سو برس پرانی باولی جسے بنانے ’ناگپور سے ماہرین نوشہرہ آئے‘

نوشہرہ کی اس باؤلی میں 64 سیڑھیاں موجود ہیں جو نیچے پانی تک پہنچاتی ہیں اور کوئی بھی شخص آسانی سے پانی تک پہنچ کر اسے استعمال کر سکتاہے۔

خیبر پختونخوا کے ضلع  نوشہرہ  سے تقریباً چھ کلومیٹر کی مسافت پر واقع  ایسوڑی بالا  نامی گاؤں میں  تقریباً100سال پرانی باؤلی  اب بھی اپنی اصل حالت میں موجود ہے جسے ’میر اسلم خان باؤلی‘ کہا جاتا ہے۔

مقامی لوگ  یہ  دعوی  کرتے ہیں کہ اسے میر اسلم خان نے بنایا تھا  جو علاقے کی بااثر شخصیت تھے۔ پشاور یونیورسٹی کے ایک تحقیقی مقالے کے مطابق  میر اسلم خان پشتو کے معروف شاعر خوشحال خان خٹک کی ساتویں پشت میں سے تھے۔ اسی مقالے کے مطابق میر اسلم خان نے  نوشہرہ سمیت موجودہ بھارت کے ناگپور شہر میں بھی پانی کے مختلف کنویں (باؤلیاں) تعمیر کیے تھے۔

نوشہرہ پہنچ کر اکوڑہ خٹک مدرسے سے آگے تقریبا ایک کلومیٹر بعد اس باؤلی کی طرف ایک کچا راستہ مڑتا ہے جو گاؤں کے بیچ سے ہو کر  آپ کو  باؤلی تک پہنچائے گا۔ باؤلی عام زبان میں کنویں کو کہا جاتا ہے تاہم باؤلی اس کنویں کو کہتے ہے جس کے پانی تک رسائی سیڑھیوں کے ذریعے ممکن ہو۔

نوشہرہ کی اس باؤلی میں بھی 64 سیڑھیاں موجود ہیں جو نیچے پانی تک پہنچاتی ہیں اور کوئی بھی شخص آسانی سے پانی تک پہنچ کر اسے استعمال کر سکتاہے۔ علاقے کے لوگ اس باؤلی کو ’اکبر بادشاہ کی باؤلی‘ کہتے ہیں۔

سمید خٹک کا تعلق اسی علاقے سے ہے اور گزشتہ کئی سالوں سے وہ اس باؤلی کے تحفظ اور اسے ایک تاریخی ورثہ قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انھوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ یہ باؤلی 1895 اور 1910 کے درمیان تعمیر کی گئی۔ اسی باؤلی کے قریب ایک روڈ مشہور صوفی شخصیت  سید کاسستیر گل عرف کاکا صاحب کے مزار کی طرف جاتا ہے۔ سمید نے بتایا کہ اس باؤلی کو بنیادی طور پر کاکا صاحب کے مزار پر جانے والے مریدوں کے لیے بنایا گیا تھا کیونکہ راستے میں پانی کا کوئی اور ذریعہ  موجود نہیں تھا۔

سمید نے بتایا ’جس شخص نے اس باؤلی کو تعمیر کیا ہے، وہ علاقے کی ایک سماجی شخصیت تھے اور اسی طرح سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ اس باؤلی کی تعمیر میں مقامی پتھر استعمال ہوئے جبکہ سمید خٹک کے مطابق اسے تعمیر کرنے کے لیے آرکیٹیکٹ ناگپور(موجود بھارت کے ایک شہر ) سے بلائے گئے تھے کیونکہ جس شخص نے اس کو تعمیر کیا ہے، وہ ناگپور میں بزنس کرتے تھے۔

پشاور کی مین گرینڈ ٹرنک روڈ (جی ٹی روڈ ) پر مختلف باؤلیاں تعمیر کی گئیں  تاہم اٹک سے لے کر پشاور تک جتنی بھی باؤلیاں تھیں سب ختم ہو گئیں اور صرف یہی ایک باؤلی اصلی حالت میں موجود ہے۔ سمید نے بتایا کہ دیگر باؤلیاں لوگوں نے پتھروں سے بھر دی ہیں یا ان کو ختم کر دیا گیا ہے۔

باؤلی کا طر ز تعمیر

پشاور یونیورسٹی کے تحقیقی مقاملے کے مطابق میر اسلم خان اصل میں کنسٹرکشن کے کاروبار سے وابستہ تھے ۔ انھوں نے اس باؤلی کو  تعمیر کرنے کے لیے ناگپور سے آرکیٹیکٹ بلائے تھے کیونکہ اس زمانے میں نوشہرہ یا پشاور وادی میں باؤلی بنانے کا رواج نہیں تھا اور یہی وجہ ہے کہ اس کے بنانے کے ماہرین بھی موجود نہیں تھے۔

یہ باؤلی دو حصوں میں تقسیم ہے۔ دائیں جانب ایک کنواں بنایا گیا ہے جس کی گہرائی تقریباً 13 میٹر ہے   جب کہ بائیں جانب  باؤلی میں داخلے کے لیے پتھروں سے بنایا ایک خوبصورت گیٹ ہے جس میں داخل ہوتے ہی سڑھیاں شروع ہوجاتی ہیں۔ ایک سیڑھی  کی چوڑائی تقریبا ایک فٹ ہے جس میں مستطیل شکل کے پتھر استعمال ہوئے ہے جب کہ اونچائی ایک فٹ سے کچھ کم ہے۔

پہلے سیڑھی سے باؤلی کے پانی تک کا راستہ تقریباً 91 فٹ ہے اور جب آپ کچھ سیڑھیاں نیچے جاتے ہیں تو ان سیڑھیوں کے اوپر پتھروں سے ایک خوبصورت چھت بھی بنائی گئی ہے۔

مقالے کے مطابق اٹک سے پشاور تک سات باولیاں بنائی گئی تھیں جن میں چمکنی باؤلی، ترناب باؤلی، اذاخیل باؤلی، اکوڑہ خٹک باؤلی، ہوائی باؤلی، ایسوڑی پائین باؤلی، آدم زئی باؤلی اورو جہانگیرہ میں تعمیر کردہ باؤلی شامل ہے۔ تاہم سمید خٹک کے مطابق  ایسوڑی بالا میں موجود باؤلی کے علاوہ باقی تمام باؤلیاں اب اپنی اصلی حالت میں نہیں ہیں۔

باؤلی کی تاریخ کتنی پرانی ہے ؟

پشاور یونیورسٹی شعبہ آرکیالوجی کے ’انشینٹ پاکستان‘ نامی جریدے کے ایک شمارے میں باؤلی پر تفصیل سے بات کی گئی ہے۔ ’مسلم دور میں پانی ، سڑک  ، پل اور کنویں کو بنانے کو بہت مقدس سمجھا جاتا تھا کیونکہ اس سے بہت سے لوگوں کو فائدہ پہنچتا تھا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مقالے میں لکھا گیا ہے کہ اسلام سے پہلے بر صغیر میں باؤلی کا تعلق مندروں سے تھا جبکہ زیادہ تر یہ باؤلیاں گاؤں اور ٹاونز میں بنیں جب کہ تجارتی راستوں پر بھی مسافروں کی سہولت کے لیے باؤلی کو تعمیر کیا جاتا تھا۔ ہندو طرز تعمیر میں چار قسم کی باؤلی تعمیر کرنے کا رواج تھا جو مختلف سائز کی تھیں اور اس کی آج کل سب سے زیادہ مثالیں بھارت کے شہر گجرات میں ملتی ہے۔

اسی طرح اسلام کے ابتدائی دنوں میں باؤلی کے تعمیر کے حوالے سے زیادہ ذکر نہیں ہے تاہم تحقیقی مقالے کے مطابق تاریخ کے کتابوں میں لکھا گیا ہے کہ پہلی باؤلی سن 1210 سے 1236 کے درمیان سلطان شمس الدین التتمش کے دور میں تعمیر کی گئی۔

باؤلی کا طرز تعمیر احمد شاہی دور میں بلندی تک پہنچ گیا تھا جس میں سب سے مشہور باؤلی ’بھائی حریر باؤلی‘ بنائی گئی تھی جب کہ احمد آباد میں 17 کلومیٹر لمبی باؤلی بھی بنائی گئی تھی ۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا