نئے چینی خلائی سٹیشن سے پہلی خلائی چہل قدمی کامیاب

زمین کے مدار میں گھومتے چین کے نئے خلائی سٹیشن تیان گونگ کے باہر خلابازوں نے سات گھنٹے کام کرتے خلائی چہل قدمی کی۔

چار جولائی کو لی گئی اس تصویر میں بیجنگ ایئروسپیس سنٹر کی سکرین پر ایک چینی خلا باز کو کور موڈیول آف چائینہ سپیس سنٹر سے باہر نکلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ دو خلا بازوں نے اتوار کو 15 میٹر لمبے روبوٹک آرم کی تنصیب کے لیے پہلی بار چینی خلائی مرکز سے باہر نکل کر چہل قدمی کی۔ (اے پی)

چینی خلابازوں نے ملک کی تاریخ کی پہلی خلائی چہل قدمی کامیابی سے مکمل کر لی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق زمین کے مدار میں گھومتے چین کے نئے خلائی سٹیشن تیان گونگ کے باہر خلا بازوں نے سات گھنٹے کام کرتے خلائی چہل قدمی کی۔

چین نے خلائی دوڑ میں اپنا حصہ ڈال رکھا ہے، جس میں اس کے اپنے خلائی سٹیشن کی تعمیر سمیت، چاند اور مریخ کے مشن پر خلائی جہاز بھی بھیجے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گذشتہ ماہ تین چینی خلا بازوں نے نئے سٹیشن تیان گونگ کی جانب سفر کیا جہاں وہ تین ماہ کے لیے قیام کریں گے۔

چائنا مینڈ سپیس ایجنسی نے کہا کہ اتوار کو دو خلاباز خلائی چہل قدمی کے لیے سٹیشن سے نکلے اور سات گھنٹوں تک باہر کام کیا۔

ایک بیان میں اس نے کہا: ’خلا بازوں لیو بومنگ اور ٹینگ ہونگبو کی تیانہی موڈیول میں بحفاظت واپسی سے ہمارے خلائی سٹیشن کی تعمیر کی پہلی خلائی چہل قدمی کامیاب رہی۔‘

ملک کے سرکاری میڈیا کے مطابق خلابازوں نے تیانہی کور موڈیول کے باہر ایک پینوریمک کیمرا کو اونچا کیا اور سٹیشن کے روبوٹک بازو پر بھی ٹیسٹ کیے جس سے مستقبل میں سٹیشن میں مزید موڈیول نصب کیے جائیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سائنس