کراچی: شہری حکومت کے ایڈمنسٹریٹر کے اختیارات کیا ہیں؟

سندھ حکومت نے مرتضیٰ وہاب کو کراچی کا ایڈمنسٹریٹر تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے، مگر ایڈمنسٹریٹر کے اختیارات ہیں کیا؟

مرتضیٰ وہاب کو پہلی بار اپریل 2015 میں سندھ کابینہ میں وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے قانون کے طور پر شامل کیا گیا تھا (مرتضٰی وہاب ٹوئٹر اکاؤنٹ)

سندھ حکومت کی جانب سے وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر مرتضیٰ وہاب کو ایڈمنسٹریٹر کراچی تعینات کرنے کے بعد سندھ میں حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے ان کی تعیناتی پر اعتراض کیا جا رہا ہے۔

یہ فیصلہ صوبائی کابینہ کے گذشتہ اجلاس میں کیا گیا تھا اور وزیر اعلیٰ سندھ کی تجویز پر پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے مرتضیٰ وہاب کی بطور ایڈمنسٹریٹر تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ کے ترجمان عبدالرشید چنا نے انڈپینڈنٹ کو تصدیق کی کہ مرتضیٰ وہاب کو ایڈمنسٹریٹر کراچی بنانے کا حتمی فیصلہ ہو چکا ہے اور جلد ہی نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائے گا۔ 

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ امریکہ کے نجی دورے پر ہیں اور ان کی اگلے ہفتے واپسی پر مرتضیٰ وہاب کی بطور ایڈمنسٹریٹر تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائے گا۔

تاہم گذشتہ ہفتے گورنر سندھ عمران اسماعیل، جن کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے ہے، کہہ چکے ہیں مرتضیٰ وہاب کی تعیناتی کو کسی بھی صورت منظور نہيں گیا جائے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسی طرح متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان نے بھی اس فیصلے پر اعتراض کیا ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے دو روز قبل مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت نے ایم کیو ایم سے اس معاملے پر کوئی مشاورت نہیں کی ہے اور وہ ایسے فیصلے کو قبول نہیں گریں گے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفگتو کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے رکن سندھ اسمبلی جاوید حنیف خان نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کراچی پر قبضہ کرکے اپنا سیاسی اثر رسوخ بنانا چاہتی ہے، تاکہ وہ کراچی سے کچھ نششتیں جیت سکیں۔

ان کے مطابق: ’یہ آج کی بات نہیں۔کئی سالوں سے پی پی پی نے کراچی کی شہری حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں بشمول پولیس پر اپنا قبضہ کرنے کے لیے صوبے کے دیگر اضلاع سے لوگ لاکر تعینات کردیے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا: ’اس کے بعد (پی پی پی نے) بلدیاتی اداروں پر اثرانداز ہونا شروع کیا۔ کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، سالڈ ویسٹ مینیجمنٹ، نالوں کی صفائی کا نظام اور کراچی ماسٹر پلان سمیت کئی اداروں کا انتظام مئیر کے لے لیا گیا، میئر کے پاس صرف جھاڑو لگانے کا کام رہ گیا ہے۔ اور اب ایک انتظامی پوسٹ کو سیاسی پوسٹ بنانا چاہتے ہیں، جس پر ہم بھرپور مزاحمت کریں گے۔‘

اس حوالے سے جب سندھ حکومت کے ترجمان عبدالرشید چنا سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا: ’یہ ایک انتظامی معاملہ ہے اور کوئی بھی انتظامی فیصلہ کرنے کے لیے سندھ حکومت خودمختیار ہے۔ کسی کی مخالفت سے فیصلے روکے نہیں جاتے۔ کیا پی ٹی آئی جب لاہور اور دیگر شہروں میں ایڈمنسٹریٹر تبدیل کرتی ہے تو کسی سے مشاورت کی جاتی ہے؟‘

’دل سے خدمت کرنا چاہتا ہوں‘

تعیناتی کے خلاف سیاسی پارٹیوں کے درعمل پر تبصرے کے لیے جب مرتضیٰ وہاب سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ چونکہ ابھی تک ان کی تقرری نہیں ہوئی ہے تو وہ اس پر بات نہیں کر سکتے، تاہم انہوں نے یہ ضرور کہا کہ اگر انہیں ذمہ داریاں دی گئیں تو وہ پورا کریں گے۔  

مرتضیٰ وہاب کے بقول: ’میں وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر کی حیثیت سے کراچی کے بلدیاتی معاملات پر پہلے بھی کام کرتا رہا ہوں۔ مجھے جو بھی ذمہ داریاں دی جائیں گی میں ان کو پورا کروں گا۔ میں کراچی شہر کی دل سے خدمت کرنا چاہتا ہوں، پتہ نہیں کیوں مخالفت کی جارہی ہے۔‘

مرتضیٰ وہاب کو ایڈمنسٹریٹر کراچی کیوں بنایا جارہا ہے؟

پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک رہنما نے انڈپینڈنٹ اردو کو نام نہ ظاہر کی شرط پر بتایا کہ کراچی سے تعلق رکھنے والے اکثر پی پی پی رہنماؤں کے پاس پارٹی کو الیکشن میں جتوانے والا حلقہ نہیں ہے۔ اس لیے پی پی پی کی سندھ میں حکومت بننے کی صورت میں انہیں مخصوص نششتوں پر یا مشیر بنا کر سندھ کابینہ کا حصہ بنایا جاتا ہے۔  ’مگر اب پارٹی قیادت چاہتی ہے کہ مرتضیٰ وہاب اپنی نششت بنائیں، اس لیے انہیں ایڈمنسٹریٹر تعینات کیا جارہا ہے، تاکہ وہ اپنا حلقہ بنا سکیں۔‘ 

واضح رہے کہ مرتضیٰ وہاب کو پہلی بار اپریل 2015 میں سندھ کابینہ میں وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے قانون کے طور پر شامل کیا گیا۔ بعد میں انہیں صوبائی وزیر کا رتبہ بھی دے دیا گیا۔ پھر انہیں پارٹی قیادت نے سینیٹر بنا دیا۔ 2018 سے اب تک وہ وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر ہیں اور انہیں صوبائی وزیر کا رتبہ ملا ہوا ہے۔ 

ایڈمنسٹریٹرز کی تاریخ 

کراچی میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی) یا بلدیہ عظمیٰ کراچی کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق 1972 سے 2002 تک کے 30 سالوں کے دوراں کراچی میں دو منتخب میئر، عبدالستار افغانی (1979 سے 1983) اور ڈاکٹر فاروق ستار (1987 سے 1992) رہے ہیں جبکہ ایڈمنسٹریٹر 17 رہے ہیں۔

ان 17 ایڈمنسٹریٹرز میں سے دو پاکستان فوج کے ریٹائرڈ افسران، بریگیڈیئر (ر) پیر بادشاہ گیلانی اور بریگیڈیئر (ر) عبدالحق تھے۔

باقی ایڈمنسٹریٹرز کو سیاسی بنیادوں پر تعینات کیا گیا تھا، جن میں اپریل 1994 سے اپریل 1996 تک ایڈمنسٹریٹر رہنے والے فہیم الزمان خان کی تعیناتی سابق وزیر اعظم پاکستان بےنظیر بھٹو کی سفارش پر ہوئی، جبکہ اگست 1999 سے اکتوبر 1999 تک ایڈمنسٹریٹر رہنے والے مشاہد اللہ خان کی تعیناتی اس وقت ک حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کی سفارش پر ہوئی۔ باقی 15 افراد بیوروکریٹ تھے۔ 

2001 میں سابق فوجی آمر پرویز مشرف نے مقامی حکومتوں کا نظام متعارف کروا کے انتخابات کرائے تو جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما نعمت اللہ خان کراچی میئر بن گئے۔ انہوں نے 2005 میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا، جس کے بعد ہونے والے الیکشن میں موجودہ پاک سر زمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال کراچی کے مئیر بن گئے۔ وہ فروری 2010 تک میئر کراچی رہے۔ 

2010 سے 2016 تک کراچی میں کمشنر نظام متعارف کروایا گیا، اور شہر کا انتظام کمشنر کراچی کو دیا گیا۔ 2016 تک ایڈمنسٹریٹر رکھے گئے۔ اس کے بعد 2018 کے انتخابات میں ایم کیو ایم کے وسیم اختر مئیر بن گئے، جو اگست 2020 تک عہدے پر رہے۔ تب سے اب تک کراچی کا انتظام ایڈمنسٹریٹر کے پاس ہے۔ 

عام طور پر گریڈ 20 یا اس سے زیادہ کے افسر کو کراچی کا ایڈمنسٹریٹر تعینات کیا جاتا ہے۔ 

سابق ایڈمنسٹریٹر کراچی فہیم الزمان خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ صوبے میں وزیر اعلیٰ چیف ایگزیکٹو ہوتے ہیں، اور یہ ان کی صوابدید ہے کہ وہ ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے کسی کو بھی کراچی کا ایڈمنسٹریٹر بنا سکتے ہیں۔ 

کراچی کی شہری حکومت کتنی بے اختیار ہے؟

فہیم الزمان خان کے مطابق: ’اب کوئی مجھے ایڈمنسٹریٹر بننے کی آفر کرے تو بھی میں کبھی یہ عہدہ نہ قبول نہ کروں، کیونکہ اب یہ عہدہ بے اختیار ہے۔ اب ایڈمنسٹریٹر کراچی کے پاس کئی شعبوں میں صرف کے ایم سی کے اختیارات ہیں، باق سب تو سندھ حکومت کے زیر انتظام ہیں۔‘ 

ان کا کہنا تھا کہ جب وہ ایڈمنسٹریٹر کراچی تھے، تب کراچی کی تمام ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشنز (ڈی ایم سیز)، کراچی میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی)، کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، کراچی ڈولپمنٹ اتھارٹی، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ، سالڈ ویسٹ مینیجمنٹ سمیت سارے شعبوں کا مکمل اختیار بلدیہ عظمیٰ کراچی کے میئر یا میئر نہ ہونے کی صورت میں ایڈمنسٹریٹر کے پاس ہوتے تھے، جو اب نہیں ہیں۔

کراچی ڈولپمنٹ اتھارٹی یا کے ڈی اے دو دیگر اتھارٹیز لیاری ڈولپمنٹ اتھارٹی اور ملیر ڈولپمنٹ اتھارٹی کے ساتھ کراچی شہر کے ترقیاتی کاموں کا ذمہ دار ادارہ ہے۔ 2011 سے پہلے یہ ادارہ شہری حکومت اور کراچی کے میئر کے زیرانتظام آتا تھا، مگر 2011 میں سندھ حکومت نے شہری حکومت سے انتظام لے کر صوبائی حکومت کے زیر انتظام کردیا۔ 

کراچی شہر سات اضلاع پر مشتعمل ہے، جن کی اپنی ڈسٹرکٹ میونسپل بنی ہوئی ہیں، یہ بھی میئر یا ایڈمنسٹریٹر کے زیر انتظام نہیں آتیں، بلکہ ان کے اپنے چیئرمین ہیں اور بجٹ بھی علیحدہ ہے۔ 

کراچی شہر کو پینے کا پانی فراہم کرنے اور نکاسی آب کا ذمہ دار ادارہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ 2001 میں میئر یا ایڈمنسٹریٹر کے ریز انتظام تھا، جسے سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2013 کے تحت علیحدہ کردیا گیا اور اب یہ ادارہ بھی میئر یا ایڈمنسٹریٹر کے ریز انتظام نہیں آتا۔ 

 ماضی کے ایک اور ادارے کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (کے بی سے اے) کو ختم کرکے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے زیرانتظام کردیا گیا ہے۔ 

اس کے علاوہ شہر سے کوڑا اٹھانے کے لیے سندھ سالڈ ویسٹ مینیجمنٹ بورڈ تشکیل دیا گیا، جو ایک خودمختایر ادارہ ہے اور یہ بھی میئر یا ایڈمنسٹریٹر کے ریز انتظام نہیں آتا۔ 

یہ سب ادارے تکنیکی طور پر ایڈمنسٹریٹر کے زیر انتظام نہیں آتے، ان اداروں کی اکثریت یا تو خودمختار ہے یا پھر صوبائی حکومت کے ماتحت ہے، اس لیے یہ سمجھا جاتا ہے کہ اگر مرتضی وہاب ایڈمنسٹریٹر کراچی بن جاتے ہیں تو صوبائی حکومت کے زیرانتظام آنے والے اداروں سے بھی کام لے سکیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان