باہر قائم حراستی مرکز میں رکھا گیا تو انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا تھا۔

وہ نو ماہ تک اس مرکز میں رہیں۔انہوں نے ’گینگ ریپ کے متعدد واقعات‘ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’میں نے ایک دوسرے کمرے میں لڑکی کو روتے اور چیختے ہوئے سنا۔ میں نے دیکھا کہ تقریباً پانچ یا چھ مرد کمرے میں جا رہے تھے اور میں سوچا کہ وہ لڑکی پر تشدد کر رہے ہیں لیکن اس کے بعد مجھے گینگ ریپ کا نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد مجھے احساس ہوا انہوں نے اس لڑکی کے ساتھ بھی یہی کیا تھا۔‘

ضیاالدون نے امریکہ سے ہی نشریاتی ادارے کے ساتھ بات کی جہاں انہیں 2020 میں علاج کے لیے لے جایا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ وہ ستمبر 2019 میں قزاقستان واپس پہنچیں تھیں۔ انہیں چینی حکام کی طرف سے سختی سے حکم دیا گیا تھا کہ وہ حراستی مرکز میں اپنے گزرے ہوئے وقت کے بارے میں بات نہ کریں۔

ڈاکٹروں نے ان کا رحم نکال دیا تھا۔ ’سی این این‘ نے ان کا جو میڈیکل ریکارڈ دیکھا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی کمر کے نچلے حصے میں پھوڑے اور اندام نہانی سے خون بہنے سمیت ٹی بی کی تشخیص ہوئی۔

ضیاالدوین نے کہا کہ انہیں جو سرجریاں کروانی پڑیں اس کی وجہ حراستی مرکز میں ان کے ساتھ ہونے والا سلوک ہے۔

چینی حکومت نے اویغوروں کی نسل کشی کے الزامات کو مسلسل مسترد کیا ہے۔ ’سی این این‘ کو جاری کیے گئے بیان میں چینی حکومت نے کہا: ’سنکیانگ میں خواتین پر کوئی نام نہاد منظم جنسی حملہ یا بدسلوکی نہیں کی جاتی۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا