ارب پتی رچرڈ برینسن کا خلائی سفر کیسا ہو گا؟

ورجن گیلیکٹک کمپنی کے مالک رچرڈ برینسن اتوار کو خلائی سفر کے لیے تیار ہیں۔

ورجن گیلیکٹک کمپنی اپنے سربراہ کو خلا میں بھیجنے والی دنیا کی پہلی نجی راکٹ کمپنی بن جائے گی جب رچرڈ برینسن اتوار کو ہموار اور چمک دار سطح والے خلائی جہاز پر سوار ہوں گے۔

نیو میکسیکو کے جنوبی صحرا سے اتوار کو اڑان بھرنے والی ٹیسٹ پرواز میں کمپنی کے پانچ دیگر ملازمین بھی برینسن کے ہم سفر ہوں گے۔

یہ کمپنی کے خلا کے کنارے تک پہنچنے کا ایسا چوتھا سفر ہے۔

برینسن نے خود کو ورجن گیلیکٹک کے پورے عملے کے ساتھ پہلی مکمل پرواز کے لیے پیش کیا ہے اور ایسا کرنے سے وہ راکٹ انڈسٹری میں اپنی حریف کمپنی ’بلیو اوریجن‘ کے سربراہ جیف بیزوس پر برتری حاصل کر لیں جو خود بھی خلا کے سفر کی خواہش رکھنے والے ان سے بھی امیر بزنس مین ہیں۔

بیزوس 20 جولائی کو ویسٹ ٹیکساس پرواز کے ذریعے خلا میں اپنے پہلے سفر پر روانہ ہوں گے۔

برینسن کی خلائی سواری اور کمپنی پر ایک مختصر نظر

باس آن بورڈ

لندن میں پیدا ہونے والے ورجن گروپ کے بانی صرف ایک ہفتے بعد 71 سال کے ہو جائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ خلا کے سفر پر جانے سے ’بالکل بھی خوف زدہ نہیں اور ایسا کرنا ان کی عمر بھر کا خواب ہے۔‘ 

طویل عرصے سے فٹنس کے جنون میں مبتلا برینسن اس سفر کی تیاری کے لیے مزید کوششیں کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں انہوں نے کئی مختصر بلند اور نچلی پروازوں میں سفر کی مشق کی ہے۔

جیسا کہ ان کا کہنا ہے ’میں اب 70 کی دہائی میں ہوں لہٰذا آپ یا تو خود کو کچھ کرنے کے لیے نااہل سمجھ لیں یا آپ فٹ رہیں اور زندگی سے لطف اٹھائیں۔‘

دوہرے فیولیج راکٹ سے منسلک ایئر کرافٹ پر سوار ہوتے وقت برینسن کی اہلیہ، ان کے بچے اور پوتے پوتیاں بھی لانچنگ سائٹ پر انہیں الوداع کہنے کے لیے موجود ہوں گے۔

ان کا اس سفر کے بارے میں کہنا ہے کہ ’خلا میں پہنچنے کے بعد تین سے چار منٹ تک بے وزنی کی کیفیت کے دوران میں اپنی خوبصورت زمین کا نظارہ کر سکوں گا اور اس کو اپنے اندر محفوظ کر لوں گا اور اس احساس سے لطف اندوز ہوں گا کہ اس سے قبل صرف 500 دیگر لوگوں نے ہی یہ کام کیا ہے۔

’اصل میں 600 کے قریب لیکن پھر بھی یہ نسبتاً کم تعداد ہے۔ لینڈنگ پر وہ سب میرے چہرے پر ایک عظیم اور زبردست مسکراہٹ دیکھ کر اس کا جشن منائیں گے۔‘

اور کون کون خلا کے سفر پر جا رہا ہے؟

راکٹ ایئرکرافٹ کو مدر شپ سے علیحدہ ہو کر خلا میں دھکیل دیے جانے اور پھر رن وے کی طرف نیچے اتارنے تک کے لیے دو پائلٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

برینسن کا خلائی جہاز اڑانے والے چیف پائلٹ ڈیوڈ میکے کا یہ خلا کا تیسرا سفر ہوگا۔ میکے رائل ایئرفورس کے سکاٹش نژاد ٹیسٹ پائلٹ رہ چکے ہیں۔ دوسرے پائلٹ چیف فلائٹ انسٹرکٹر مائیکل ماسوسی ہیں۔

ان کے علاوہ چیف اسٹروناٹ انسٹرکٹر بیت موسیز ہیں۔ سابق ناسا انجینیئر موسیز بھی دوسری بار خلا کا سفر کر رہے ہیں۔

برینسن کے ہم سفر دیگر دو افراد میں لیڈ آپریشن انجینیئر کولن بینیت اور کمپنی کی نائب صدر سریشا بینڈلا بھی شامل ہیں۔

ناسا کے سابق خلاباز کیلی لاتیمر اور سی جے سٹورکو مدر شپ کے پائلٹس ہوں گے جو ان چھ افراد کو خلا میں دھکیلیں گے۔

راکٹ جہاز

ورجن گیلیکٹک کا خلائی جہاز ’یونیٹی‘ خاص طور پر ڈیزائن کردہ ڈبل طیارے سے منسلک ہو گا جس کا نام برینسن کی آنجہانی والدہ ایئو کی مناسبت سے رکھا گیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تقریباً 50 ہزار فٹ کی بلندی تک پہنچنے کے بعد خلائی جہاز مدر شپ سے علیحدہ ہوجائے گا اور راکٹ موٹر 3 جی یا زمین کی کشش ثقل سے تین گنا زیادہ طاقت سے ایئر کرافٹ کو خلا تک پہنچنانے کے بعد بند ہوجائے گی۔

اس جہاز کی زیادہ سے زیادہ 88 کلو میٹر کی بلندی تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ خلا میں پہنچنے کے بعد یہ جہاز اپنی سواریوں کی طرح خاموشی سے تیرنا شروع کر دے گا۔

اس دوران پائلٹس سیٹ بیلٹس کھول دیں گے اور اس میں سوار افراد جہاز کی 17 کھڑکیوں سے زمین اور سیاہ چادر کی طرح پھیلے خلا کا دل فریب نظارہ کریں گے۔

چند منٹ کی بے وزنی کی کیفیت کے بعد تمام سواریاں واپس اپنی سیٹس پر بیٹھ جائیں گی کیونکہ جہاز زمین پر واپس لوٹنے کے لیے خود کار پوزیشن لے لے گا اور اس کے پر بھی خود کار طریقے سے اڑان کے لیے تیار ہو جائیں گے۔

پھر راکٹ جہاز ناسا کی خلائی شٹل کے انداز میں زمین کی طرف غوطہ کھائے گا اور 15 منٹ کی فری فلائٹ کے بعد زمین کو چھو لے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا