ماضی میں سفر حج کے قافلے کیسے آیا کرتے تھے؟

قدیم زمانے میں سفر کی جدید سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے حج کا سفر مشقت کا ہوتا تھا۔ عازمین حج کو اپنی بستی سے مقدس مقامات تک پہنچنے میں مہینوں لگتے تھے۔

قدیم زمانے میں زائرین کو اونٹوں سے حج مقامات پر لانے لے جانے کا کام لیا جاتا تھا جو لوگ یہ انتظام کرتے تھے وہ المخرجون اور المقومون کہلاتے تھے(تصاویر: پبلک ڈومین)

کرونا کی وبا کے باعث رواں برس بھی سعودی عرب میں مقیم افراد کی ایک محدود تعداد کو حج کا فریضہ سر انجام دینے کی اجازت دی گئی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ گذشتہ کئی عشروں میں حاجیوں کو فراہم کی جانے والی ٹرانسپورٹ اور رہائش کی سہولتوں میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

لیکن یہ سوال اہم ہے کہ آج سے دہائیوں پہلے اور خصوصاً سو سال پہلے حاجی مناسک حج ادا کرنے کے لیے کون سے ذرائع آمد و رفت استعمال کرتے تھے۔

قدیم زمانے میں سفر کی جدید سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے حج کا سفر مشقت کا ہوتا تھا۔ عازمین حج کو اپنی بستی سے مقدس مقامات تک پہنچنے میں مہینوں لگتے تھے۔

العربیہ اردو کے مطابق بسوں کے جنرل سنڈیکیٹ کا کہنا ہے کہ سعودی ریاست کے قیام کے بعد ٹرانسپورٹ کے نئے وسائل حاجیوں کے سفر کے لیے متعارف ہوئے۔ 1924 میں سفر حج کے لیے اونٹوں کی جگہ گاڑیوں نے لی۔

 

قدیم زمانے میں زائرین کو اونٹوں سے حج مقامات پر لانے لے جانے کا کام لیا جاتا تھا جو لوگ یہ انتظام کرتے تھے وہ المخرجون اور المقومون کہلاتے تھے۔ المخرجون سامان چڑھانے، اتارنے اور حاجیوں کو اونٹوں پر بٹھانے، اتارنے کا کام کیا کرتے تھے۔ ان کا دائرہ کار مکہ تک محدود ہوتا تھا۔

ایک اور گروپ ہوتا تھا جو المقومون کہلاتا تھا۔ اس کی ذمے داری حاجیوں کو حج مقامات آنے جانے کے لیے سواری مہیا کرنے کی ہوتی تھی۔ یہ لوگ حاجیوں کے ساتھ جدہ اور مدینہ بھی جایا کرتے تھے۔ یہ نظام 1945 میں ختم ہو گیا۔

سعودی عرب میں ’اللوری‘ (لاری) کے نام سے حجاج کے لیے بس چلتی تھی۔ مملکت کے دیگر شہروں کی طرح مکہ مکرمہ، منی، مزدلفہ اور عرفات میں بھی حج ٹرانسپورٹ نے ترقی کا سفر بتدریج طے کیا ہے۔

بسوں کے جنرل سنڈیکیٹ کا کہنا ہے کہ گذشتہ عشروں کے دوران حج کے دنوں میں ٹرانسپورٹ سیکٹر نے بدتریج ترقی کی ہے۔

سعودی عرب نے پہلی بار 1948 میں بسوں کی جنرل سنڈیکیٹ قائم کی گئی۔ چار برس تک اس کا سلسلہ جاری رہا پھر مارچ 1953 میں شاہ عبدالعزیز نے بسوں کی جنرل سنڈیکیٹ ٹو کے قیام کا فرمان جاری کیا۔ اس کا انتظام ریڈیو اور حج ادارے کو دیا گیا جبکہ کی نگرانی کی ذمہ داری وزارت حج و عمرہ کو دی گئی۔

بسوں کا جنرل سنڈیکیٹ حج ٹرانسپورٹ پلان کے نفاذ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سنڈیکیٹ حاجیوں کی ٹرانسپورٹ کے لیے مختلف اقسام کی بسوں کا انتظام کرتا ہے۔

شروعات لاری سے کی گئی تھی جس سے سامان منتقل کیا جاتا تھا پھر سکول بسوں سے کام لیا جانے لگا۔ بیسویں صدی کے اواخر میں جدید طرز کی بسیں استعمال ہونے لگیں۔

سنڈیکیٹ نے حج ٹرانسپورٹ میں سرمایہ کاری کے دروازے کھولے ہیں۔ رواں سال 68 ٹرانسپورٹ کمپنیاں اور ادارے حج ٹرانسپورٹ میں حصہ لے رہے ہیں۔

اس ٹرانسپورٹ سنڈیکیٹ کے پاس 20 ہزار بسیں ہیں۔ سنڈیکیٹ نے نہ صرف یہ کہ جدید طرز کی بسوں کا اہتمام کیا ہے بلکہ حج ٹرانسپورٹ میں ای سسٹم کا عمل دخل بھی بڑھ چکا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ