فلسطینیوں کو اسرائیلی شہریت حاصل کرنے سے روکنے والا قانون ختم

2003 سے چلا آ رہا شہریت کا متنازع قانون اسرائیلی پارلیمان سے منظور نہ ہو سکا جس کے تحت اسرئیلی شہریوں سے شادی کرنے والے فلسطینی اسرائیلی شہریت حاصل نہیں کر سکتے تھے۔

29 جون کو اسرائیلی پارلیمان کے باہر شہریت کے متنازع قانون کے خلاف مظاہرہ (اے ایف پی)

اسرائیل کی نئی حکومت کو اس وقت ایک بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا جب وہ پارلیمان سے شہریت کے ایک متنازع قانون کی تجدید کروانے میں ناکام رہی۔ 

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق شہریت کا یہ متازع قانون اسرئیلی شہریوں سے شادی کرنے والے فلسطینیوں کو اسرائیلی شہریت حاصل کرنے سے روکتا ہے۔

ایک ماہ قبل ہی عہدہ سنبھالنے والے وزیر اعظم نفتالی بینٹ کے لیے یہ ان کے اقتدار کا پہلا اہم سیاسی امتحان تھا۔ وزیر اعظم بییٹ ایک متوع  اتحاد کے سربراہ ہیں جس میں ان کی کٹر قوم پرست پارٹی سمیت، ایک بائیں بازو جماعت اور عرب جماعت بھی شامل ہیں۔

ان کی حکومت کی نازک صورت حال اس وقت ہی ظاہر ہو گئی جب منگل کی صبح ہی ووٹنگ میں ان کی حکومت ’سیٹیزن شپ اینڈ اینٹری انٹو اسرائیل لا‘ نامی قانون کی تجدید کے لیے پارلیمان میں سادہ اکثریت ووٹ حاصل کرنے میں ناکام ہو گئی۔

اے ایف پی کے مطابق ووٹنگ 59-59 پر ٹائی ہو گئی، جس کا مطلب ہے کہ یہ قانون ختم ہو گیا ہے۔

یہ قانون اسرائیلی شہریوں سے شادی کرنے والے مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں رہنے والے فلسطنیوں کو خوبخود اسرائیلی شہریت اور رہائش کے حقدار ہونے سے روکتا تھا۔ تاہم کچھ  لوگوں کو انفرادی کیس کی بنیاد پر اس سے استشنیٰ بھی مل جاتا تھا۔  

شروع میں اس قانون کو ایک سال کے لیے نافذ کیا گیا تھا مگر بعد میں اس کی ہر سال تجدید ہوتی رہی۔

سابق وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو، جن کے دور میں اس قانون کی تجدید ہوتی رہی ہے، اور موجودہ حزب اختلاف کے قائد نے  اس بار اس کی تجدید کے خلاف ووٹ دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نتن یاہو پہلے ہی اس حکومت کو اسرائیل کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکے ہیں اور کہہ چکے ہیں کہ وہ اس کو گرانے کی پوری کوشش کریں گے۔

اتحادی پارٹیوں کے کچھ ارکین نے بھی قانون کی تجدید کے حق میں ووٹ نہیں دیا۔

اسرائیل میں یہ قانون 2003 میں منظور ہوا تھا جب فلسطین میں بغاوت عروج پر تھی۔ اس وقت اس کا جواز یہ دیا گیا تھا کہ اسرائیلی شہریوں سے شادی کرنے والے فلسطینی اسرائیل کے خلاف حملوں میں مدد کرنے کے لیے اپنی قانونی حیثیت کا استعمال کرتے ہیں، تاہم انسانی حقوق پر کام کرنے والے اداروں نے اسے امیازی قانون قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ عرب اسرئیلیوں اقلیت کو نشانہ بناتا ہے۔

اس قانون کی وجہ سے اسرائیل بھر اور 1967 سے اس کے زیرقبضہ علاقوں میں بسنے والے فلسطینیوں کو بہت مسائل کا سامنا تھا۔ ان میں سے بہت سے ایسے افراد شامل تھے جو مشرقی بیت المقدس  میں رہنے کی وجہ سے اسرئیلی میں رہتے تو تھے مگر ان کے پاس اسرائیلی شہریت نہیں تھی۔

اس سے قبل پیر کو پارلیمان کے باہر اس قانون کے خلاف ایک مظاہرے میں شامل افراد نے بتایا  تھا کہ کیسے انہیں اپنے شوہر یا اہلیہ سے ملنے کے لیے پرمٹ حاصل کرنے میں مسائل پیش آتے ہیں  تا بغیر اجازت نامے کے اسرایئلی حدور میں داخل ہونے کی کیا مشکلات تھیں۔

علی مہتاب نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی اہلیہ کے پاس اسرائیلی میں رہنے کا حق نہ ہونے کی وجہ سے ان کا خاندان ایک ’مسلسل جیل‘ میں تھا۔ انہوں نے کہا، ’میں ریاست سے اپنی اہلیہ کے حقوق مانگ رہا ہوں۔۔۔ کہ ان کے پاس اسرائیلی شناختی کاغذات ہوں، رہنے کے حقوق ہوں اور گھومنے پھرنے کی آزادی ہو۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا