کشمیر میں تین سالہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کے خلاف احتجاج

سوموار کو 70 سے زائد افراد، جن میں سے پچاس سکیورٹی فورسز کے اہلکار تھے اس وقت زخمی ہوئے جب کشمیر کے مختلف علاقوں میں احتجاج پھوٹ پڑا۔

سرینگر کے مضافات میں 3 سالہ بچی کے ساتپ جنسی زیادتی کے خلاف مقامی عورتوں کا احتجاج۔ تصویر۔اےایف پی

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں منگل کو پولیس نے مسلسل دوسرے روز احتجاج کرنے والے ہزاروں طلبہ کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا ہے۔ یہ طلبہ ایک تین سالہ بچی کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

سوموار کو 70 سے زائد افراد، جن میں سے پچاس سکیورٹی فورسز کے اہلکار تھے اس وقت زخمی ہوئے جب کشمیر کے مختلف علاقوں میں احتجاج پھوٹ پڑا۔  منگل کو سری نگر میں ایک یونیورسٹی کے طلبہ نے کیمپس پر احتجاج کیا جب کہ سینکڑوں طالبات نے شہر کے مرکز میں جلد انصاف دلانے کے لیے احتجاج کیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس تین سالہ بچی کو گذشتہ بدھ کو مبینہ طور پر اس کے ہمسائے نے ایک خالی سکول کے واش روم میں جنسی تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس بچی کی ماں اس کی چیخیں سن کر اس تک پہنچی تو اسے باتھ روم میں زخمی حالت میں پایا۔

پولیس کے مطابق اس بچی کو ہسپتال لیجایا گیا جہاں اس کی حالت اب بہتر بتائی جا رہی ہے۔ مظاہرین اس سنبل میں ہوئے اس واقعے میں ملوث 20 سالہ شخص کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ پولیس نے اس سکول کے پرنسپل کو بھی گرفتار کر لیا ہے جس نے مبینہ طور پر ملزم کو کم عمر ظاہر کرنے کے لیے عمر کا ایک جعلی سرٹیفیکٹ جاری کیا تھا۔       

پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کرکے طلبہ کو ایک کالج تک محدود رکھنے کی کوشش کی۔ سکول کے طلبہ نے بھی ریاست کے مختلف قصبوں میں احتجاج کیا ہے۔ حکام نے احتجاج کو پھیلنے سے روکنے کی خاطر ہزاروں کی تعداد میں پولیس اور نیم فوجی ملیشیا کے اہکاروں کو تعینات کرنے کے علاوہ لوگوں کے اکٹھا ہونے پر بھی پابندی عائد کر دی۔

پولیس نے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دے دی ہے تاکہ تفتیش تیز طریقے سے کی جاسکے۔ اسی قسم کا ایک اور واقعے منگل کو گندربل کے علاقے میں بھی رپورٹ ہوا جس میں پولیس نے ملزم کو گرفتار کرکے تفتیش شروع کر دی ہے۔

علیحدگی پسند مولانا مسرور عباس کی اس جنسی زیادتی کے واقعے کے خلاف کال پر بطور احتجاج سکول، دکانیں اور کاروباری مراکز بھی بند رہے۔ مولانا مسرور نے صحافیوں کو بتایا کہ اس احتجاج کے ذریعے وہ لوگوں کو وادی میں ریپ کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بارے میں آگاہ کرنا اور مجرموں کو سخت سزا دلوانا چاہتے ہیں۔

بعض مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ عورتوں اور بچیوں کو محفوظ رکھنے کے حکام کے وعدوں پر اعتبار نہیں کرسکتے ہیں۔ حکومت کے اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ برس کے مقابلے میں عورتوں کے خلاف جرائم کی تعداد میں آٹھ فیصد اضافہ ہوا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ ریپ بھارت میں سب سے کم رپورٹ کیا جانے والا جرم ہے۔ بعض اندازوں کے مطابق 90 سے 95 فیصد واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے ہیں۔ ان جرائم میں سزا دیئے جانے کا تناسب بھی محض 19 فیصد بتایا جاتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا