کابل میں پھنسے پاکستانی: ’پیسے بھی ضائع، سعودی عرب بھی نہیں گئے ‘

سعودی عرب نے کرونا وبا کے پھیلاؤ کے خطرے کے پیش نظر افغانستان سے بھی پروازیں چار جولائی کو منسوخ کردی ہیں، جس کے باعث براستہ کابل جانے والے بہت سے پاکستانی وہاں پھنس گئے ہیں۔

19 مئی 2021 کی اس تصویر میں اسلام آباد  میں واقع افغان قونصل خانے کے باہر لوگ ویزے کے حصول کے لیے قطار بنائے کھڑے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

’سعودی عرب واپس نہ جاتا تو کیا کرتا۔ پچھلے پانچ مہینوں سے گھر میں بے روزگار بیٹھا ہوں اور جو پیسے سعودی عرب سے کما کر لایا تھا وہ بھی ختم ہوگئے لیکن اب کابل میں پھنس گئے اور اوپر سے لاکھوں روپے بھی ضائع ہوگئے۔‘

یہ کہنا تھا خیبر پختونخوا کے ضلع کرم سے تعلق رکھنے والے نبیل احمد کا جو پاکستان سے براستہ کابل سعودی عرب جا رہے تھے لیکن گذشتہ تین دن سے افغانستان کے دارالحکومت میں پھنس گئے ہیں کیونکہ سعودی عرب نے کرونا (کورونا) وبا کے پھیلاؤ کے خطرے کے پیش نظر افغانستان سے بھی پروازیں چار جولائی کو منسوخ کردی ہیں۔

نبیل نے  کابل سے بذریعہ ٹیلیفون انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ پانچ مہینے پہلے دو ماہ کی چھٹی پر پاکستان آئے تھے لیکن سعودی عرب نے کرونا وبا کے خطرے کے پیش نظر پاکستان سے پروازیں منسوخ کردیں اور یوں وہ واپس نہیں جا سکے۔

نبیل نے بتایا: ’میں نے انتظار کیا کہ پروازوں کا سلسلہ بحال ہوجائے گا لیکن جب پانچ مہینے گزر گئے اور گھر کے اخراجات کا مسئلہ ہونے لگا تو میں نے براستہ کابل سعودی عرب جانے کا فیصلہ کیا کیونکہ یہاں میں کوئی کام نہیں کر سکتا تھا اور سعودی عرب کے ویزے کی مدت ختم ہونے کا خدشہ تھا۔‘

انہوں نے مزید بتایا: ’براستہ کابل سعودی عرب جانا مہنگا تھا کیونکہ ٹکٹ بھی مہنگا تھا اور کابل میں 14 دن قرنطینہ میں گزارنے کا خرچہ بھی  دینا تھا لیکن اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔‘

بقول نبیل: ’عام دنوں میں پاکستان سے سعودی عرب کا ٹکٹ 60 ہزار سے 80 ہزار تک ملتا ہے اور براستہ کابل سعودی عرب جانے پر تقریباً تین لاکھ تک خرچہ آنا تھا لیکن اس کی پروا کیے بغیر بہت سے مسافر سعودی عرب چلے گئے، مگر ہم پھنس گئے۔‘

نبیل نے بتایا کہ سعودی عرب واپس جانے کی دوسری بڑی وجہ اقامے کی معیاد ختم ہونا تھا۔ اقامہ سعودی قوانین کے مطابق کام کرنے کا ایک اجازت نامہ ہوتا ہے، جسے ورک پرمٹ بھی کہتے۔ نبیل کے مطابق اگر اقامہ ختم ہوجاتا تو وہاں اس کی تجدید کے لیے الگ سے 15 ہزار سعودی ریال یعنی تقریباً چھ لاکھ روپے دینے پڑتے۔

انہوں نے بتایا: ’اگر اقامے کی معیاد ختم ہوجاتی تو اس کی تجدید کے لیے فیس جمع کرکے پھر میں ایک سال تک سعودی عرب میں اس فیس کو پورا کرنے کے لیے مزدوری کرتا کیونکہ میری تو وہاں ماہانہ تنخواہ ہی صرف 1500 ریال ہے۔ مجبوری کی وجہ سے واپس سعودی عرب جا رہا تھا ورنہ کون چاہتا کہ عید اتنی قریب ہو اور وہ گھر سے باہر جا کر عید کے دن گزارے۔‘

پاکستانی سفارت خانے کے مطابق اس وقت افغانستان میں چار ہزار سے زائد پاکستانی مسافر پھنس گئے ہیں، جو سعودی عرب جا رہے تھے اور اب ان کی پاکستان واپسی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

سفارت خانے کے مطابق ان تمام مسافروں کو بسوں کے ذریعے طورخم بارڈر کے ذریعے پاکستان لایا جائے گا جبکہ ان کو دو ہزار افغانی بھی خرچے کے لیے دیے جائیں گے۔

’کابل والے خوش تھے کہ پیسے آرہے ہیں‘

شیخ یٰسین کا تعلق صوابی سے ہے اور وہ سعودی عرب میں ملازمت کرتے ہیں۔ وہ بھی رواں سال جنوری میں چھٹی پر پاکستان آئے تھے، لیکن پروازوں کی منسوخی کی وجہ سے وہ سعودی عرب نہیں جاسکے تو انہوں نے براستہ کابل جانے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ مئی میں افغانستان کا ویزہ لگوانے گئے اور پھر کابل چلے گئے جہاں سے دو جون کو وہ سعودی عرب روانہ ہوگئے۔

یٰسین منی ٹرانسفر کی ایک کمپنی میں ملازمت کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ براستہ کابل سعودی عرب جانا اسی سال رمضان میں شروع ہوا تھا اور تب سے اب تک ہزاروں پاکستانی براستہ کابل سعودی عرب جا چکے ہیں۔

بقول یٰسین: ’اب ہزاروں پاکستانی جو پھنس گئے ہیں، ان کے لیے سعودی عرب سے ان کے رشتے دار اور دوست پیسے افغانستان بھیجتے ہیں، جس سے افغانستان والے بہت خوش ہے کہ کچھ نہ کچھ بزنس تو آرہا ہے۔‘

’کابل میں میرے کچھ ٹریول ایجنٹس دوست بتاتے تھے کہ سیر و سیاحت کی مد میں ویسے بھی پیسے افغانستان نہیں آتے لیکن یہ پہلی مرتبہ ہورہا ہے کہ براستہ کابل پاکستانی سعودی عرب جا رہے ہیں، جس سے بہت سے لوگوں کے روزگار کو چار چاند لگ گئے ہیں۔ ‘

یٰسین نے بتایا کہ جو مسافر سعودی عرب پہنچ گئے، ان کے تو پیسے کم از کم ضائع نہیں ہوئے لیکن ابھی جو پھنس گئے تو ان کے پیسے بھی ضائع ہونے کا خدشہ ہے اور وہ سعودی عرب بھی نہیں پہنچے۔  انہوں نے بتایا کہ اب بھی بہت سے پاکستانی اس انتظار میں بیٹھے ہیں کہ افغانستان میں جن ٹریول ایجنٹس کے ذریعے وہ سعودی عرب کا ٹکٹ لے چکے ہیں، وہ پیسے ان کو واپس کیے جائیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب نبیل احمد نے بتایا: ’پاکستانی جب براستہ کابل جاتے تھے تو وہاں انہیں کرونا ٹیسٹ سمیت ہوٹل میں قرنطینہ کے لیے بکنگ بھی کرنی پڑتی تھی، جس سے ہوٹل کا بزنس بھی ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا۔ساتھ ہی افغانستان کی ایئر لائنز جو سعودی عرب جاتی تھی، نے بھی ٹکٹس مہنگے کردیے۔‘

محمد امین کا تعلق ضلع دیر سے ہے اور وہ بھی براستہ کابل افغانستان جانا چاہتے تھے لیکن کابل میں پھنس گئے تھے۔ انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’پہلے تو میں نے ویزے کے حصول کے لیے رمضان میں پشاور میں واقع افغان قونصل خانے کے چکر لگائے اور بہت کوششوں کے بعد ویزا مل گیا کیونکہ رش بہت زیادہ ہوتا تھا اور لوگ صبح جلدی باری آنے کے لیے رات سے ہی لائن میں لگ جاتے تھے۔‘

امین نے بتایا کہ ’ویزے کا سلسلہ مکمل ہوگیا اور میں تقریباً ہفتہ پہلے کابل پہنچ گیا، جہاں ایک مقامی ہوٹل میں 14 دن کے لیے قرنطین ہوگیا  اور اس کا خرچہ تقریباً 500 ڈالر یعنی تقریباً 80 ہزار روپے تھے جو میں نے ادا کیے، لیکن چار جولائی کو پروازیں بند ہوگئیں اور یوں ہم وہاں پھنس گئے۔‘

انہوں نے مزید بتایا: ’پروازیں منسوخ ہونے کے بعد ہوٹل انتظامیہ اور پاکستانی سفارت خانے والے کہتے تھے کہ آپ کو واپس پاکستان بھیج دیا جائے گا لیکن میں نے سوچا کہ اس میں وقت لگے گا تو کرائے پر گاڑی لے کر طورخم کے راستے پاکستان واپس آگیا۔‘

بقول امین: ’یہ پورا سفر انتہائی گھٹن بھرا تھا کیونکہ ایک تو ویزے کا عمل رش کی وجہ سے اتنا مشکل بنا دیا گیا اور دوسری جانب جب کابل پہنچ گئے تو وہاں پروازیں منسوخ ہوگئیں۔‘

انہوں نے بتایا: ’مسئلہ یہ تھا کہ اگر میں واپس نہیں جاتا تو میرا ویزا ختم ہوسکتا تھا کیونکہ کمپنی والے کہتے تھے کہ ڈیوٹی واپس جوائن کروں اور ساتھ میں اقامہ بھی ختم ہونے والا تھا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان